لوگ مسلمان کیوں ہوں گے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہمارے علاقے کے ہائی سکول کا ہیڈ ماسٹر مسیحی تھا۔ اسلام سے شدید نفرت کرتا تھا۔ سکول میں بچوں پر تشدد کرتا۔ بچوں کے ساتھ ساتھ سب اساتذہ بھی اس سے نالاں تھے۔ اس کا کھانا پینا سب کچھ دوسرے اساتذہ سے الگ ہوتا تھا۔ ایک دن کچھ اساتذہ کی غیرت اسلامی نے جوش مارا اور انہوں نے ہیڈ ماسٹر کو اسلام کی دعوت دینے کا فیصلہ کیا۔ سب اساتذہ مل کر ہیڈ ماسٹر کے پاس گئے اور بڑے اخلاق سے انہیں اسلام کی دعوت دی۔

ہیڈ ماسٹر نے بڑے ادب سے سب اساتذہ کی بات سنی اور بڑی نرمی سے کہا میں مسلمان ہونے کے لِئے تیار ہوں۔ سب اساتذہ کے چہرے کھل اٹھے۔ لیکن میرا ایک سوال ہے ہیڈ ماسٹر کی آواز ابھری۔ سب اساتذہ نے غور سے ہیڈ ماسٹر کی طرف دیکھا۔ پھر جو بات ہیڈ ماسٹر نے کی جو سوال انھوں نے پوچھا وہ آج بھی مجھے چبھتا ہے۔ ہیڈ ماسٹر نے سب اساتذہ کی طرف دیکھا اور کہا میں مسلمان ہونے کے لئے تیار ہوں لیکن مجھے یہ بتایا جائے میں کون سا مسلمان بنوں؟ سب اساتذہ ایک دوسرے کا منہ دیکھنے لگے اور یکے بعد دیگرے اٹھ کر چلے گئے۔

میں آج بھی سوچتا ہوں کہ کوئی کافر بڑی سے بڑی سازش سے بھی اسلام کو اتنا نقصان نہ پہنچا پایا ہو گا جتنا ہم نے اپنے کردار سے اپنی عادات سے اسلام کو نقصان پہنچایا ہے۔

ہمارے کچھ مفتیوں نے آئے روز نئے نئے فتوے گھڑ کے اسلام کو ایک بہت مشکل اور تنگ نظر دین بنا دیا ہے۔ جب سے یہ کافر، مشرک والا کھیل شروع ہوا ہے۔ اسلام کو بہت نقصان پہنچا ہے۔ محبت ہمارے دلوں سے ختم ہوتی جا رہی ہے۔ مسجد کے ممبر پر بیٹھ کر بھی لوگ نفرت پھیلانے سے باز نہیں آتے۔ ایک ایک محلے میں چار چار مسجدیں بنی ہوئیں ہیں۔ سمجھ نہیں آتی کہ بندہ کس میں جائے اور کس میں نہ جائے۔ ایک مسجد میں جائیں گے تو ہم دوسرے لوگوں کے لئے غلط العقیدہ اور کافر قرار پائیں گے۔ دوسری میں جائیں گے تو پہلے والے ہمارے خلاف ہو جائیں گے۔ آج کل ہمارے مفتی غیرمسلموں کو اتنا کافر نہیں کہتے جتنا وہ مخالف فرقہ والوں کو کہتے ہیں۔ وہ غیر مسلم کو تو گلے لگا لیتے ہیں لیکن وہ مخالف فرقے والے کا سلام لینا بھی گوارہ نہیں کرتے۔

اسلام کو اگر مفتیوں کی زندگی سے ہٹ کر عام لوگوں کی زندگی میں دیکھا جائے تو پھر بھی بہت مایوسی ہوتی ہے۔ اسلام ہماری زندگی میں ایک کلمہ سے زیادہ نہیں ہے۔ ہم لوگ خدا کو تو ایک مانتے ہیں لیکن خدا کی ایک نہیں مانتے۔ اسلام کہتا ہے کہ اپنے لین دین کے معاملات میں ایمان داری سے کام لیں۔ لیکن ہمارا کاروباری طبقہ مختلف ہتھکنڈے اپنا کر دوسروں کا استحصال کرتا ہے۔ ایک پاکستانی کا واقعہ آپ سے بیان کرتا ہوں۔ ایک پاکستانی برطانیہ میں جا مقیم ہوا۔

ایک دن اسے شہد کی ضرورت پڑی تو وہ ایک سٹور پہ گیا۔ اور جا کر دکاندار سے کہا کہ مجھے خالص شہد چاہیے۔ اتنا سننا تھا کہ دکاندار غصے میں آ گیا اور بولا میری دکان سے باہر نکل جاؤ یہ پاکستان نہیں ہے۔ اصل میں اس گورے کو غصہ اس بات کا تھا کہ اسے شک بھی کیوں گزرا کے ہماری دکان پر ناخالص چیز بھی دستیاب ہوگی۔ جبکہ ہمارے ہاں دکانوں پر واضح الفاظ میں لکھا ہوتا ہے کہ ہمارے ہاں چھوٹا بڑا خالص شہد دستیاب ہے۔ یہ پڑھ کر بندے کو یقین ہو جاتا ہے کہ اگرچہ ان کے پاس خالص شہد موجود ہے لیکن ہمیں ملاوٹ زدہ ہی ملے گا۔

مغربی اقوام کو جن کو ہم گھٹیا اور اخلاقی طور پر پسماندہ سمجھتے ہیں۔ دراصل ان میں ہم سے زیادہ اچھی باتیں ہیں۔ اسلام کہتا ہے کہ صفائی نصف ایمان ہے یورپی ملکوں میں اگر دیکھا جائے تو صفائی کا بہت بہتر خیال رکھا جاتا ہے۔ لیکن ہمارے ہاں جگہ جگہ گندگی کے ڈھیر نظر آتے ہیں۔ انہوں نے صفائی کرکے اپنا آدھا ایمان تو محفوظ کیا ہوا ہے جبکہ ہم آدھے مسلمان بھی نہیں ہیں۔ اگر مستحق لوگوں کو یا معذور لوگوں کی فلاح و بہبود کا ذکر کیا جائے تو وہ بھی یورپی ملکوں میں ہم سے بہت بہتر ہے جب کہ اسلام کے نام پر بننے والی فلاحی ریاست میں کسی کو اس کا جائز حق ملنا بھی بہت مشکل ہے۔ حضرت عمرؓ نے کہا تھا کہ اگر فرات کے کنارے کوئی کتا بھی بھوکا مر گیا تو اس کا جواب عمرؓ دے گا۔ لیکن یہاں پاکستان میں اسمبلی کے سامنے لوگ حالات سے تنگ آ کے خود کشی کر لیتے ہیں اور ہم پھر بھی کہتے ہیں ہم اسلامی ریاست میں رہتے ہیں۔

قانون کی حکمرانی اسلام کا ایک بنیادی پہلو ہے جو معاشرے میں انصاف قائم کرتا ہے۔ یورپی ملکوں میں اگر دیکھا جائے تو ان کے ہاں قانون کی پاسداری ہوتی ہے۔ لوگ قانون کا احترام کرتے ہیں۔ لیکن پاکستان میں قانون تو کیا طاقتور طبقہ آئین کو بھی جوتے کی نوک پر رکھ لیتا ہے ہماری عدالتوں کا یہ حال رہا ہے کہ ان میں ایک فون کال پہ فیصلہ سنانے والے ججز تعینات رہے ہیں۔ اسلام میں قانون کی پاسداری دیکھنی ہو تو حضرت علیؓ کا واقعہ دیکھنا چاہیے حضرت علیؓ پر ایک یہودی نے مقدمہ کیا اور حضرت علیؓ نے مقدمے کا سامنا کیا اور قاضی نے حضرت علیؓ کے خلاف فیصلہ دے دیا حضرت علؓی نے فیصلہ تسلیم کیا اور چپ چاپ چلے گئے قانون کی یہ بالادستی، انصاف اور احترام دیکھ کر مقدمہ کرنے والا یہودی ایک مسلمان کے کردار سے متاثر ہو کر مسلمان ہو گیا۔ جبکہ ہمارے ہاں ججوں کو ڈرایا جاتا ہے دھمکایا جاتا ہے اور اپنی مرضی کا فیصلہ لے لیا جاتا ہے۔ اگر فیصلہ خلاف آجائے تو عدالتوں پر تنقید کرتے ہیں

جب ہم سب کا کردار اس طرح اسلام کے خلاف ہو گا۔ تو غیر مسلم کس طرح ہمارے کردار سے متاثر ہو کر اسلام قبول کریں گے جب ہمارا کردار ایک مسلمان کو صحیح مسلمان نہیں بنا سکتا تو غیر مسلم لوگ ہمارے کردار سے متاثر ہو کر مسلمان کے ہوں گے۔

کسی کو زبردستی مسلمان بنانا اسلام منع کرتا ہے۔ تو پھر ہمیں چاہیے کہ ہم دنیا کو تلوار سے نہیں کردار سے فتح کریں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •