عالمی یومِ خواتین اور ہم

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

1975 ء میں اقوامِ متحدہ نے عالمی یومِ خواتین آٹھ مارچ کو منانے کا اعلان کیا۔ اس سے پہلے جب آٹھ مارچ 1917 ء کو سوویت یونین میں عورتوں کو ووٹ کا حق ملا، تو یہ دن عورتوں کے دن کے طور پر منایا گیا اور دُنیا میں، جس ملک میں بھی سوشلسٹ تحریک موجود تھی، وہاں یہ دن منایا جانے لگا اور بالآخر اقوامِ متحدہ نے یہ دن عالمی یومِ خواتین کے نام کر دیا۔

امریکہ میں عورتوں کوووٹ کا حق 1920 ء میں ملا جب آئین میں انیسویں ترمیم متعارف کروائی گئی اور اس ترمیم کو سوسن بی اینتھونی کے نام پر ”اینتھونی ترمیم“ کا نام دیا گیا۔ ہم جب آج یہ دن مناتے ہیں تو اس کا سب سے بڑا مقصدان عورتوں کے سیاسی اور سماجی حقوق کے لئے اور بالخصوص ووٹ کا حق حاصل کرنے کے لئے کی گئی ایک لمبی جد و جہد کی کو خراجِ تحسین پیش کرنا ہے اور دوسرا اہم مقصدان عورتوں کے لئے آواز اٹھانا ہے، جنہیں اب بھی بنیادی انسانی حقوق حاصل نہیں اور ان پرمحض اس بنا پر ظلم کیا جاتا ہے یا ان سے امتیاز برتا جاتا ہے کہ وہ اس صنف سے تعلق رکھتی ہے۔

کون اس بات سے انکار کر سکتا ہے کہ انسانی تاریخ میں عورتوں پر ظلم کی داستانوں کی کئی مثالیں موجود ہیں۔ چین میں ’پابستگی‘ کی رسم تھی جس میں عورت کے پاؤں اس طرح باندھ کر رکھے جاتے تھے کہ وہ ٹوٹ جاتے اور بہت چھوٹے رہ جاتے اوروہ عورتیں ساری عمر بغیرسہارے کے چل نہیں سکتی تھیں، جس طرح ہندوستان میں سیتا کے لئے لگائی گئی لکشمن ریکھا کے ذریعے دہلیز کے استعارے کو استعمال کر کے عورتوں کو باہر کی دنیا سے دور رکھا گیا، بعینہٖ چین میں پاؤں باندھ کر عورت کی نقل و حرکت کو محدود کیا گیا۔

اسی طرح یورپ میں ہونے والے ’وِچ ٹرائلز‘ بھی انسانی تاریخ کا ایک بھیانک باب ہیں جہاں ایک بڑی تعداد میں عورتوں کو چڑیل قرار دے کر جلایا جاتا تھا۔ برصغیر میں ستی، جوہر، سوارہ، ونی، کاروکاری، حق بخشوائی یعنی قرآن سے شادی جیسی رسومات کے ساتھ ساتھ چولہوں کا پھٹنا کوئی پرانی بات نہیں۔ ان میں سے بہت سی رسومات اور قباحتیں اب بھی رائج ہیں، تیزاب گردی، عورتوں اور چھوٹی بچیوں سے زیادتی اور قتل، اغوا، غیرت اور بدلے کے نام پر قتل، گھریلو تشدد سب کچھ ہو رہا ہے اور یہی نہیں بلکہ عورتوں اور بچیوں کو تعلیم حاصل کرنے، اپنی مرضی کا شعبہ چننے، کام کرنے اور ووٹ دینے سے اب بھی روکا جاتا ہے۔

ہم شہروں میں رہنے والے بیشتر لوگ یہ نہیں جانتے ہوں گے کہ عورتوں کی بڑی تعداد شناختی کارڈ سے بھی محروم رکھی جاتی ہے۔ شناخت ہر انسان کا بنیادی حق ہے مگر عورت کو اس وجہ سے شناخت سے محروم رکھا جاتا ہے کہ اس کی پہچان اور نام بس مرد کے حوالے سے ہونا چاہیے۔

ہم میں سے بہت سے لوگ عورتوں کے حقوق کی تحریک کو مغرب کا ایجنڈا کہتے ہیں اور ظاہر ہے کہ اس میں کسی حدتک حقیقت بھی ہے کہ بہت سی اصطلاحات اور مسائل جو مغرب کی تحریک سے وابستہ ہیں، وہ ہمارے مسائل ہرگز نہیں۔

ہم عورتوں اور تیسری جنس کے ساتھ روا رکھے جانے والے مظالم کے خلاف آوازاس لئے نہیں اٹھاتے کہ یہ مغرب کا ایجنڈا ہے بلکہ ہم یہاں کی عورتوں کو درپیش مسائل کے خلاف بات کرتے اور احتجاج کرتے ہیں۔ یاد رہے کہ مغرب میں صنف پر نئے سے نئے مباحث کا آغاز ہو چکا ہے۔ پاکستان کی عورت کو اس بات کا ادراک ہے کہ اس کے لئے آزادی کا مطلب وہ نہیں جو مغرب والوں کے لئے ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ’کورپوریٹ‘ دنیا کے ایجنڈے کو بھی نہیں بھولنا چاہیے کہ جس کے کرتا دھرتا عورت کی آزادی کی بات بھی کرتے ہیں پراسی عورت کو ایک objectبنا کر بھی پیش کرتے ہیں۔

لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ عورت پر ظلم، جبر، زیادتی، بنیادی انسانی حقوق سے محرومی ہمارا مسئلہ ہی نہیں۔ خرابی وہاں آتی ہے جب ’عورت مارچ‘ جو ایک اچھی سرگرمی ہو سکتی ہے، کے نام پر بہت سے لوگ اپنے ڈرائنگ روم میں بیٹھ کر ایسے نعرے وضع کرتے ہیں جو ان کے خیال میں عورت کا مسئلہ ہیں۔

اس سے نقصان یہ ہوتا ہے کہ جو عورتیں ظلم کا شکار ہیں یا حقوق سے محروم ہیں، ان کے مسائل کہیں پیچھے رہ جاتے ہیں اور وہ لوگ جو ان عورتوں کو حقوق دینا ہی نہیں چاہتے، سہولت سے یہ کہنے لگتے ہیں کہ کیا تمہیں ایسی آزادی چاہیے؟ انہیں اس عورت سے کوئی غرض نہیں جس کی زندگی گھر کے کام کرنے کے ساتھ معاشرے میں اور گھر میں طرح طرح کے مظالم سہنے میں گزرتی ہے اور جس نے سکول کی شکل تک نہیں دیکھی ہوتی اور اسے تو اتنا علم بھی نہیں ہوتا کہ اپنی مرضی کرنا ہوتا کیا ہے یا اپنی رائے رکھنا کیوں ضروری ہے، اسے اس طرح کے نعروں سے کیا لینا دینا کہ اپنی چائے خود بناؤ اور اپنی جرابیں خود ڈھونڈو۔ یہ ایجنڈا تو اس محدود طبقے کا ہے جو اس ملک کا دو فیصد بھی نہیں، جسے اور کوئی کام نہیں سو اس طرح کے مسئلوں کو کام سمجھ کر اپنی مصروفیت بنا لیتا ہے اور جو عورت حقیقت میں مسائل کا شکار ہے اور اپنے حقوق ڈھونڈ رہی ہے، وہ یوں نظر انداز ہو کر ایک اور طرح کے ظلم کا شکار ہو جاتی ہے۔

اس ملک نے ماؤنٹ ایورسٹ سر کرنے والی ثمینہ بیگ جیسی کیسی کیسی باکمال عورتیں دیکھی ہیں جنہوں نے ذاتی اور سماجی و سیاسی جدو جہد میں اور دیگر شعبوں میں نام کمایا۔ پر انہیں اس جرات کی سزا بھی ملی۔ عورت کا سیاسی اختیار بہت اہم بات ہے۔ آدھی آبادی کی آواز ہی اگر قانون سازی میں شامل نہیں ہو گی، یا عورتوں کو اہم انتظامی عہدوں اور فیصلہ سازی کے عمل سے دور رکھا جائے گا، تو مسائل کبھی حل نہیں ہوں گے۔ ابھی وفاقی کابینہ اور صوبائی وزراء کی فہرست دیکھ لیں اور جان لیں کہ عورت کو ہم کتنی نمائندگی دیتے ہیں۔

اس وقت کے پی کے اور بلوچستان میں ایک عورت بھی وزیر نہیں۔ پنجاب میں دو یعنی آشفہ ریاض اور یاسمین راشد، سندھ میں دو یعنی ڈاکٹر عذرا اور سیدہ شہلا رضا اور وفاق میں بھی صرف تین عورتیں یعنی شیریں مزاری، زبیدہ جلال اور فہمیدہ مرزا وزیر ہیں۔ ان میں سے ایک وزارت کے علاوہ سب وومن منسٹری اور وزارتِ صحت سے وابستہ ہیں۔ یہ بھی طے کر لیا گیا ہے کہ ان دو شعبوں کے سوا عورت کا کہیں کوئی کام نہیں۔

اس سے بڑا ظلم یہ ہوا کہ یومِ خواتین کے موقع پر پی ٹی آئی حکومت نے اپنے ایک اشتہار سے بے نظیر بھٹو کا نام نکال دیا۔ اب اسے حکومت کی تنگ نظری نہ کہاجائے تو کیا کہا جائے۔ انہیں سوچنا چاہیے کہ وہ ایسے عمل سے بے نظیر کی جمہوریت کے لئے جدو جہد، اسلامی ممالک میں پہلی وزیرِ اعظم ہو نے اور پاکستان کی دو بار وزیرِ اعظم بننے کا اعزازتو نہیں چھین سکتے۔

اس پدرسری معاشرے کی عکاس یہ حکومت تو اس بات پر بھی طنز کر گئی کہ بے نظیر کے بچے اپنے نام میں اپنی ماں کا حوالہ کیوں لائے ہیں۔ بیگم کلثوم نواز کی بیماری کا مذاق اڑایا گیا، مگرکیا ان سے ایک ڈکٹیٹر کے سامنے ڈٹ کر کھڑے ہونے کا اعزاز بھی چھین لیا گیا۔

اسی طرح سیاسی جدو جہد کے حوالے سے کیسے کیسے نام ہمارے پاس موجود ہیں۔ ہم محترمہ فاطمہ جناح کو کیسے بھول سکتے ہیں جنھوں نے ایک ڈکٹیٹر کے مقابلے میں انتخابات لڑنے کی پاداش میں غداری کا تمغہ حاصل کیا۔ یعنی جو عورتیں جہاں بھی با اختیار ہوتی دکھائی دیں، پہلے انہیں جبر اور دھمکیوں سے منظر سے ہٹانے کی کوشش کی گئی، لیکن جب ایسا ممکن نہ ہوا تو ان پرطرح طرح کے الزامات لگائے گئے۔ تو کیا یہ اس معاشرے کی عورت کے مسائل نہیں ہیں؟

بشکریہ روزنامہ پاکستان

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
ڈاکٹر عنبرین صلاح الدین کی دیگر تحریریں
ڈاکٹر عنبرین صلاح الدین کی دیگر تحریریں