میڈیا کے گاڈفادر سوشل میڈیا پر آن پہنچے
بچپن میں کرکٹ کا بہت شوق تھا۔ اتوار والے دن صبح سویرے اٹھتے نہار منہ گیند بلا پکڑتے اور میدان کی طرف نکل جاتے۔ راستے میں باقی ٹیم ممبرز کے گھر کا دروازہ کھٹکھٹاتے اور دور جا کر کھڑے ہوجاتے اگر ہمارا کوئی ”کھلاڑی“ دروازہ کھولتا تو اس کو بھی ساتھ ملا لیتے اور اگر اس کے ماں باپ میں سے کوئی نکل آتا فوراً بھاگ جاتے۔
یہی عمل باقی دوستوں کے ساتھ دہرایا جاتا
کچھ جنونی دوست ایسے بھی تھے جو اپنی مقررہ جگہ پہ موجود ہوتے اس طرح اپنی ٹیم مکمل کرتے اور میدان میں پہنچ جاتے۔ جیبوں سے سکے برآمد کر کے ٹیپ خریدتے۔ اور ایک دوسرے کو چیلنج کر کے چھکے مارنے کا کہتے۔ اس کے بعد ہم سب مختلف سمت میں نکل جاتے اور اینٹیں جمع کرکے وکٹ تیار کرتے۔ وکٹ کے دونوں اطراف آدھی اینٹ رکھ کے وائیڈ بالز کی نشاندہی کی جاتی جبکہ باولر سائیڈ میں جوتے رکھ کر ہی کام چلا لیا جاتا
اسکے بعد کھلاڑیوں کی تعداد کے مطابق دو ٹیمیں بنا دی جاتیں اگر کوئی کھلاڑی اضافی ہوتا تو اس کو ریلوکٹہ ڈکلیر کرکے دونوں ٹیمز میں کھلایا جاتا۔ ٹیپ خریدنے کے بعد ٹاس کرنے کے لیے چوّنی اٹھّنی بھی قسمت سے نکلتی۔ زیادہ تر کسی کی ہوائی چپل سے ہی ٹاس کر لیا جاتا
مگر!
جب میچ شروع ہوتا تو ”بڑے“ لڑکوں کی ٹیم پہنچ جاتی اور ہمیں میدان سے بے دخل کر دیتے۔ ہم چونکہ ابھی بچے تھے اور مزاحمت نہیں کرسکتے تھے اس لیے اپنی ساری محنت بھول کر ”باہر“ بیٹھ جاتے اور بے بسی سے اپنے بلے بغل میں دبائے ان ”بڑے لڑکوں“ کا میچ دیکھتے رہتے کہ جب یہ کھیل کر چلے جائیں گے تو ہم کھیل لیں گے مگر ایسا کبھی نہیں ہوتا تھا۔ سارا دن وہی کھیلتے رہتے اور ہم ایک سائیڈ پہ بیٹھ جاتے یا اگر کوشش کرکے ایک طرف اپنا میچ لگانے کی کوشش بھی کرتے تو ان سے جھڑکیں یا مار پڑ جاتی کہ ”دفع ہوجاؤ۔ کوئی گیند شیند لگ گئی تے روندے پھرو گے۔ ( وڈے آئے کھلاڑی)
تب غصہ بھی بہت آتا تھا مگر کچھ نہیں کرسکتے تھے۔ اپنی ٹیم۔ کے ساتھ مشاورت کرتے کہ چلو شام کو کھیلیں گے۔ کھیلنے کی جگہ بھی ڈیسائیڈ ہو جاتی۔
میرے گھر کے سامنے ایک لڑکیوں کا سکول ہے۔ ہمارے بچپن میں وہاں گراونڈ ہوا کرتا تھا۔ لیکن آج وہاں کمرے بنانے کہ خاطر بلڈنگز بنا دی گئیں۔ اب گراونڈ نہیں بلکہ یادیں باقی رہ گئی ہیں۔ سکول میں بیری کے 2 درخت بہت گھنے تھے جن سے خوف آیا کرتا تھا۔
بہرحال پروگرام بنتا کہ شام کو سکول میں ہی کھیل لیں گے۔ دوپہر 4 بجے ہی جب ہم اپنا بلا بغل میں دبائے ٹیم کو اکٹھا کرکے سکول کی پچھلی دیوار پھلانگ کر اندر جاتے۔ وکٹ وغیرہ تیار کرتے ٹاس کرنے کے بعد ایک ٹیم سکور بنا لیتی تب دوبارہ سے ”بڑے کھلاڑی“ ٹپک آتے۔
پھر وہ ہی جھڑکیاں پڑتیں اور دوبارہ سے گراونڈ چھوڑنا پڑتا۔ اور ہم پھر سے ان کے جلدی چلے جانے کی دعائیں کرتے۔ اور دل ہی دل میں غصہ کرتے۔ کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا تھا کہ ”بڑے کھلاڑی“ ہمیں اپنے ساتھ کھلا لیتے تھے لیکن فیلڈنگ ہی کراتے تھے۔ اگر جب سب آوٹ ہو جائیں تب کہیں جا کر ہماری باری آتی لیکن ایسا کبھی نہیں ہوتا تھا۔ یا تو آخری گیند ہمیں کھلائی جاتی یا پرائی جیت کے جشن میں زبردستی شامل ہونا پڑتا تھا۔
دوسری طرف یہی حال سوشل میڈیا پر اکثر دیکھنے کو ملتا ہے۔ الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے وہ لوگ جو سارا دن ٹاک شوز اور اپنے کالمز میں سوشل میڈیا کو بدتمیز اور شریر بچے سے تشبیہ دیا کرتے تھے آج وہی لوگ یہاں اپنی عقل و دانش کے موتی بکھیر رہے ہیں۔ پرائیویٹ چینلز کے نامور لوگ اپنے اپنے مفادات اور ریٹنگ کی جنگ لڑنے یہاں آپہنچے ہیں۔
میڈیا کے ”گارڈفادر“ جنہوں نے اخبارات سے ابتدا کی اور اپنے چینلز بنا کر طاقت، شہرت اور پیسے کی نئی بلندیوں کو چھوا اب وہ سوشل میڈیا کو بھی تسخیر کرنا چاہ رہے ہیں
اخبارات اور چینلز میں لکھنے والے پروفیشنل ”بڑے لڑکوں“ نے سوشل میڈیا پر شروع دن سے شوقیہ اور مفت لکھنے والوں کو ”باہر“ بٹھا دیا ہے جن لوگوں نے فیس بک کی پچ تیار کی اور نامساعد حالات میں بھی ڈٹے رہے وہ بیچارے اپنے قلم بغل میں دبائے ان کا میچ دیکھ رہے ہیں مگر کچھ نہیں کر سکتے۔
اگر کوئی ایک سائیڈ پہ اپنا میچ لگانے کی کوشش بھی کرتا ہے تو کسی بڑے لڑکے سے جھڑکیں یا مار پڑ جاتی ہے کہ دفع ہوجاؤ ”وڈے آئے دانشور“


