اب سُن لبرل لڑکی


توبہ توبہ تمہاری باتیں سن کر ہمارا دل چاہتا ہے کہ کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیں۔ تم بہت بے شرم ہو چکی ہو۔ تم جو نعرے لگاتی ہو انہیں سن کر ہمارا خون کھول اٹھتا ہے۔ تمہاری اتنی جرات کہ تم ہمارے معاشرے میں ہمی کو لتاڑنا شروع کر دو اور بے چاری نیک بیبیوں کو آگاہی کی صورت گمراہ کرو۔ یاد رکھو یہ مردوں کا معاشرہ ہے اور تم ٹھہری ناقص العقل، تمہاری گواہی بھی معتبر نہیں اور تم ہمیں پڑھانے چلی ہو۔

سنو اے لبرل لڑکی! تمہیں اندازہ بھی ہے کہ ہم جو تم پر پابندیاں عاید کرتے ہیں ان میں تمہارا کتنا فائدہ ہے۔ تم گھر سے باہر نکلنا چاہتی ہو حالانکہ باہر نکلنے میں کتنے خطرات ہوتے ہیں، باہر نکلو گی تو کسی بھی حادثے کا شکار ہو سکتی ہو۔ آوارہ، لوفر اور بدمعاش مردوں کے ہاتھ لگ سکتی ہو۔ ہم چاہتے ہیں کہ تم ان خطروں سے محفوظ رہو۔ اسی سے تمہیں سمجھ لینا چاہیے کہ ہم تمہارا کتنا خیال رکھتے ہیں۔ رہی بات بد طینت مردوں کی تو انہیں سمجھانے اور شرافت سکھانے کی ضرورت تو بالکل بھی نہیں کیونکہ مرد کی نیت میں فتور آ جائے تو وہ کسی کی نہیں سنتا۔ تمہیں ہی خود کو بچانا ہوگا۔

بہتر یہ ہے کہ تم ایسا لباس زیب تن کرو جس سے یہ اندازہ نہ لگایا جا سکے کہ اس لباس کے اندر کوئی لڑکی ہے یا کوئی اور مخلوق۔ ویسے لوہے کا لباس پہن کر باہر نکلو تا زیادہ بہتر ہے۔ مطلب یہ کہ جب چار پانچ سال بعد باہر کی آلودہ فضا میں سانس لینے لے لئے باہر نکلنا ہو تو وگرنہ باہر نکلنے کی قطعاً کوئی ضرورت نہیں۔ مزے سے گھر میں رہنا چاہیے ویسے بھی گھر کے بیڈ روم سے کچن کے بیسیوں چکر لگانے میں اچھی خاصی واک ہو جاتی ہے۔

یہ نادان لبرل جو مغرب کی آزاد عورت کو دیکھ کر تمہیں بھڑکاتے ہیں اصل میں تمہارے خلاف سازش کر رہے ہیں۔ تمہیں مشکلات میں ڈالنا چاہتے ہیں۔ بھلا گھر میں رہ کر تم غلام تھوڑی بن جاؤ گی۔ تم آزاد ہو گی، جو کھانے کو دل چاہے اپنے کچن میں بنا کر کھا لو، جو تمہارا دل چاہے لباس پہنو، نہانے کو دل چاہے تو نہا لو، دل نہ چاہے تو پورا ہفتہ نہ نہاؤ، سب کچھ تمہارے ہاتھ میں ہوگا۔ جبکہ باہر نکل کر نوکری کرو گی تو ٹائم پر آفس جانے کی پابندی، دیے گئے ٹاسک وقت پر مکمل کرنے کی پابندی وغیرہ۔ اسی طرح بہت ساری پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔

