مرد کی جمع کیا ہے؟
مرد و زن کی کسی مخلوط مجلس میں ایک مرد بڑے طمطراق کے ساتھ چیلنج کرنے لگا کہ خاتون کی جمع تَو خواتین ہے لیکن کوئی مائی کا لال مرد کی جمع ڈھونڈ کر لائے۔ اس پہ ایک معزز خاتون تُرنت بولی: ”مردود۔ “ اب خداجا نے، مرد کی جمع نہ ہو نے کی طرف اشارہ کرنے سے اس نا ہنجار مرد کا مقصد کیا تھا؟ بہرحال اتنی سی بیوقوفی کر کے وہ کُلہم مرد قبیلے کے ماتھے پر کلنک کا ٹیکہ لگوا بیٹھا۔ کچھ اسی قسم کی صورتحال سے ہم بھی آج کل نبرد آزما ہیں۔ مسئلے کا حل بھی سمجھ نہیں آ رہا اور مذکورہ لطیفے میں جنسِ مخالف کا فی البدیہہ جواب ذہن میں آتا ہے تَو کسی سے پو چھنے کی ہمت بھی نہیں ہو رہی۔
فکر نہ کیجئے، معاملہ کو ئی نیا نہیں بلکہ اُسی ”عورت مارچ“ کا ہے، جس کی باز گشت ابھی بھی سوشل میڈیا پر سنائی دے رہی ہے۔ یہ تَو کہا جا سکتا ہے کہ اس مارچ کے دوران عورت کی طرف سے جو بیانیہ پیش کیا گیا، وہ اتنا سطحی اور غیر مستحکم تھا کہ اس کے آسرے عورت کو درپیش مسائل میں بال بھر کمی اور عورت کی موجودہ حالت میں ذرہ بھر بہتری تَو کیا، اُلٹا عورت کا رہا سہا وقار بھی مجروح ہوتا نظر آ رہا تھا۔ یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ آج مرد کی جگہ عورت ہی عورت کا استحصال کرنے کے لیے پرتول رہی ہے۔
یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ صدیوں سے استحصال زدہ عورت اب استحصال کی اتنی عادی ہو چکی ہے کہ اسے یہ احساس ہی نہیں ہو رہا کہ مرد کی جگہ اب کوئی ”اور“ اس کا استحصال کرنے جا رہی ہے۔ ان سب با توں کا امکان ہے۔ لیکن اس حقیقت سے منہ نہیں پھیرا جا سکتا ہے کہ اس معاشرے میں عورت کو اپنی پہچان اور اپنے وجود کے حوالے سے کوئی سنجیدہ اور خطرناک مسئلہ ہی درپیش نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہم پلے کارڈز کے بیانیے کو غلط نہیں بلکہ سطحی اور غیر مستحکم کہہ رہے ہیں۔
کاش کہ عورت مرد کی برتری اور اپنی کمزوری کا یہ مسئلہ بطور عورت حل کرنے کی کوشش کرتی لیکن یہاں گنگا اُلٹی بہہ نکلی۔ عورت کو محسوس ہو نے لگا کہ مرد کی نقّالی میں ہی اس کے معاشرتی مسائل کا حل پوشیدہ ہے۔ وہ یہ سمجھنے لگی ہے کہ اگر وہ مرد کی طرح بیٹھنے لگے گی تَو مرد پہ اُس کی برتری نہ سہی برابری تَو قائم ہونے لگے گی۔ اُسے لگ رہا ہے کہ مرد سڑکوں کے کنارے جو بیہودگیاں کر تا ہے، اگر وہ بھی انہی بے ہودگیوں کو اپنائے گی تَو مرد کے برابر کھڑی ہو سکے گی۔
موزے کی تلاش اور گرم سالن جیسے معمولی مسئلے بھی اگر عورت ڈے پر سامنے آئے ہیں تَو یہ مردوں کے لیے بہت بڑا لمحۂ فکریہ ہے۔ یہاں اصل غلطی عورت کی نہیں۔ اگر مرد اپنے دعوے کے مطابق واقعی مضبوط بدن اور طاقتور اعصاب کا مالک ہے تَواسے ان چھوٹی چھوٹی چیزوں میں عورت کا دستِ نگر ہو نا ہی نہیں چاہیے تھا۔ کچھ تَو ”غیرت“ کا مظاہرہ کرنا چاہیے تھا۔ اسے کبھی تَو پانی خود پینا چاہیے، کبھی تَو سالن خود گرم کر نا چا ہیے، کبھی تَو اپنے موزے خود ڈھونڈنے چاہیئیں اور کبھی تَو اپنا بستر خود گر م کر نا چاہیئے۔ جو مرد ایسے طعنے سُن کر بھی ہوش کے ناخن نہ لے، اُسے کچھ تَو ”شرم“ کرنی چاہیے۔
”کھا نا خود گرم کرو“ کے ”زنانہ“ وار سے بچنے کے لیے ”پنکچر خود لگا ؤ“ کا ”مردانہ“ وار بے حد مضحکہ خیز اور ”بے غیرتانہ“ ہے۔ ایسے اوچھے جوابی وار سے اللہ کی پناہ۔ بچپن سے سنتے آئے ہیں کہ اپنے کام خود کرنے سے اللہ خوش ہو تا ہے لیکن یہی بات اگر ایک عورت کہے تَو ہماری غیرت کُرلانے لگتی ہے۔ میں تَو مردوں کو یہی مشورہ دُوں گا کہ ہٹ دھرمی سے کام نہ لیں۔ غیر دانشمندانہ غیرت مندی کی بجائے دانش مندانہ مصلحت پسندی کا مظاہر ہ کریں اور ”آؤ! کھانا ساتھ بنائیں“ کی ”زنانہ“ دعوت قبول کر لیں۔ ورنہ نوبت کہیں ”اپنا کھا نا خود گرم کرو“ سے ”اپنا کھانا خود بناؤ“ تک نہ پہنچ جا ئے۔
