قصور وار صرف مرد نہیں، عورت بھی برابر کی حصے دار ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

زبان کے لفظوں کے بارے مخلتف کہاوتیں مشہور ہیں، جیسے تلوار سے تیز زبان، زبان کا لفظ کی واپسی نہیں، تیرا واپس وغیرہ، وغیرہ۔ اس سرمایہ دار معاشرے نے اس تکنیک کو بہت بہترین طریقے سے استعمال کر کے اپنے گاہکوں کو متوجہ کیا ہے۔ انہیں الفاظ کی بنا پر اب سیاسی قوتوں نے ایک دوسرے پہ گانے گا کے بہت جذباتی لوگوں کے دل موہ لیے ہیں۔ سنا ہے بدترین جرم جذبات سے کھیلنا ہوتا ہے۔ افسوسناک حد تک یہ کھیل ہمارے معاشرے میں ہر جگہ، طبقہ، رشتہ کھیل رہا ہے۔

خصوصی طور پہ یہ کھیل ایسے معاشرے میں کھیلا جاتا ہے، جہاں حکمران، عوام دونوں شدید عدم تحفظ کا شکار ہوں۔ اسی شدید عدم تحفظ کی بنیاد پہ کچھ مظاہرے دیکھنے میں ملے۔ اگر نعروں کے الفاظ حذف کر کے ان کے مقصد اور بات کو سنا جائے تو حد تک درست نظر آئیں گے۔ ہمارے ہاں سب جنگ وجدل، پرفارمنس کمیوٹر کے الجبرے کی طرح اب نمبر گیم رہ گئی ہے، اب ہم نے انسانی زبان میں اسے الفاظ کی حد تک رہنے دیا ہے۔ ہم روٹی اور جنسی ضرورت کے علاوہ تمام کام الفاظ سے کر لیتے ہیں، چند الفاظ تو بہت اعلی ہیں جیسے حکومتی اراکین کے لیے کڑوی گولی، پرانی حکومت کو گالی اپنی پردہ پوشی۔

ایسے کچھ لوگ خواتین کو اپنا چورن بیچنے کے لیے بہن کا لفظ ادا کرنے کا ہنر جانتے ہیں، جو ہمارے معاشرے میں پانی کے بعد سب سے زیادہ استعمال ہوتا ہے، افسوس کے ساتھ کوالٹی کے لحاظ سے یہ بھی پاکستانی پینے والے پانی کی طرح گندے ہیں۔ جیسے سوری ہمارے معاشرے میں جان چھڑانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، ترقی یافتہ ممالک میں معافی رشتوں کو بچانے کے لیے، غلطی سدھارنے کے مانگی جاتی ہے۔ اسی طرح ہماری خواتین ہمیشہ ایسے مرد حضرات پہ آنکھیں بند کر کے یقین کر لیتی ہیں، جو بہن، ماں جی کہنے کی ایکٹنگ اچھے طریقے سے کر لیتا ہے۔

ایسے بہن بھائی کی مثال، بغل میں چھری منہ میں رام رام کی ہے۔ خواتین کو میڈم، مس کہہ کے مخاطب کریں، تو اس کے بعد رد عمل انتہائی سہما خوفناک سا ہوتا ہے۔ وہ اپنے آپ کو اتنا محفوظ نہیں سمجھتیں۔ جتنا مطمئن، وہ بہن کے لفظ میں ہوتی ہیں۔ معاشرتی لحاظ سے ہمارے لیے بیک وقت عورت عزت اور مال (معذرت ایسے لفظ کے لیے ) دونوں ہوتی ہے۔ اس میں عزت اور مال کے بشری رشتوں کی تفصیل تقریبا ہم سب جانتے ہیں۔

