چند دن پہلے لاہور کے ایک نواحی گاؤں میں ایک باریش آدمی سے ملاقات ہوئی۔ دوپہر کا قت تھا، درجہ حرارت پینتالیس ڈگری کو چھو رہا تھا۔ آسمان پر پرندے تک نظر نہیں آرہے تھے۔ ایسے میں پسینے سے شرابور اور پرنم آنکھوں والا ایک بزرگ آدمی دکھائی دیا۔ جب یہ منظر دیکھا تو عجیب سی کیفیت ہوئی نہ رہا گیا اور اس بوڑھے آدمی سے ہاتھ ملایا جس کی عمر قریبا ستر سال کے لگ بھگ تھی۔
جب اُس بزرگ سے حال احوال پوچھا تو اس کا سیدھا ہی جواب تھا (کہ بیڑا غرق ہوگیا اے ایس حکومت دا) ۔ پھر پوچھا بابا جی کون ہیں آپ، کیوں پریشان ہے؟ اس بزرگ نے اپنا نام بشیر حسین بتایا اور گاؤں والے بابا بشیرا پکارتے ہیں۔ بشیر حسین کو جیسے بس تھوڑا پوچھنے کی دیر تھی اس کے اندر کا غبار باہر آنا شروع ہوگیا اور کہا کہ میں غریب آدمی ہوں بمشکل مہینے کا بارہ سے پندرہ ہزار کماتا ہوں سارا دن سائیکل پہ سبزی فروخت کرتا ہوں۔ اور گھر میں کمانے والا بھی اور کوئی نہیں۔
Read more