جھوٹ اورحکمرانوں کے مفادات پر مبنی تاریخ اور عوام کی حالت زار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  • 61
  •  
  •  

ہمارے معاشرے کی پسماندگی، پستی اوربربادی کے عوامل زیادہ ہوں گے لیکن جھوٹ ا اورحکمرانوں کے مفادت پر مبنی تاریخ کا کردار سب سے زیادہ ہوگا۔ انسانی ذہن رب کائنات کا ایسا شاہکار ہے کہ اس کو کسی طرح بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ مثبت بھی اور منفی بھی اورجس راستے پراس کی پرورش انسان کرتا ہے اسی راستے پر یہ انتہا تک پہنچتاہے۔ انسانی فطرت اورعقل دومختلف چیزیں ہیں۔ انسانی عقل اکثر فطرت کے مخالفت میں چلنے پر بضد ہوتی ہے۔

تاریخ پر نظر دوڑائیں تومعلوم ہوتا ہے فطرت انسان کو اجتماعیت کی طرف کھینچتا ہے جبکہ عقل انفرادیت کی طرف۔ عقل انسان کو (میں ) سے نکالنے نہیں دیتا ہے۔ جس کی وجہ سے ہر دور کے چالاک اورعقل مند لوگ اپنی ذات کی اسائشوں، عیاشیوں اوربرتری کے لئے محنت کشوں کی محنت کا استحصال کرتے ہیں۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ محنت کش بھی تو انسان ہوتے ہیں ان کا استحصال آخر کب تک اور کس حد تک ممکن ہوسکتا ہے اس کے لئے حکمران اور اسائش پسند طبقہ نے مل کر بڑی چالاکی سے تاریخ اورتعلیمات کو اس طرح بنایا کہ جس میں محنت کشوں کو ماضی جاندار اور مستقبل شاندار دکھا کر مطمئن کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

حکمران اور آسائش پسند طبقہ اقلیت میں ہونے کی وجہ سے بزور طاقت زیادہ دیر تک محنت کشوں پرحکمرانی نہیں کرسکتے اس کے لئے تاریخ ہمیشہ حکمران طبقہ کی پسند کی لکھی گئی ہے۔ لیکن ہر دور میں ایسے بھی لوگ ہوتے ہیں جو حکمران طبقے کی اس مکاری، استحصال اورمفادات کو سمجھتے ہیں اوروہ بھی تاریخ لکھتے ہیں گو کہ وہ ہر دور میں حکمرانوں کے جبر، تشدد کا سامنا کرتے ہوئے پائے جاتے ہیں۔ جھوٹ پر مبنی تاریخ کے ساتھ حکمرانوں و مذہبی پیشواوں کی بنائی ہوئی مذہب کوبھی اپنے مفادات کے لئے استعمال کرتے ہیں۔

مذہب، عقیدت عوام کو مشغول رکھنے اوران کا استحصال کرنے کے لئے آج تک سب سے زیادہ کارگر نسخہ ثابت ہوا ہے۔ غیر طبقاتی سماج سے طبقاتی سماج تک کا سفر جب انسانی شعور بھی کم تھا، وسائل زیادہ اور آبادی کم تھی توانسانی زندگی خوشحال تھی۔ آج بھی اگر تمام ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جائے تووسائل و پیداوار انسانوں کی ضروریات سے زیادہ ہوسکتے ہیں۔ لیکن حکمرانو ں کی لالچ، مفادات اورآسائشی زندگی کی خواہشات نے وسائل کو چند لوگوں تک محدود کردئے ہیں۔

عوام کی اکثریت محنت کے باوجود تنگ دستی، پریشانی اور تکلیف میں ہوتے ہیں۔ حکمران میڈیا پر اربوں روپے خرچ کرتے ہیں جو تاریخ کو مسخ کرکے حکمرانوں کی مفادات کے مطابق تاریخی کہانیاں بناتے ہیں۔ جھوٹ، نفرت اورحکمرانوں کی تعریف پر مبنی تعلیمی نصاب بھی عوام کو اپنے حقوق سے غافل رکھتے ہیں۔ حکمرانوں کا سب سے بہتیرین ہتھیار تاریخ، تعلیمی نصاب اورمیڈیا کے بعدمذہب ہے جس پر عوام کو مشغل کر کے ان کی محنت کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔

انسانی تاریخ میں ایسے بہت کم حکمران گزرے ہیں جنہوں نے عوام کی خوشحالی اور ترقی کے لئے حکمرانی کی ہوگی۔ ہماری سماج کا جائزہ لیا جائے تو میڈیا، جھوٹی تاریخ اورمذہب سب سے زیادہ عوام کی تباہی، پسماندگی اورحکمران طبقہ کی عیاشی کا سبب بنی ہے۔ عوام حکمرانوں سے اپنے حقوق حاصل کرنے کی بجائے آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ الجھے ہوتے ہیں اور جب بہت زیادہ بے بس ہوجائیں توآسمان کی طرف دیکھتے ہیں۔ مذہب اور جھوٹی تاریخ کے خوف اور عقیدت کی وجہ سے کبھی بھی حکمرانوں کے خلاف اپنے حقوق کے لئے متحد نہیں ہوتے۔

حکمران طبقہ نے عوام کو کنٹرول کرنے کے لئے ایک اضافی ہتھیار بھی تیارکئے ہیں جو ہوتے تو عوام میں سے ہیں لیکن حکمران طبقہ کی چاپلوسی، مخبری کے عوض ان کو بھی بغیر محنت مراعات ملتی ہیں۔ یہی طبقہ جس کو ٹاوٹس، خوشامدی اورمراعات یافتہ طبقہ بھی کہتے ہیں عوام کی بغاوت اور جدوجھد کو اکثر کچلتے رہتے ہیں۔ اور عوام کو اپنے حقوق کے لئے بیدارکرنے والوں کے خلاف حکمرانوں کی مخبری کرکے قتل کرواتے ہیں یا تشدد کرکے خاموش کروادیتے ہیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  • 61
  •  
  •