صحرا میں سونا، خوابوں سے حقیقت تک!


سونے کی تلاش انسانی فطرت کے لیے ہمیشہ متجسس مشغلہ رہا ہے۔ یہ قیمتی دھات کبھی ملکیت پسند آنکھوں میں دلربا خواب بن کر چمکتی رہی ہے، تو کبھی لوگوں کے لبوں سے دلچسپ موضوع بن کر اچھلتی رہی ہے۔ ایسے ہی لبوں نے کئی عشرے قبل یہ بات پھیلائی تھی کہ صحرائے تھر کے جنوب مشرق میں واقع کارونجھر کے پھاڑوں میں پارس پتھر موجود ہے، جو لوہے کو سونا بنا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ ان پہاڑوں میں ایسی نایاب جڑی بوٹیاں بھی موجود ہیں، جو لاعلاج بیماریوں میں شفا بخش ہونے کے ساتھ ساتھ سونا بنانے میں بھی مددگار ثابت ہوتی ہیں۔

چنانچہ بہت سے سیلانی اور کیمیاگر ان پہاڑوں میں سرگرداں رہتے تھے۔ کئی برس بیت گئے مگر وہاں سے کسی کو سونا ملنے کی خبر نہیں آئی۔ البتہ سن 90 ع کی دہائی کے اوائل میں یہ خبر میڈیا پر ضرور آئی کہ صحرائے تھر پارکر میں کالے سونے کے بڑے بڑے ذخائر دریافت ہوئے ہیں۔ تب دیہاتوں کے باسی کئی معمر افراد نے اس خبر کو سونے کے متعلق پرانی افواہوں سے جوڑنا شروع کر دیا تھا مگر بعد ازاں سب کو پتہ چلا کہ یہ کالا سونا دراصل کالا کوئلا ہے، جس کے ذخائر زیر زمیں اتنے وسیع ہیں کہ اگر ان کو زمین سے نکال کر استعمال میں لایا جائے تو اگلے پچاس برس تک پورے پاکستان کو سستی بجلی مہیا ہو سکتی ہے۔

ماہرین نے کالے سونے کے ان ذخائر کو بارہ بلاک میں تقسیم کیا ہے۔ جن میں سے بلاک نمبر ایک میں اینگرو کمپنی کول مائننگ کا کام کر رہی ہے۔ خیال ہے کہ اگلے چند ماہ میں یہاں سے کوئلے کی پیداوار شروع ہوجائے گی، جس سے سستی بجلی بنے گی اور بے تحاشا سرمایہ کاری آئے گی۔ بلاک نمبر ایک میں سائنو سندھ ریسورس نامی کمپنی نے حال ہی میں کام شروع کیا ہے۔ باقی تمام بلاک تاحال مائننگ کے منتظر ہیں۔ یاد رہے کہ معروف سائنسدان ڈاکٹر ثمر مبارک نے جس بلاک پر کوئلے سے بجلی بنانے کا تجرباتی کام کیا تھا وہ منصوبہ کرپشن کے الزامات کے باعث اب تک کھٹائی میں پڑا ہوا ہے۔

بیدخلی کا شکار بننے والے انسانوں کو معاشی اور معاشرتی حقوق کے مطابق عزت، روزگار اور سہولت سے آراستہ کر کے کہیں سیٹل کرنا بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔ ملازمتوں میں مقامی افراد کو نظر انداز کرنا اور ماحولیاتی مسائل کے خدشات بھی جوں کے توں موجود ہیں۔ جن پر سول سوسائٹی کے لوگ مسلسل تحفظات کا اظھار کرتے رہتے ہیں۔ اس ضمن میں حکومت سندھ اور اینگرو کمپنی کا کردار بہتر ہونے کے باوجود سماجی رابطہ کاری میں فقدان کے باعث متنازعہ بنتا رہا رہے۔

مائننگ کے دوران بلاک 2 کی زمین سے نکالے گئے پانی کو ذخیرہ کرنے کے لیے بنائی گئی گوڑانو نامی ڈیم کی تعمیر پر مقامی باشندوں کا طویل احتجاج بھی اسی کمی کی نشاندہی کرتا ہے۔ مگر مجموعی طور پر یہ کالا سونا اس صحرائی علاقے کی تقدیر تبدیل کرنے جا رہا ہے۔ اسلام کوٹ اور آسپاس روزگار کے وسیع مواقعے پیدا ہونے لگے ہیں۔ زمینوں کی قدر و قیمت میں کئی گنا اضافہ ہورہا ہے۔ ملک بھر سے کاروباری افراد نے صحرائے تھر کا رخ کیا ہے اور آسپاس ترقی نظر آنے لگی ہے۔ نہ فقط تھر بلکہ پورے ملک کی تعمیر و ترقی میں یہ کالا سونا اجالا کرنے جا رہا ہے۔ یہ سونا کالا ہی سہی مگر ہے بہت قیمتی!

Facebook Comments HS