کجا ہستی، جان پدر

جہالت کا ایک اپنا معاشرہ ہے نہ اس معاشرے میں انسانیت ہوتی ہے نہ کوئی مذہب، نہ کوئی اخلاقیات۔ جہالت کے معاشرے کے مکینوں کے نزدیک ہر چیز ان کی ہوس کو پورا کرنے کے لئے جائز ہے نہ حرام کی تمیز نہ حلال کی۔ جہاں دنیا چاند کے مکین بننے کے لئے مقابلے میں ہیں وہی آج بھی قائد کے دیس میں معصوم بچیوں کو اپنی ماؤں کے اور ماؤں کو بچوں کے سامنے ہوس کا نشانہ بنایا جا

Read more

رام کوٹ کی سیر

معلوم ہوا کہ ”پاکستان فیڈریشن آف کالمسٹ“ کے زیر سر پرستی، سینیئر اور جونئیر صحافیوں

کا وفد، یوم سیاحت کے عالمی دن کے موقع پہ رام کوٹ کی سیر کو جائے گا۔ فوراً انٹرنیٹ سے مدد لی اور رام کوٹ کے بارے میں آگاہی حاصل کی اور اس کے بعد اسے دیکھے بنا جی کو کہاں سکون ملنا تھا۔ دل اتنا بے قرار تھا کہ قدرت کے اس شاہکار کو دیکھنا ہی دیکھنا ہے۔ شدت طلب چشم کا یہ عالم تھا، جیسے سات سمندر پار سے محبوب اپنی محبوبہ کو دہایوں بعد ملنے چلا ہو۔ ”پاکستان فیڈریشن آف کالمسٹ“ صحافیوں کے لئے ایسے پروگراموں کا انعقاد کرتی رہتی ہے، تا کہ پیارے وطن کے ان علاقوں کو دریافت کیا جائے، جو عام طور پہ عوام کی نظر سے پوشیدہ رہتے ہیں۔ اس کا مقصد میڈیا کے پلیٹ فارم سے، دنیا کو پاکستان کی جھلک دکھلانا ہے کہ ہماری دھرتی کیسی دل کش اور خوش نما ہے۔

Read more

عمر شیخ کہتے ہیں کہ نہ کوئی بزدار کو ہٹا سکتا ہے نہ مجھے

گزشتہ چند مہینوں میں پاکستان کے اندرونی حالات نے تین سو ساٹھ کے زاویے سے کروٹ لی ہے۔ سماجی، سیاسی اور معاشی حالات نے کھٹارا بس کی طرح چلتے نظام کو مفلوج کر دیا ہے۔ نظام تو پہلے ہی قید تھا، لیکن قید کرنے والے پیٹھ کے پیچھے خاموشی سے چھرا گھونپتے تھے۔ لیکن اب ایسی تبدیلی آئی ہے کہ سب منٹوں میں منظر عام پر آ جاتا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ یہ گند اتنا جمع ہو چکا ہے کہ گٹر ابلنا شروع ہو گیا ہے جو بھی گزرے گا یقیناً گندا ہو کے رہے گا۔

Read more

جھیل کنارے

گزشتہ کئی مہینوں سے دنیا سمیت پاکستان میں بھی کرونا وائرس نے زندگی کا پہیہ جام کر دیاہیں۔ حکومتی موئثر پالیسی اور عوامی تعاون سے کرونا پہ قابو پولیا گیا۔ لیکن، ابھی خطرہ ٹلا نہیں۔ اسی دوران خوف اور فرسٹریشن کے ماحول میں لاہور، کراچی اور شہر اقتدار کے صحافیوں کے ساتھ سیرو تفریح کا پلان بن گیا۔ جو بہت معلوماتی ٹور بھی تھا۔ باغوں کے شہر سے یہ سفر شروع ہوکر پہلی پڑاؤ شہر اقتدار کا تھا جہاں ایف

Read more

سچ کو جھوٹ نہیں کہا جاسکتا

یہ تحریر خاص طور میڈیا اور سوشل میڈیا کے چھوٹی ذہنیت، خود ساختہ دانشوروں اور اخلاقی، مذہبی، سیاسی، سماجی تعلیم سے دور منفی سوچ والی شخصیات کے نام ہے۔ گزشتہ دنوں وزیراعظم کی میزبانی میں ٹیلی تھون ٹرانسمیشن کے اختتام میں معروف عالم دین مولانا طارق جمیل نے چند جملے کہے، جن کا مختصراً مفہوم یہ ہے ہم جھوٹ بولتے ہیں، بے حیا ہیں۔ اس سب میں مولانا صاحب نے کچھ غلط نہیں بولا۔ میرے لئے مولانا صاحب قابل احترام

Read more

جمہوریت کہاں سے تلاش کریں؟

کوئی بھی معاشرہ ہو، جب تک وہاں حق کا بول بالا نہیں ہوگا، وہاں نہ امن ہوگا اور نہ خوشحالی۔ جب معاشرے میں لوگوں کا مقصد صرف اپنی زندگی جینا ہوگا تو پھر نہ کوئی محمد علی جناح پیدا ہوگا نہ اقبال اور نہ ہی کوئی نیلسن منڈیلا بنے گا۔ لیکن یہاں معاشرے میں ہر دوسرا سیاسی لیڈر اپنے آپ کو جناح اور منڈیلا سمجھتا ہے۔ اور باقی طبقہ مفکر، دانشور بنتا ہے۔ پاکستانی معاشرے میں بڑے بڑے خود غرض

Read more

؛شکریہ۔ باس!

کالم کا آغاز جناب مستنصر حسین تارڑ کی ایک تحریر سے شروع کرتے ہیں۔ اکثر و بیشتر مطالعہ کے دوران کچھ تحریریں آپ کے دل میں گھر کرجاتی ہیں۔ مطالعہ کے دوران مستنصر صاحب کی ایک تحریر میں گِدھوں کو گدھے کی پیٹھ میں سوراخ کرنے اوراس کی بوٹیاں نوچنے کا منظر پڑھا۔ اور اس کو کالم میں لکھنے کا فیصلہ کیا۔ مستنصر صاحب لکھتے ہیں کہ ان کے سامنے ایک زخمی گدھا کھڑا تھا گدھے کی پیٹھ پر گِدھ

Read more

پولیس قانون کیوں اپنے ہاتھ میں لیتی ہے؟

گزشتہ چند ہفتوں سے بڑے عجیب تر واقعات سامنے آرہے ہیں۔ کبھی کسی بزرگ کی موت کی خبر، کبھی کسی جوان کی اور کبھی معصوم بچوں کی۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ان لوگوں کی موت طبعی نہیں۔ یہ سب جانتے ہیں کہ ان کو مارا گیا ہے۔ مرنے والے کے لواحقین اپنے عزیز کی بے گناہی کا واویلا مچاتے ہیں اور مارنے والے اپنی بے گناہی کو ثابت کرنے کوشش کرتے ہیں۔ آخر مجرم کون ہے؟ کوئی تو

Read more

جگجیت کور (عائشہ ) کی کہانی، امبانی، مودی اور پاکستانی میڈیا!

چند دن پہلے کا واقعہ ہے کہانی ہے ننکانہ صاحب کے محلہ بالیلہ کی جگجیت کور (عائشہ ) کی۔ معاملہ کچھ یوں ہے کہ عشق و محبت کی داستان ہے۔ جگجیت کور (عائشہ ) جس کی عمر انیس سال ہے مسلمان لڑکامحمد حسان اور جگجیت کور (عائشہ) ایک دوسرے سے محبت کرتے تھے۔ جگجیت کور نے مذہب اسلام قبول کیا اور محمد حسان سے اٹھائیس اگست کو نکاح کرلیا۔ اس کے بعد یہ خبر جنگل میں آگ کی طرح پھیل گئی۔ اور پاکستان سمیت بھارت، امریکہ، برطانیہ وغیرہ میں سکھ کمیونٹی تک جاپہنچی۔

Read more

گورنر پنجاب چوہدری سرور کے ساتھ ایک نشست !

ریاست پاکستان اور پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کو اس وقت بہت سارے ملکی اور بین الا اقوامی چیلنجر کا سامنا ہے۔ ملکی سطح پہ بات کی جائے، تو سب سے بڑا عذاب مہنگائی کا ہے۔ سیاسی معاملات کی بات جائے، تو اس وقت ملکی قانون بھی اپوزیشن جماعتوں کے لئے سونامی بنا ہوا ہے۔ اور بین الاقوامی لیول پہ مسئلہ کشمیر اور پاکستان کے کمزور سفارتی تعلقات کے حوالے سے بہت سارے سوالات کے جوابات حاصل کرنے تھے۔ اس

Read more

ایک مقابلہ، تین ونر، تین لُوزر

آج کل ایک ایسا مقابلہ ہورہا ہے جس میں اگر جیت ہوئی، تو تمام فریقین جیتیں گے، ہارے تو سب ہی ہار جائیں گے۔ مقابلہ امن کی صدا کو بلند کرنے کا ہے، محاذ کابل کا ہے، جیت کا سہرا سر پہ سجانے کے لئے پاکستان، امریکہ اور افغان طالبان کوشاں ہیں۔

