ذرا اس تصویر کو غور سے دیکھیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  • 19
  •  

سب سے پہلے آپ کا وقت نکال کر اس مضمون کو پڑھنا شروع کرنے کا بہت شکریہ۔ اب آپ ذرا نیچے والی تصویر پر بنے اس چھوٹے سے نقطہ کو دیکھیں جس کو ایک پیلے دائرے کے اندر ہائی لائٹ کیا گیا ہے۔ غور سے دیکھیں اسے۔ پتا ہے یہ کیا ہے؟ یہ ہمارا گھر ہے۔ اس کائنات کے اندر ہمارا چھوٹا سا گھر۔ ۔ ”ہماری زمین“۔ وہ جگہ جہاں آپ رہتے ہیں، میں رہتا ہوں، ہمارے رشتہ دار، دوست، احباب رہتے ہیں۔ وہ تمام بھی جن سے ہم پیار کرتے ہیں اور وہ بھی جن سے ہم اختلاف رکھتے ہیں۔ وہ جگہ جہاں ہم مسکراتے ہیں، روتے ہیں، اداس ہوتے ہیں، جیتے ہیں، مرتے ہیں۔ جہاں کوئی بہت امیر ہے تو کوئی بہت غریب، بہت طاقت ور، بدمعاش قسم کے لوگ بھی موجود تو بہت سادہ، شریف اور بے بس و مجبور لوگ بھی۔

سال 1977 میں ناسا نے خلائی جہاز ”وائجرون“ روانہ کیا جس کا کام نظام شمسی کے بیرونی سیاروں کا مشاہدہ کرنا تھا۔ پہلے خیال یہ تھا کہ سال 1980 میں زحل کے مشاہدے کے بعد مشن ختم ہوجائے گا۔ لیکن مشہور مصنف اور سائینس دان ”کارل ساگان“ کی تجویز پر اس کے مشن کو جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔ جب یہ جہاز زحل کا مشاہدہ کرنے کے بعد آگے بڑھنے والا تھا تو کارل ساگان نے ایک اور تجویز پیش کی کہ جہاز کے کیمرے سے زمین کی ایک الوداعی تصویر لی جائے۔ چونکہ اتنے طویل فاصلے سے لی گئی تصویر کا کوئی سائینسی فایدہ نہیں تھا اس لیے اس کی مخالفت ہوئی۔ تاہم بعد میں اسے ایک یاد گار کے طور پرتصویر لینے کا فیصلہ کیا گیا۔

یہ تصویر سال 1990 میں لی گئی جب جہاز زمیں سے 6 ارب کلومیٹر کی دوری پر تھا۔ تصویر میں کرہ زمین ایک مدھم نقطے کے طور پر بمشکل نظر آتا ہے۔ روانہ ہونے کے 42 سال بعد یہ جہاز 60 ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے اب بھی 18 ارب کلومیڑ کی دوری پر محو سفر ہے۔ یہ اب باقاعدگی سے بھی تصویریں اور معلومات زمین پر بھیج رہا ہے۔ جہاز کو نظام شمسی کی اخری حدود سے نکل کر ہمارے قریب ترین ستارے الفا سینٹوری کی حدود میں داخل ہونے میں ابھی 20000 سال اور لگیں گے۔

ساگان نے اس تصویر کو کائینات میں ہماری حیثیت کو واضح کرنے کے لیے ایک علامت کے طور پر استعمال کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اسی زردی مائل نیلے نقطے پر ساری انسانیت اپنی تاریخ، مشاہیر ان کے عظیم کارناموں کے ساتھ رہتی ہے۔ ساگان نے اس تصویرکو بنیاد بنا کر ایک کتاب لکھی جس کا نام

Pale Blue Dot: A Vision of the Human Future in the Space

رکھا۔ کتاب میں کائینات اور خصوصا نظام شمسی میں انسان کی حیثیت کا اور اس کے ممکنہ مستقبل پر بحث کی گئی ہے۔ اگر ہو سکے تو آن لائن سرچ کر کے لازمی پڑھیے گا۔

تو دوستو، دیکھ لیں پھر اتنی بڑی کائنات میں بس اتنی چھوٹی سی حیثیت ہے ہماری۔ مگر پھر بھی اللّھ نے ہمیں اشرف المخلوقات اور احسنِ تقویم بنایا ہے۔ ہمیں اتنی سمجھ بوجھ عطا فرمائی کہ ہم کائنات کو تسخیر کر رہے ہیں۔ نت نئی مفید ایجادات ہو رہی ہیں۔ اگر ہم اپنے ویژن کو بڑا اور مثبت رکھ کر سوچیں تو کوئی مشکل ہمیں ڈیپرس نہ کرے۔ ہم مستقل اداس نہ ہوں، ہمت و حوصلہ نہ ہاریں بلکہ سر اٹھا کر اور مسکرا کر اس خوبصورت زندگی کو گزاریں۔ ایک دوسرے کا خیال رکھتے، امن و سکون کے ساتھ نہ کہ جنگ، فساد اور ظلم زیادتی کے ساتھ۔ اللّھ ہمیں اچھا سوچنے، سمجھنے، عمل کرنے اور ہر حال میں اپنا شکر گزار بناے۔ آمین۔

(نوٹ : مضمون کی تیاری میں اس عمدہ معلومات کے لئے سائنس کی دنیا گروپ کے ممبر ممتاز حسین کا شکر گزار ہوں۔ )

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  • 19
  •  

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں