نظریہ بذریعہ نفرت کیوں؟
نفرت کی پھوار کہیں سے بھی پھوٹ رہی ہو وہ سماج میں دیر پا مضر اثرات چھوڑتی ہے۔گزشتہ ماہ بھارت اور بھارتی میڈیا کی طرف سے کیا گیا جنگی پروپیگنڈہ ہو یا پاکستان میں گزشتہ ہفتہ کیا جانے والا خواتین کا مارچ ہو پھر اس مارچ کے بعد مخالفین کی طرف سے منفی ردعمل ہو یہ سب نفرت پروان چڑھانے کے قاعدے ہیں۔
اشتعال انگیز نعرے، حقارت آمیز جملے تو کبھی سیاسی و مذہبی جلسوں میں لگائے جاتے تھے، جہاں مخالف کو گالم گلوچ کے ساتھ چڑھ دوڑنے کے لیے تیار ہوتے تھے۔ یاد نہیں مذہب اور سیاست کے نام پر ماضی قریب میں کس قدر سیاسی لیڈرون پر سیاہی پھینکی گئی، جوتے مارے گئے۔ کیوں ہوا یہ کیسے ہوا، نفسیاتی طور پر کیسے تیار کیا جاتا ہے ایک انسان کو۔
یہ بات تو سمجھ آتی ہے کہ کہ ذاتی عناد اور دشمنی میں ایسا کوئی نا کر سکنے والا ایسا ردعمل دے سکتا ہے مگر سیاسی کارکنان کو اتنی نفرت میں کون دھکیلتا ہے اور انہیں اپنے کیے پر شرم بھی نہیں ہوتا چاہے جتنا بھی ذلت اٹھانی پڑے۔
بطور پاکستانی شہری کئی باتوں پر اتفاق ہے کہ عورت ہمارے معاشرے میں محکوم رہتی ہے، تعلیم سے دور رکھا جاتا ہے، بیٹی کو جیہز تو دے دیا جاتا ہے لیکن جس وراثت پر اس کا شرعی اور قانونی حق ہے اس سے محروم رکھا جاتا ہے۔ سوشل میڈیا سے لے کر یونیورسٹیوں تک انہیں ہراساں کرنے کے کئی واقعات ہمارے سامنے آئے ہیں جس میں ہم عمر طلباء سے لے کر اساتذہ تک کی طرف سے جنسی ہراساں کیا جاتا رہا، بہا الدین ذکریا یونیورسٹی میں گزشتہ دو سال میں دو اہم واقعات سامنے آئے، جامشورو یونیورسٹی سندھ کی طالبات کے خط کی پورے ملک میں گونج سنائی دی۔ کاروکاری میں دی گئی سندھ کی سات سالہ معصومہ شمائلہ جو رو کر دہائی دے رہی ہوتی ہے کہ مجھے ظالموں سے بچا لو ”۔ مسائل تو ہیں ہم ان سے نظر کیسے پھیر لیں یا منکر ہوجائیں۔
چند اہل فکر اپنی اولاد کو اچھی تربیت اور تعلیم فراہم کر کے اس محکومیت سے تو آزاد کر لیتے ہیں لیکن غریب طبقہ کی بیٹی کیسے محفوظ رہے۔ جتنے نعرے خواتین مارچ میں پوسٹرز پر درج تھے ان میں سب کو رد بھی نہیں کیا جا سکتا اور سب مطالبات کو قبول بھی نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ ایک فرق تو رہنا چاہیے مشرقی اور مغربی تہذیب میں۔
سیکولر، ترقی پسندوں کو ضرور سوچنا چاہیے کہ وہ جس نظریے کو امن و آشتی کے ساتھ آگے بڑھا رہے ہیں کہیں اس میں کوئی قدغن تو نہیں لگا رہا۔ کہیں ان کے ذہنوں میں وہ پرتشدد راہ پر تو نہین دھکیلا جا رہا، یقیناً پرتشدد، نفرت و حقارت انگیز رویہ کس بھی فکر کے پھیلانے میں رکاوٹ کا سبب بن سکتا ہے۔
خاکسار گزشتہ روز کسی ڈسکشن فورم میں بیٹھا تھا ایک نامور خاتون سپیکر سے کسی سٹوڈنٹ نے حالیہ وومن مارچ بارے سوال کیا تو اسپیکر نے جس آمرانہ طریقے سے جواب دیا
اس نے میری سوچ کے تغیرات کو مزید وسعت دی کہ اسی نفرت سے تو ہم مذہبی و سیاسی جلسے چھوڑ چکے ہیں اگر سیکولر اہل علم منہ اور زبان سے اس قدر نفرت پھونکیں تو اہل فکر کہاں سے لائیں۔
ان کے آمرانہ لہجے میں نہ صرف تکبر تھا بلکہ آگ اگل رہی تھی ”یہ مارچ کامیاب ہوا ہے اور تم لوگوں کو عورت کے آگے بڑھنے سے تکلیف ہو رہی ہے ہم مزید اس طرح کے نعرے لکھیں گے جسے جو کرنا ہے کر لے“۔ شاید اسی لہجے میں وہ سٹوڈنٹ اونچا بولتا تو نتیجہ بے ادبی اور پتہ نہیں، کیا کیا ہوتا۔
نفرتوں کا بیج نہ بوئیں، زبان کو ہتھیار نہ بنائیں، پیغام تب موثر ہوتا ہے جب دلیل اخلاق سے پیش کی جائے۔ ورنہ کشمیر کے لیے بھارت پاکستان کو لڑتے لڑتے ستر سال ہوچکے ہیں نہ کشمیر آزاد ہوا ہے اور نہ اپنی قوموں کو بنیادی سہولیات فراہم ہو سکیں، اپنے نظریات ان نفرت انگیز رویوں سے محفوظ کر لیں تاکہ ان قوموں کی سوچ اور فکر مثبت راہ کی جانب چل سکے۔