ہمارے ہاں سب سے برا اور بڑا ہتھیار کمرشل لفظ بھائی اور بہن کا ہے، جسے ہم بے دریغ استعمال کرکے تمام اخلاقی حدوں کو پار کرتے ہیں۔ حیرت کی بات ہے، جب اخلاقیات کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہوتی ہیں۔ اسوقت کوئی بھی یہ نہیں سوچتا یہ رشتہ کون سے لفظ سے شروع ہوا تھا۔ اب تو یہ بھائی بہن کا لفظ باقاعدہ طور پہ شکاری حضرات استعمال کرتے ہیں۔ یونیورسٹیز میں عام طور پہ بہت آسان سادہ طریقہ اپنایا جاتا ہے۔ ایک لڑکی کو بہن یا بہن جیسی دوست بنا کے باقی تمام لڑکیوں پہ ڈورے ڈالے جاتے ہیں۔

یہ ڈورے کی مضبوطی اسی کہی گئی بہن کی وساطت سے ہوتی ہے۔ اس بات پہ ضرور زور دیا جاتا ہے، کہ عورت کو مضبوط کیا جائے، عورت کو آزاد کیا جائے، عورت تو اب سب کچھ کرتی ہے، بیرون ممالک میں مخلوط قطاریں بھی بنتی ہیں۔ ہمارے معاشرے کی طرح الگ الگ انتظامات نہیں کیے جاتے۔ ہماری معصوم عورتیں آزاد، مضبوط ہونے کے اس میں کچھ مخصوص قسم کے معاشرتی عوامل بھی کارفرما ہوتے ہیں۔ ہمارے ہاں شادی کے بعد عورت جنسی عمل سے صرف اس لیے گزرتی ہے، تا کہ وہ بچہ پیدا کرکے خاوند اور سسرال والوں کے گھر میں پکی ہو جائے، اس وقت اطاعت زباں بندی ایسے ہوتی ہے، جیسے کچا سرکاری ملازم پکے ہونے سے پہلے ہوتا ہے۔

ہمارے ہاں اکثر بچے بڑے ہونے پہ میاں بیوی، الگ کمروں میں رہنا شروع کردیتے ہیں۔ اس علیحدگی سے رشتے میں خلش، دوری بڑھنی شروع ہو جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے ہمارے شادی شدہ مرد حضرات دوسری عورتوں کے پیچھے اپنی فریسٹریشن نکالتے نظر آتے ہیں۔ ہمارے ہاں فریسٹریشن کا یہ عالم ہے۔ مرید عورت ہے تب بھی پیر صاحب سے محفوظ نہیں اور اگر پیر عورت ہے تب بھی خیر نہیں۔

شادی شدہ خواتین بچوں کے بعد، پرس میں چھوٹا قرآن مجید، تسبیح مستقل بنیادوں پہ رکھتی ہیں۔ ہمارے ہاں عورت آخرت کی تیاری تیس سال کی عمر سے شروع کر دیتی ہے، پینتیس سال کے بعد گفٹ پیک میں جان باندھ کے عزرائیل کا انتظار شروع کردیتی ہے۔ اگر غلطی سے خاوند ہنس بھی دے تو سرعام کہتی ہیں، اب قبر یاد کرو، تمہاری ابھی تک حرکتیں درست نہیں ہوئی۔ اس کے برعکس یورپ میں شادی شدہ جوڑے ایک کمرے میں ساتھ رہتے ہیں، کوئی کمونیکیشن گیپ نہیں ہوتا۔

ان کی محبت میں کمی نہیں آتی۔ یورپ میں بھی مذہب، عبادت ہے۔ ہمارے معاشرے کی عورت شادی کے پہلے دن سے ایک غیر یقینی کیفیت، عدم تحفظ کا شکار ہوتی ہے، جو بچہ پیدا کرنے کے بعد اتنی شدت سے ریورس اثر کر کے خوبصورت رشتوں کی پامالی کا سبب بن جاتا ہے۔ ہمارے ہاں جوڑے بزرگ ہونے کے بعد ایک دوسرے سے بدلہ لیتے دکھائی دیتے ہیں۔ ایسے بدلوں میں اولاد بھی ذلیل ہوتی نظر آتی ہے قصور وار صرف مرد نہیں۔ اس میں معاشرہ، عورت برابر کی حصہ دار ہے.

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •