ایک تحریر۔۔۔ نجم سیٹھی کے نام


یہی مارچ کا مہینہ تھا، لیکن تاریخ تین مارچ سنہ 2009 تھی، میرا طالبعلمی کا زمانہ تھا۔ فارمن کرسچن کالج کے گراونڈ میں اپنے کچھ کلاس فیلوز کے ساتھ کھٹرا تھا۔ خوشگوار صبح تھی، ایف سی کالج کی ہریالی ہر سو چھا ہوئی تھی۔ تقریباً نو بجنے کے قریب تھا۔

اچانک زوردار دھماکوں اور فائرنگ کی آواز سنی۔ ہم سب دوست پریشان ہوگئے۔ ان دنوں ملک میں دہشت گردی کے واقعات ہورہے تھے، ہماری تعلیمی درسگاہ کو بھی خطرات تھے۔

اور یوں لگا کہ یہاں کوئی انہونی نہ ہوگئی ہو۔ اگلے چند منٹوں میں ہمیں معلوم ہوا کہ ہمارا تعلیمی ادارہ تو محفوظ ہے۔ لیکن، لبرٹی گول چکر پہ سری لنکن کرکٹ ٹیم پہ دہشت گردوں نے حملہ کردیا ہے۔

جیسے ہی یہ خبر پھیلی، باغوں کے شہر میں خوف کے بادل چھا گئے۔ ہر طرف عجیب سا جمود تھا۔ دفاتر، تعلیمی ادارے سب بند ہونا شروع ہوگئے۔ پاکستان اور سری لنکا کے مابین دوسرے ٹیسٹ میچ کا تیسرے دن کا کھیل شروع ہونا تھا۔ میں اپنے چند دوستوں کے ساتھ میچ کے دوسرے دن کے کھیل کا آخری سیشن دیکھنے گیا۔ اور ہمارا پلان تھا کہ تیسرے دن بھی کالج سے چھٹی کے بعد جائیں گے۔ لیکن! قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا اور یہ حادثہ ہوگیا۔

اس حادثے نے میرے وطن کو دہشت گردی کا ایسا داغ لگایا، جس کو صاف کرنے کے لئے کئی سال لگے اور آج بھی ہم پوری طرح اس کو صاف نہیں کرسکے۔ دشمن اور دوست ممالک کھل کر سامنے آئے اور بجائے ہمیں ایسے حالات سے نکلنے میں مدد کرتے بلکہ انھوں نے خوب پاکستان کو لتاڑا۔ اور جینٹل مین سمجھے جانے والے کھیل کو ایسی نظر لگی کی۔ کہ تب یوں لگ رہا تھا کہ اگلے کم از کم پندرہ سے بیس سال تک پاکستان میں کرکٹ کے بین الاقوامی مقابلے نہیں ہوسکیں گے۔

اہل پاکستان بہت پریشان تھے۔ ایک سال گزرا، دوسرا سال گزرا اور یوں سال گزرتے رہے، کرکٹ کے ساتھ دیگر بین الاقوامی کھیل بھی پاکستان میں نہیں ہورہے تھے۔ ہم آس لگائے بیٹھے تھے، کہ کسی نہ کسی طرح کسی نہ کسی درجے پہ پاکستان میں کرکٹ کے دروازے کھلیں۔ دو ہزار تیرہ کے عام انتخابات کے بعد ن لیگ کی وفاقی حکومت بنی۔ اور سال دو ہزار چودہ میں معروف صحافی نجم سیٹھی کو پاکستان کرکٹ بورڈ میں اہم ذمہ داری سونپ دی گئی، اور انہیں بورڈ کی ایگزیکٹو کمیٹی کا ممبر بنایا گیا۔ ان پر سیاسی ناقدین نے بہت تنقید کی، ان کے سیاسی معاملات یا ان کے نظریات سے اختلاف کیا جا سکتا ہے۔ لیکن! جو ان کی کرکٹ بورڈ میں خدمات ہیں ان پر پردہ نہیں ڈالا جا سکتا۔

