بائیں بازو کے لئے چند تجاویز


بائیں بازو کی سیاست سے پہلا تعارف 2002 میں ہوا۔ لاہور میں لیبرپارٹی کے سربراہ فاروق طارق سے ملاقات کسی سوشلسٹ یا کمیونسٹ رہنما سے زندگی کی پہلی ملاقات تھی۔ بہت اچھا لگا۔ خوب صورت باتیں۔ انقلاب، انسانیت، عوام دوستی، انسان دوستی، مزدور، کسان، ہاری اور خط غربت سے نیچے زندگیاں بسر کرنے والوں کے لئے نئی زندگی اور سہولیات کے خواب، سرمایہ داری، جاگیرداری کے خاتمہ کی جدوجہد سمیت اور بہت سی باتوں سے میرے اندر کا سوشلسٹ جاگ اٹھا۔

تحریک منہاج القران کی رفاقت، طاہر القادری کی عقیدت اورمصطفوی انقلاب کا سفر تمام کر کے ایک نئے انقلاب، سوشلسٹ انقلاب کا راہی بن گیا۔ کامریڈ فاروق طارق سے رفاقت زیادہ دیر نہ رہ سکی۔ روزنامہ خبریں لاہور سے روزنامہ جناح اسلام آباد شفٹ ہونا پڑا۔ اسلام آباد میں صحافی دوست رانا ابرار نے ڈاکٹرلال خان کی طبقاتی جدوجہد سے جوڑ دیا۔ وہاں یہ سیکھا کہ نجات کا واحد راستہ سوشلسٹ انقلاب ہے۔ تنظیم نظریہ اور نظریہ اور آخر میں نظریہ ہوتی ہے۔

تنظیم انٹرنیشنل ہوتی ہے۔ انٹرنیشنل کا ترانہ بھی گایا جاتا ہے۔ کچھ عرصہ بعد طبقاتی جدوجہد تقسیم ہوئی تو چودھری منظور گروپ انقلابی جدوجہد کے ساتھ جانا ہوا۔ انقلاب پوری آب و تاب سے جاری تھا کہ ڈاکٹر تیمور رحمان کی نئی پارٹی درمیان میں آئی۔ جس کی صرف ایک میٹنگ میں برداشت کیا گیا۔ فاروق طارق سے رابطہ پھر سے بحال ہوا۔ عوامی ورکرز پارٹی اسلام آباد اور راولپنڈی کے اجلاس میں شرکت شروع ہوئی۔ عمار رشید، عالیہ امیر علی، عصمت شاہ جہاں، سجاد عاصم، ڈاکٹر فرزانہ باری، طوبیٰ سید، آمنہ معاذ سمیت تمام کامریڈز کمیونسٹ اپنی پارٹی نہیں بناتے کے برعکس پارٹی کی تعمیر کے لئے پوری دلجمی کے ساتھ مصروف جدوجہد نظر آئے۔

پارٹی کی الیکشن کمیشن میں رجسٹریشن کا مطلب ہے کہ موجودہ نظام کے ساتھ سمجھوتہ کرتے ہوئے انقلاب بذریعہ بیلٹ پیپرز لانے کی جدوجہد کی جائے گی۔ نئی حکمت عملی قابل قبول ٹھہری، مگر عوامی ورکرز پارٹی میں کامریڈز نے کام کا طریقہ تبدیل کرنے کی بجائے قبل از پارٹی کی تعمیر کے تنظیمی رویے اور طریقہ کار پر سختی سے کاربند رہنے کا فیصلہ برقرار رکھا۔ فرزانہ باری اور راقم نے عمومی ممبرشپ اور عوام کے پاس جانے کا موقف اپنایا مگر یہ موقف طوطی کی آواز ثابت ہوا۔

پارٹی اجلاس میں کوئی تجویز یا رائے کا اظہار کیاجاتا تو نفی میں سر ہلتے نظر آتے۔ جس سے گھٹن سی محسوس ہونے لگی۔ آخر کار نتیجہ اجلاسوں میں عدم شرکت کی صورت میں برآمد ہوا۔ بائیں بازو کی سیاست سے جو سبق سیکھا اولین یہ کہ نجات کا واحد راستہ سوشلسٹ انقلاب نے تقلیدپسندی اور عقیدہ پرستی کو جنم دیا ہے۔ انقلاب جامد نہیں ہوا کرتے۔ انقلاب اپنے عہد کے ہوا کرتے ہیں۔ دوسرا تنظیم نظریہ اور نظریہ اور آخر کار نظریہ کی بجائے حکمت عملی، حکمت عملی اور حکمت عملی ہوتی ہے۔

تنظیم آج کے عہد میں انٹر نیشنل نہیں، انٹر نیشنل انڈراسٹنڈنگ یعنی بین الاقوامی تفہیم پر استوار ہوگی۔ تناظر بنانے کے لئے غیرملکی کامریڈ کے مضامین کے تراجم کی ضرورت نہیں ہے۔ تخلیق کی ضرورت ہے اور ملکی تہذیب و تمدن سے ہم آہنگ تناظر ہی پارٹی یا تنظیم کے لئے سود مند ثابت ہو سکتا ہے۔ لگے بندھے اصول ہر موقع اور عہد میں کارآمد ثابت نہیں ہو سکتے ہیں۔ تنظیم اور سیاسی پارٹی کے کام میں بہت فرق ہے۔ اگر سیاسی جماعت بنا کر بھی پارٹی نے تعمیری مراحل سے ہی گزرنا ہے تو پھر ابھی پارٹی بنانا ضروری نہیں۔

بائیں بازو کی سیاست کا یہ المیہ ہے کہ تنظیمیں پھیلنے کی بجائے سکڑ رہی ہیں۔ سیاسی جماعتیں سمٹ کر چند لوگوں کی تفریح طبع کا سامان بن کر رہ گئی ہیں۔ انٹرنیشنل ازم بھی ناکام، نظریہ بھی ناکام، جدوجہد بھی ناکام، سیاست بھی ناکام میلے، سمینارز اور کانفرنسز کامیاب ہیں۔ ایسا کیوں ہے۔ اس کے اسباب کیا ہیں۔ وجوہات کیا ہیں۔ اس پر سنجیدگی سے سوچنے کی ضرورت ہے۔ میرے تحفظات کا جواب دینا ضروری نہیں ہے۔ اپنی صفیں درست کرنا زیادہ اہم ہے۔

چندعام سی تجاویز ہیں اگر طبع نازک پر نہ گراں گزریں۔ سسٹم سے سمجھوتہ کرنے والی بائیں بازو کی پارٹیوں کو روایتی طریقہ اپنانے کی ضرورت ہے۔ عام ممبرشپ کریں۔ ہر ممبر کو سوشلسٹ بنانے کی ضرورت نہیں ہے اور نہ بنایا جا سکتا ہے۔ پارٹی کی صرف بالا پرت یعنی پالیسی ساز یا فیصلہ ساز ادارے میں نظریات کو مقدم رکھا جائے۔ باقی کلی طور پر روایتی طریقے سے پارٹی امور کو چلایا جائے۔ خالص عوامی انداز اپنایا جائے۔ نظریہ نہیں حکمت عملی ضرور تبدیل کرتے رہا کریں بلکہ ہر 6 ماہ بعد حکمت عملی پر غور کیا جائے کہ اختیار کردہ حکمت عملی کے نتائج حسب توقع ہیں۔ اگر نہیں تو تبدیل کی جائے۔ جو حکمت عملی تبدیل نہیں کرتے، وہ خود بھی نہیں بدلتے۔ نظام بدلنا تو دور کی بات ہے۔

Facebook Comments HS