تم سمجھتی ہو کہ تمہاری رائے کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ وہ اس لئے نہیں ہے کہ تم خود باہر نکلتی ہو، گاڑی چلاتی ہو، تمہیں ٹائر بدلنا بھی آتا ہے۔ لیکن وہ باحیا لڑکیاں جو گھر میں رہتی ہیں انہیں ٹائر بدلنا تو نہیں آتا لیکن ان کی رائے کو مقدم سمجھا جاتا ہے۔ ہر مرد دفتر سے واپسی پر ایسی ہی لڑکیوں سے پوچھتے ہیں کہ آج کون سی سبزی لاؤں؟ اور یقین کرو ان کی مرضی کی سبزی ہی لے کر آتا ہے۔

شادی کے معاملے میں بھی ہر لڑکی سے رائے لی جاتی ہے، نکاح سے پہلے ہر نکاح خواں لڑکی سے اس کی مرضی معلوم کرتا ہے اور تم سمجھتی ہو کہ لڑکیوں کی پسند کے بغیر ہی ان کی شادیاں کر دی جاتی ہیں۔ پنچایتوں میں بعض اوقات کمسن لڑکیوں کی شادیاں بڑی عمر کے مردوں سے کر دی جاتی ہیں اس پر بھی اعتراض کی گنجائش نہیں ہے شاید تم نے بھی یہ تو سن رکھا ہو گا کہ ’مرد کبھی بوڑھا نہیں ہوتا‘ ۔

یہ جو تم باہر نکل کر خوار ہوتی ہو، اپنے لئے کپڑے، جوتے اور دیگر اشیا خریدنے کے لئے کتنی دکانوں کی خاک چھانتی ہو اس میں تمہارا ہی وقت ضائع ہوتا ہے جبکہ غیر لبرل لڑکیاں گھر میں مزے سے بیٹھی رہتی ہیں اور ان کے مرد ان کے لئے کپڑے وغیرہ خرید کر لے جاتے ہیں۔ وہ ان کی پسند کے مطابق ہوں یا نہ ہوں کم از کم وہ اپنے آپ کو ایک ملکہ کی طرح سمجھنے لگتی ہیں جن کی خاطر بادشاہ سلامت بازاروں میں خوار ہو رہے ہوتے ہیں۔

تم موزہ ڈھونڈنے سے گریزاں کیوں ہو، اول تو یہ کہ مردانہ موزہ ڈھونڈنا کون سا مشکل ہے۔ اپنی ناک کو استعمال کر کے تم چند سیکنڈ میں موزہ ڈھونڈ سکتی ہو۔ دوئم یہ کہ موزہ ڈھونڈنے میں تمہارا اپنا فائدہ ہے اس طرح تم مرد کو احساس دلا سکتی ہو کہ وہ موزہ ڈھونڈنے کے بھی قابل نہیں ہے۔

طلاق یافتہ اور خوش والی بات بھی ٹھیک نہیں ہے۔ تمہاری عقل پر ماتم کرنے کو دل چاہتا ہے۔ اگر ایسا کرو گی تو مردوں کو کھلی چھٹی مل جائے گی۔ وہ ایک لڑکی کو طلاق دے کر دوسری سے شادی کر لیں گے اور دوسری کو طلاق دے کر تیسری سے۔ اس طرح یہ سلسلہ چلتا رہے گا۔ تمہیں چاہیے کہ ایک بار کسی مرد سے شادی ہو جائے تو مرتے دم تک اس کی جان نہ چھوڑو۔ تاکہ وہ محض دو چار عورتوں تک محدود رہے۔ ہاں ادھر اُدھر منہ تو مار سکتا ہے لیکن کم از کم گھر میں تو ایک کے بعد ایک نئی لڑکی نہیں لا سکے گا۔

اگر تمہارا خاوند مار پیٹ کرتا ہو یا تمہیں بے عزت کرتا ہو تم پر لا تعداد پابندیاں لگا کر یہ احساس دلاتا ہو کہ تم جانور سے بھی بد تر ہو تو ایسی صورت میں یہی بہترین انتقام ہے کہ اس سے چمٹی رہو۔ ایسی لڑکیاں ہی جنت میں جائیں گی۔ لہٰذا آزادی کی خواہش چھوڑو اور مرد کو اپنا آقا بنا کر مزے کرو۔

Facebook Comments HS