ایک وقت تھا کہ کسی کوئی امید نہیں تھی کہ پاکستان میں کرکٹ کے دروازے کھلیں گے۔ سیٹھی صاحب اور ان کی ٹیم نے انتھک محنت کرکے دنیا کے دیگر ممالک کی طرح پاکستان سپر لیگ کے نام پہ کرکٹ لیگ کروانے کا پلان کیا۔ بڑا ہی مشکل مرحلہ تھا کہ فرنچائز بنانا، انویسٹرز ڈھونڈنا، انٹرنیشنل پلیرز کو قائل کرنا، سب سے بڑی مشکل یہ تھی کہ اس لیگ کو پاکستان سے باہر کروانا تھا۔

مختصر یہ کہ بھرپور محنت کے بعد ستمبر 2015 میں معاملات کو حتمی شکل دی گئی، اور یہ سلسلہ بڑھتے بڑھتے ٹیمیں بنی اور سال دو ہزار سولہ میں پاکستان سپر لیگ کے پہلے ایڈیشن کا انعقاد کیا گیا۔ اس دوران کرکٹ کی سرگرمیاں پاکستان میں ہوتی رہی۔

اب اگلا مرحلہ یہ تھا کہ کسی نہ کسی طریقے اس کو پاکستان منتقل کیا جائے، شروعات میں کوششیں ہوئی، لیکن صرف چند میچز ہی ہوسکے، سال دوہزار سترہ اور اٹھارہ کے پاکستان سپر لیگ کے سیزنز گزرے۔ اس دوران نجم سیٹھی صاحب پاکستان کرکٹ بورڈ کے سربراہ بن گئے۔ اور کرکٹ کی بحالی کے لئے بھرپور کام شروع کیا۔ یاد رہے کہ انہوں نے انیس بانوے کی چمپین کرکٹ ٹیم کے کپتان اور موجودہ وزیراعظم عمران خان کو فائنل میچ میں مدعو کیا۔ لیکن، عمران خان صاحب نے شرکت نہ کی۔ شاید سیاسی مسائل تھے یا کچھ اور۔ شرکت نہ کرنے کی وجہ سے عمران خان صاحب پہ شائقین کرکٹ نے خوب تنقید کی۔

اس دوران اب پاکستان سپر لیگ دنیا کی ایک بڑی لیگ بن چکی ہے۔ دوہزار اٹھارہ کے عام انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت قائم کی۔ اور نجم سیٹھی صاحب خود اپنے عہدے سے سبکدوش ہوگئے۔ آج ارض وطن پہ پاکستان سپر لیگ کے چوتھے سیزن کا آخری مرحلہ شروع ہوچکا ہے۔ اور چند دن بعد فائنل میچ ہو گا، جو بڑے سٹارز پہلے پاکستان آنے کو تیار نہیں تھے، آج وہ بھی کراچی سٹیڈیم میں چوکے چھکے مار ہے ہیں اور وکٹیں اڑا رہے ہیں۔ کراچی کنگز اور کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے میچ کے دوران سٹیڈیم فل پیک تھا، تل دھرنے کی بھی جگہ نہ تھی۔ یہ وہی سٹیڈیم تھا جہاں کوئی نہیں آتا تھا، صرف پرندے اوپر سے کبھی کبھی گزرتے تھے۔

لیکن اب ہر طرف خوشی کی بہار ہے آج کل دہشت گردی کے مارے شہر کراچی کی سڑکوں، گلیوں، چوک چوراہوں پہ جو لوگ کرکٹ کی وجہ سے خوب انجوائے کررہے ہیں، یہ سب خوشیاں رب العزت کے رحمت کے ساتھ نجم سیٹھی صاحب کی مرہون منت ہے۔ اب چیرمین پاکستان کرکٹ بورڈ اور وزیر اعظم پاکستان عمران خان صاحب کو چاہیے کہ اپنے سیاسی ایشوز کو سائیڈ پہ رکھ کر انہیں کراچی میں ہونے والے فائنل مقابلے میں مہمان کی حیثیت سے بلائیں، اور ان کی خدمات پہ ان کو خراج تحسین پیش کیا جائے۔ ایسا کرنے سے وزیراعظم عمران خان کو مزید عزت ملے گی۔

Facebook Comments HS