Read more

بابا بشیرا اور وزیراعظم عمران خان

چند دن پہلے لاہور کے ایک نواحی گاؤں میں ایک باریش آدمی سے ملاقات ہوئی۔ دوپہر کا قت تھا، درجہ حرارت پینتالیس ڈگری کو چھو رہا تھا۔ آسمان پر پرندے تک نظر نہیں آرہے تھے۔ ایسے میں  پسینے سے شرابور اور پرنم آنکھوں والا ایک بزرگ آدمی دکھائی دیا۔ جب یہ منظر دیکھا تو عجیب سی کیفیت ہوئی نہ رہا گیا اور اس بوڑھے آدمی سے ہاتھ ملایا جس کی عمر قریبا ستر سال کے لگ بھگ تھی۔

جب اُس بزرگ سے حال احوال پوچھا تو اس کا سیدھا ہی جواب تھا (کہ بیڑا غرق ہوگیا اے ایس حکومت دا) ۔ پھر پوچھا بابا جی کون ہیں آپ، کیوں پریشان ہے؟ اس بزرگ نے اپنا نام بشیر حسین بتایا اور گاؤں والے بابا بشیرا پکارتے ہیں۔ بشیر حسین کو جیسے بس تھوڑا پوچھنے کی دیر تھی اس کے اندر کا غبار باہر آنا شروع ہوگیا اور کہا کہ میں غریب آدمی ہوں بمشکل مہینے کا بارہ سے پندرہ ہزار کماتا ہوں سارا دن سائیکل پہ سبزی فروخت کرتا ہوں۔ اور گھر میں کمانے والا بھی اور کوئی نہیں۔

Read more

حضور صدائے حق بلند ہونے دیں

گزشتہ چند ہفتوں میں حکومتی ایوانوں سے، حزب اختلاف کی محفلوں سے، ججز کے احتساب، چیرمین نیب کی مبینہ رومانوی گفتگو، ویڈیو سین اور لاکھوں شہداوں اور غازیوں کی وردی کو داغدار کرنے والوں کے حوالے بہت اہم خبریں سامنے آئیں۔ حکومت نے پوسٹر بوائے سے لے کر پیرا شوٹرز تک کو تبدیل کیا اور نہ چاہتے ہوئے بھی غیروں کو گلے لگایا۔ مقصد نظام کو بہتر کرنا تھا۔ جب اسد عمر وزیر خزانہ تھے تو کہا گیا کہ یہ نالائق آدمی ہے اس کے بس کی بات نہیں۔ وہ تبدیل ہوئے تو حفیظ شیخ صاحب آئے، پھر یہ کہا گیا کہ یہ آئی ایم ایف کے ایجنٹ ہیں۔

Read more

ہنڈرڈ ملین ڈالرز ٹیکنالوجی ورسز ہنڈرڈ ڈالرز ٹیکنالوجی

آج یہاں موجودہ حکمران جدید وسائل کا رونا روتے ہیں، لیکن اس سے زیادہ بد قسمتی یہ ہے کہ اگر کہیں ٹیکنالوجی دستیاب بھی ہے، تو اس کو چلانے والے ایکسپرٹس کی کمی ہے۔ کیا پاکستان آزادی کے چند سالوں کے بعد زیادہ خوشحال تھا یا آج؟ کیا انیس سو پچاس سے ساٹھ تک یا دو ہزار سے دوہزار دس تک؟ کیا انیس سو ساٹھ سے ستر تک یا دو ہزار دس سے لے کر آج کے دن تک؟ تب تو وسائل کی بھی کمی تھی، سسٹم بھی رننگ میں نہیں تھا، پاکستان اٹامک پاور بھی نہیں تھا۔ تب تقریباً ہر ادارہ بہتری کی طرف تھا۔ آج جدید ٹیکنالوجی جدید دنیا کے مقابلے میں تونہیں، لیکن گزر بسر بہتر ہو رہی ہے۔ آج ادارے بھی ہیں۔ سربراہان بھی ہیں۔ پاکستان اٹامک پاور بھی ہیں۔ سب سے بڑی بات ملک کے وزیر اعظم بھی عمران خان ہیں، پھر خوف کے سائے کیوں ہیں؟ غربت کیوں ہے؟

Read more

آل تو جلال تو، آئی بلا کو ٹال تو

گزشتہ چند دنوں میں ہونے والی تبدیلیوں کے بعد حکومتی ٹیم میں سب گھبرائے ہوئے ہیں اور گہرے سائے کے بادل چھائے ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کے بعد پارٹی کا دوسرا بڑا چہرہ سابق وزیر خزانہ اسد عمر تھا۔ عوام کو ان کے بڑے دعووں سے بہت سی امیدیں وابستہ تھیں جن پر وہ پورا نہیں اترے۔ اگر صرف کارگردگی کی بات کرے تو پھر شاید بامشکل سے چند بندے بچے، باقی سب کا حال اسد

Read more

بدقسمتی تو دیکھیں !

بھارت میں عام انتخابات کا مرحلہ وار آغاز ہوچکا ہے تقریباً نوے کروڑ سے زائد رجسٹرڈ وٹرز ہیں اور اکیس مئی کو عام انتخابات سات مرحلے طے کرکے مکمل ہوگا۔ تئیس مئی کو حتمی نتائج سامنے آئے گے۔ دنیا کی تاریخ میں یہ سب سے بڑا انتخاب ہوگا۔ وزیراعظم عمران خان نے بیان دیا کہ اگر بی جے پی جیت جاتی ہے تو امید ہے کہ مسئلہ کشمیر کے پرامن حوالے سے کوئی بات چیت ہوسکے۔وزیراعظم عمران خان کا بیان سرحد کے دونوں طرف اہل علم کے لیے حیران کن تھا کیونکہ بھارتی جنتاپارٹی کی ساری الیکشن کمپین پاکستان مخالف تھی۔ بھارتی وزیراعظم اپنے ہر جلسے میں یہی راگ الا پتے رہے

Read more

نواز شریف کے بعد اگلی باری کس کی !

ضمانت، ڈھیل یا ڈیل اور ٹائم فریم، پچھلے چند ہفتوں میں ن لیگ کے سربراہ اور سابق وزیراعظم نواز شریف کی ضمانت سے چند دن پہلے سے ہی حکومتی وزراء نے یہ راگ الاپنا شروع کردیا تھا کہ نواز شریف کی قسمت کا فیصلہ عدالت نے کرنا ہے حکومت انہیں باہر جانے کی اجازت نہیں دے سکتی۔ اس دوران وزیراعظم عمران خان نے بھی صحافیوں سے طویل بات چیت کی۔ اور واشگاف الفاظ میں کہا کہ حکومت کسی قسم کی ڈیل یا ڈھیل نہیں دے گی۔ اور سب یہ جانتے تھے کہ چھبیس مارچ کو نواز شریف کی ضمانت کے حوالے سے اپیل پہ سماعت ہونی ہے۔ کہنے والے تو یہ بھی کہتے ہیں کہ حکومت نے نواز شریف کی ضمانت ہو جانے کی صورت میں اپنی فیس سیونگ کے لئے پہلے سے سیاسی پوائنٹ سکورنگ کی۔ اور حکومتی جماعت نے اپنے کارکنان کو یہ تاثر دیا کہ وہ نواز شریف کے ساتھ کوئی ڈیل نہیں کرے گے اور نہ ہی کسی قسم کی ڈھیل دی جائے گی۔

Read more

غریب بزدار کی ناکامی

دنیا میں کسی بھی معاشرے میں جب کوئی چیز میرٹ پہ نہیں ہوتی یا کسی غلط جگہ پہ فٹ ہوتی ہے یا پھر یوں کہہ لیں کہ جیسے عثمان بزدار کو وزیر اعلی پنجاب بنا دیا گیا ہو! تو آپ ننانوے فیصد منفی نتائج ہی دیکھیں گے۔ ایک فیصد کا مارجن اس لے رکھا، کہ معجزات بھی دنیا میں ہو جاتے ہیں۔ اب یہاں وزیر اعلی پنجاب کا کوئی مسئلہ نہیں، کیونکہ ان کو تو دائیں، بائیں رہنے والوں کو مطمئن کرنے کے لئے لگایا گیا اور لودھراں ٹو بنی گلا کی فلائیٹ لینے والوں کو بھی راضی کرنا تھا۔ اس لیے ریموٹ کنٹرول بندہ چاہیے تھا۔ اور پھر عثمان بزدار کی بھی قسمت اچھی تھی کہ وہ سرکاری جہازوں، کاروں اور بڑے بڑے پروٹوکول ان کے نصیب میں تھے۔ یہاں عمران خان صاحب کی مجبوری نے بزدار صاحب کی قسمت چمکا دی۔

Read more

ایک تحریر۔۔۔ نجم سیٹھی کے نام

یہی مارچ کا مہینہ تھا، لیکن تاریخ تین مارچ سنہ 2009 تھی، میرا طالبعلمی کا زمانہ تھا۔ فارمن کرسچن کالج کے گراونڈ میں اپنے کچھ کلاس فیلوز کے ساتھ کھٹرا تھا۔ خوشگوار صبح تھی، ایف سی کالج کی ہریالی ہر سو چھا ہوئی تھی۔ تقریباً نو بجنے کے قریب تھا۔ اچانک زوردار دھماکوں اور فائرنگ کی آواز سنی۔ ہم سب دوست پریشان ہوگئے۔ ان دنوں ملک میں دہشت گردی کے واقعات ہورہے تھے، ہماری تعلیمی درسگاہ کو بھی خطرات تھے۔

Read more