نعیم کی اپنے دادا سے پہلی ملاقات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  • 48
  •  

نعیم کو شروع سے ہی ہسپتال جانے میں ایک انجانا خوف محسوس ہوتا تھا۔ کبھی کسی بیماری یا مجبوری کے تحت جانا بھی پڑ جاتا تو وہاں سارا وقت انتہائی اضطراب کی حالت میں گزرتا۔ سردیوں کا موسم دم توڑ رہا تھا اور بہار کی آمد آمد تھی۔ انہی دنوں کی بات ہے جب نعیم کو اپنے دادا جی کے ساتھ ہسپتال کی ہوا کھانی پڑی اور اُن کی تیماداری کے لئے کچھ دن ہسپتال میں رکنا پڑا۔ اُس کے دادا جی کی عمر تقریبا نوے برس کے قریب تھی انتہائی ضعیف ہونے کی وجہ سے جسم کے کا ماس ڈھیلا اور لٹک چکا تھا اور ایک عجیب بڑھاپے کی باس دیتا تھا۔

اسی دوران نعیم کو اُنھیں قریب سے جاننے کا موقع ملا کیوں کہ نعیم نے خود کبھی اپنے بزرگوں کے پاس بیٹھنے یا اُن سے کوئی بات چیت کرنے کی زحمت گوارا نہیں کی تھی۔ اُس کے دل میں اپنے بزرگوں کے لئے عزت اور احترام اپنی جگہ مگر وہ سوچتا تھا کے یار یہ کسان ٹائپ اور ان پڑھ لوگ ہیں ان کے پاس بیٹھ کے بندہ کیا بات کرے۔

اس سے پہلے وہ اکثر اپنے ایک ماموں کے پاس بیٹھا کرتا جو کچھ پڑھے لکھے تھے اور انجیل کا مطالعہ بڑے شوق سے کرتے تھے۔ وہ اُن کے ساتھ مختلف مذاہب کے تقابلی جائزے (comparative study of religions) پر بہت سی باتیں کرتا اُلٹے سیدھے سوالات پوچھنے پر اُسے اکثر ڈانٹ بھی پڑ جاتی کے تُم بہت بیوقوف ہو۔ وہ اس ڈانٹ پر مسکراتا اور خوش ہوتا۔

ایک دن ہسپتال میں دادا جی کے پاس بیٹھے یوں ہی وقت گزارنے کی خاطر نعیم نے اُن سے بات شروع کر دی اورتاریخ میں اپنی معمولی دلچسپی کی وجہ سے اُن سے پارٹیشن 1947 کے بارے میں پوچھنے لگا کہ پارٹیشن کے وقت تو آپ جوان ہوں گے؟ آپ کے گاؤں میں سکھ ہندو وغیرہ بھی رہتے ہوں گے؟

بس پھر کیا تھا اُس کے دادا جی کا انجن ایسا سٹارٹ ہوا کے نعیم کی آنکھیں حیرت سے کھلی رہ گئیں۔ اُنھوں نے نعیم کو پارٹیشن سے پہلے کے ماحول کے بارے میں بہت سی باتیں بتائیں کہ کیسے ہندو، مسلمان، سکھ اور عیسائی آپس میں اتحاد سے رہتے ایک دوسرے کے غم اور خوشی میں شریک ہوتے۔ پھر ہجرت کے وقت جو قیامت برپا ہوئی اُس میں کیسے وہ سب بھائی چارہ درہم برہم ہو گیا۔

پھر باتوں ہی باتوں میں دوسری جنگ عظیم کا ذکر ہوا تو اُنھوں نے نعیم کو بتایا کے وہ تب دس سال کے تھے۔ برطانوی دور حکومت میں ہندوستان سے مقامی لوگوں کو کیسے لالچ دے کر یا زبردستی یہاں سے جنگ میں لڑنے کے لئے لیجایا جاتا تھا۔ اور وہ یورپ کے مختلف ملکوں میں جرمن فوجیوں کے خلاف لڑتے۔ پارٹیشن اور جنگ ویسے بھی نعیم کا پسندیدہ موضوع تھا لہذا وہ بڑے انہماک سے یہ ساری باتیں سن رہا تھا اور مسکرا رہا تھا۔ باتوں کے دوران جب اُس کے داد نے ہٹلر کا ذکر کیا اور کہا کے ہٹلر بڑا ہی شاطر آدمی تھا تو نعیم بے اختیار ہنسنے لگا۔

نعیم کے لئے ایک اور انکشاف حیرت انگیز تھا جب اُس کے دادا جی نے بتایا کے اُن کا ایک رشتے دار بھی برطانوی فوج میں بھرتی ہو کر جنگ میں لڑنے گیا تھا اور وہی یورپ کے کسی شہر میں گولی لگنے سے شہید ہوا تھا۔ پھر اُداسی سے بولے ”زندگی دا سورج ڈوبدیا کی پتہ لگدا اے“ زندگی کا سورج ڈھلتے دیر نہیں لگتی۔

اس مختصر سی گفتگو کے بعد نعیم کی آنکھوں میں عزت و احترام کے ساتھ ساتھ بزرگوں کے لئے ایک الگ چمک اور عقیدت بھی آ گئی تھی۔ اُس نے اپنی سوچ اور رائے کا رُخ تبدیل کر لیا کے ہمارے بزرگ چاہے ان پڑھ ہی کیوں نا ہو مگرجاہل اور بیوقوف نہیں ہوتے زندگی کے اُتار چڑھاؤ اور اپنے اردگرد ہونے والے واقعات کا اُنھیں پورا علم ہوتا ہے۔

اپنے بزرگوں کو وقت دینے اُن کے پاس بیٹھنے سے وہ خوش ہوتے ہیں اُنھیں سکون ملتا ہے اور ہمیں سیکھنے کو بھی بہت کچھ ملتا ہے۔

کچھ دن علاج کروانے کے بعد اُس کے دادا جی اپنے آبائی گاؤں واپس چلے گئے مگر چند دن ہی گزرے تو اُن کے فوت ہونے کی خبر نعیم کے گھر پہنچی اور اگلے دن شام کے وقت نعیم نے اُنھیں کفن میں لپٹا دیکھا اور جب اُن کی مَیَّت کو قبر میں اُتارا جا رہا تھا تو نعیم کو اُن کا کہا وہ جملہ یاد آیا کہ ”زندگی کا سورج ڈھلتے دیر نہیں لگتی۔ “

دور سر سبز کھیتوں میں درختوں کے پیچھے سورج آہستہ آہستہ ڈھل رہا تھا اور تاریکی چھا رہی تھی۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  • 48
  •  

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں