انسانی حقوق اور من چاہا اندھا پن


انسانی حقوق بھی بڑی ہی عجیب شے ہیں۔ دوستوئفسکی کے ناول شیاطین ( Possessed) میں ایک مقام پر نکولس اسٹاورجن اپنے ناہنجار سالے کیپٹن لبیاٹکن سے کہتا ہے کہ جتنی دیرمیں گھر میں ہوں، تم میری یہ چھتری لو اور باہر انتظار کرو۔ باہر بارش ہو رہی تھی۔ سالا دریافت کرتا ہے کہ ”حضور کیا میں چھتری کے قابل ہوں؟ “ جواب ملتا ہے ہاں ہر انسان کو چھتری کا حق حاصل ہے، جس پر کپتان بڑی لجاجت سے کہتا ہے کہ ”حضور نے تو انسانی حقوق کی تعریف بڑی خوبصورتی سے متعین کر دی۔ “

ساری دنیا میں انسانی حقوق بڑی حد تک اسی طرح معین ہو رہے ہیں۔ طاقت ور کے حقوق مختلف ہیں، کمزور کے حقوق جدا ہیں۔ پھر کسی کو ایک قسم کے کمزور مظلوم تو نظر آ جاتے ہیں مگر دوسری قسم کے مظلوم نظر ہی نہیں آتے۔ اس کیفیت کو اردو میں کیسے ظاہر کریں گے یہ تو ہمارے لئے بتانا مشکل ہے مگر انگریزی میں اس لئے ایک بڑی ہی پیاری سی اصطلاح ہے۔
”Selective blindness“

حال ہی میں امریکا بہادر کے پیارے، آل سعود کے ستارے، اور ٹرمپ کے یہودی داماد جارڈکشنز کے عزیز دوست، ولی عہد معظم جناب محمد بن سلمان حفظ اللہ کے ماتحت افسران نے ان کے ناقد سعودی صحافی جمال خشوگی کو استنبول میں بوٹی بوٹی کروا دیا۔ دنیا محو حیرت تھی کہ یہ کیا ہوا؟ کیا ایسا آج کے دور میں ممکن بھی ہے؟ مگر حضور ایسا بالکل ممکن ہے اور پھر ٹرمپ بہادر نے ہر طور سے محترم ”ایم بی ایس“ کا دفاع شروع کر دیا۔ ذرا سوچیے کہ ایسی کوئی حرکت ایران نے کر دی ہوتی تو امریکا ہی عالمی اداروں کا رخ کرتا بلکہ ممکنہ طور پر ایران پر سو قسم کی پابندیاں مزید لگ چکی بھی ہوتیں۔ فرض کیجئے کہ یہ حرکت پاکستان نے کی ہوتی، چین نے کی ہوتی؟ ذرا اپنی یادداشت پر زور ڈالئے تو 2017 ء میں کم جونگ ان کے سوتیلے بھائی کم جونگ نام کے کوالالمپور میں قتل اور اس پر امریکی ردعمل کو یاد کیجئے۔

مگر امریکا بہادر کے لبرل ذرائع ابلاغ نے جمال کی موت پر تھوڑا واویلا کیا اور بس بات آئی گئی ہو گئی۔ یادش بخیر! تب امریکی لبرل ذرائع ابلاغ کو یمن بھی یاد آ یا تھا کہ جہاں پر جنگ نے ہزاروں لاکھوں افراد کو فاقہ کشی سے موت کے دہانے پرپہنچا دیا ہے مگر یہاں پر ایک دلچسپ بات یاد آ رہی ہے۔

2011 ء میں جب ”عرب بہار“ کے عنوان سے عرب دنیا میں اسٹیٹس کو کے خلاف مظاہرے شروع ہوئے تو سارے شہر میں ایران کے دستر خوان سے رزق پانے والی تحریکوں نے ”بحرین لہو لہو“ کی چاکنگ کر دی۔ عجیب بات ہے کہ ان تحریکوں اور ان کے ولی نعمت ایران کو کبھی بھی بشار الاسد کے ہاتھوں پر لاکھوں سنی مسلمانوں کا لہو نظر نہیں آیا۔ یہ تحریکیں اور ایران کی پاسداران انقلاب شام اور عراق میں سنیوں کے قتل عام میں اسی مستعدی سے لگے رہے جس مستعدی سے سعودی اتحاد حوثیوں کو مارنے میں لگا ہے۔ ایک کو عراق اور شام میں بہتا لہو نظر نہیں آتا، اس معاملے میں Selective blindness کا شکار ہے تو دوسرے کو یمن اور بحرین میں بہتا لہو نظر نہیں آتا۔ اخلاقی معیارات ایک گروہ کے لئے کچھ اور ہوتے ہیں اور دوسرے کے لئے کچھ اور۔

ایک لمحے کو سوچئے کہ میانمار کے روہنگیا مسلمان نہیں ہوتے بلکہ عیسائی ہوتے، جگہ وہی ہوتی، زبان و لہجہ وہی ہوتا، دشمن وہی انتہا پسند بودھ ہوتے مگر بس روہنگیا عیسائی ہوتے تو کیا عالمی برادری یوں لاکھوں روہنگیا کا انخلاء ہو جانے دیتی۔ فرض کر لیجیے کہ شام کے سنی مسلمان، سنی مسلمان نہیں عیسائی ہوتے تو کیا یوں حزب اللہ اور بشار کی فوج کو ان کا قتل عام کرنے دیا جاتا؟ فرض کر لیجیے کہ حوثی باغی زیدی شیعہ نہیں عیسائی ہوتے تو کیا یوں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات لاکھوں لوگوں کو بھوکا مار دینے کی جسارت کرتا؟

عالمی تناظر میں آج مسلمان اچھوت ہیں اور اچھوتوں کی آپس کی لڑائی کی بڑی ذات والوں کو کیا پرواہ؟ اور اچھوتوں کو کوئی غیر اچھوت مارتا ہے تو اسے تھوڑی سی ڈانٹ پڑ سکتی ہے مگر ا س کے علاوہ کچھ نہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ امریکا بہادر جو دنیامیں خود کو واحد سپر پاور گردانتا ہے، کو محض چند ہی مواقع پر حقوق انسانی یاد آتے ہیں اور یہی حال ہر ملک کا ہے۔ بھارت پاکستان سے کہتا ہے کہ وہ بلوچستان میں انسانی حقوق کو پامال نہ کرے اور پاکستان ہندوستان سے کہتا ہے کہ وہ کشمیر میں انسانی حقوق پامال نہ کرے۔

امریکا ترکی سے کرد علاقوں میں انسانی حقوق کی پاسداری کی بات کرتا ہے جب کہ وہ یہی بات سعودیہ سے یمن کے معاملے میں نہیں کہتا۔ وہ یہی بات اسرائیل سے فلسطین کے معاملے میں نہیں کہتا۔ ایران کو یمن اور بحرین یاد آتے رہتے ہیں مگر عراق اور شام میں ہونے والے مظالم کبھی یاد نہیں آتے۔ الغرض ہر ملک نے انسانی حقوق کی ایک اندھی عینک لگا رکھی ہے جس سے اس کے مفادات سے جڑا حصہ تو نظر آتا ہے مگر اس کے سوا کچھ نظر نہیں آتا۔

اس صورت حال نے جو منظر نامہ پیدا کیا ہے وہ یہ ہے کہ اگر آپ کشمیر کے حقوق کی بات کریں تو لازمی طور پر یہ سمجھ لیا جائے گا کہ آپ پاکستان میں کسی جگہ ہونے والے مظالم پر آنکھیں بند رکھتے ہوں گے۔ آپ اگر شام میں ہونے والے مظالم کی بات کریں تو یہ طے کر لیا جائے گا کہ آپ یقینی طور پر یمن میں ہونے والے مظالم سے اندھے ہوں گے۔ کوئی یہ ماننے پر تیار ہی نہیں کہ آپ بیک وقت ایران اور سعودیہ دونوں کی ہی مذمت کر سکتے ہیں اور اس کے ساتھ ہی امریکا، اسرائیل اور میانمار پر بھی لعنت بھیج سکتے ہیں۔ ساری دنیا ہی اس طرح سے Selective blindness کا شکار ہے کہ اب ایسے کسی شخص کا تصور ہی محال ہے جو پورا یا آدھا اندھا نہ ہو۔ یہ ہے عہد حاضر کا شعور۔ معلوم نہیں شعوری پھر کس چیز کو کہتے ہیں۔

Facebook Comments HS