تعلیم کی مانگ اور جہیز سے انکار کا پلے کارڈ پورے مارچ کا مضبوط ترین پیغام تھا۔ ایک عورت اپنے باپ یعنی ایک مرد سے اس سے زیادہ مناسب اورمعقول مطالبہ اور کیا کر سکتی ہے؟ تعلیم کی جہیز پر فوقیت صدیوں سے مسلمّہ ہے۔ لیکن حیرت ہے کہ عورت آج کے اس جدید ترین دور میں بھی اس معمولی مطالبے کو منوانے کے لیے پلے کارڈ اُٹھائے کھڑی ہے۔ آج کے دور کی بیٹی کا یہ مطالبہ مردوں کے منہ پر زنّاٹے دار تھپّڑ نہیں تَو اور کیا ہے؟
عورت ڈے پر ماں بہن کے ایک ہو نے پرجو لوگ تیوری چڑھا رہے ہیں، کیا وہ اس بات کا جواب دینا مناسب سمجھیں گے کہ آخر ماں اور بہن کے مقدس رشتوں کو جب گالی میں ڈھالا جا رہا تھا تَو اُس وقت مرد کی غیرت کیوں سو رہی تھی؟ کبھی کسی غیرت مند ترین مرد کوبھی یہ جرأت ہو ئی کہ وہ ماؤں اور بہنوں کے ناموں پر دی جا نے والی گالیوں کے خلاف احتجاج ریکارڈ کرائے۔ آج اگر عورت ہمت کر کے اس میدان میں اُتری ہے تَو اسے ایک اور گالی نہ دیجئے بلکہ اپنی عادات سنواریے۔ ماں بہن ایک کرنی چھوڑیے اور یہ حرکت مستقل چھوڑ دیجئے تاکہ آنے والے عہد کی تاریخ میں یہ نشان تک نہ ملے کہ کبھی یہ مقدس ترین رشتے گالی بھی ہوا کرتے تھے۔
جس معاشرے میں مرد کے چَڈّے کا سائز کم ہو تے ہو تے گھٹنوں سے اُوپر تک جا پہنچے، مرد کا ٹراؤزر ایسا ہو کہ پوشیدہ عضو کی نشاندہی سے مانع نہ ہو سکے، جینز ایسی تنگ اور نیچے کَسی ہو کہ فرش پہ بیٹھنے، جھکنے یہاں تک کہ سجدے میں بھی بے پردگی کا احتمال ہو، ایسے بے حس معاشرے میں عورت یہ آواز بلند کر ے کہ ”میری قمیض چھوٹی نہیں، تمہاری سوچ چھوٹی ہے“ تَو یہ کہاں اچنبھے کی با ت ہے؟ مردانہ لباس کی یہ بیہودگیاں پورے سماج میں عیاں ہیں۔
افسوس تَو اس بات کا ہے کہ اس پر کبھی کسی مرد بالخصوص باپ نے بھی احتجاج نہیں کیا۔ کیا باپ نہیں دیکھتا کہ اُس کی بیٹیوں کے سامنے اُس کے بیٹے کس لباس میں ہیں؟ آج بیٹی جو کچھ کر رہی ہے، وہ بیٹے کو ملنے والی لامحدود چھُوٹ کا ردِّ عمل ہے۔ مرد نہ طریقے سے بیٹھے، نہ سلیقے سے پہنے اور نہ تمیز سے بو لے۔ اس حالت میں عورت سے کیسے تقاضا کیا جا سکتا ہے کہ وہ طریقے اور سلیقے کا غیرمشروط مظاہرہ کر تی رہے۔ عورت بھی آخر اسی معاشرے کا آدھا ہے، جس کا مرد بدتمیز، بے حیا، بد زبان اور ”بے غیرت“ ہو رہا ہے اور ہو تا ہی جا رہا ہے۔
عورت کے حالیہ احتجاج نے ہماری تَو آنکھیں کھول دی ہیں۔ عورت اپنے سماجی اور وجودی مسائل کاحل مرد کی نقّالی میں تلاش کر نے کے لیے نکل کھڑی ہو ئی ہے۔ موجودہ عہد کے معروضی حالات بالخصوص سوشل میڈیا کے ہوتے ہوئے عورت کی راہ میں رکاوٹ بننا اب بہت مشکل بلکہ ایک حد تک ناممکن ہے۔ ان حالات میں مرد کو دانشمندی کا ثبوت دینا ہو گا۔ اسے چند قدم واپس پلٹنا ہو گا۔ وہ اپنے آپ کو عورت سے ایک درجہ بلند مقام پر تصور کر تا ہے تَو اسے دانشوری میں بھی ایک درجہ آگے آنا ہو گا۔
اُسے سمجھ لینا چا ہیے کہ آج کی عورت اپنی تباہی کی قیمت پر بھی اس کی نقّالی کرنے کو تیار ہے۔ اس لئے دانشمندی یہی ہے کہ مرد اپنی حدود کو محدود کر لے۔ اپنی زبان پر قابو پا نا شروع کرے۔ اپنے لباس پر نظرِ ثانی کرے۔ اپنے روّیے تبدیل کرے۔ عورت کا احترام اپنی ماں، بہن، بیوی اور بیٹی ہو نے کے ناطے نہیں بلکہ ایک عورت ہونے کے ناطے اس کا احترام کرنا شروع کر ے۔ اگر اس نے ایسا نہ کیا تَو رہے گا وہی ”مردود“ کا ”مردود“۔


