عورت مارچ: کوئی نیا بیانیہ تشکیل پا رہا ہے؟
گویا لڑکیوں کے چہروں کو تیزاب سے جھلسا دیا جائے اور کوئی اس پر اف تک نہ کہے۔ عجیب منطق ہے! منٹو پر اعتراض اٹھا کہ وہ اپنی کہانیوں کے ذریعے معاشرے کی غلط تصویر پیش کرتا ہے۔ اس پر افسانہ نگار کو کہنا پڑا کہ بھئی، میں تو معاشرے کی تصویر پیش کرتا ہوں، اگرآپ کو یہ بات پسند نہیں تو اس معاشرے کا چہرہ بدل دیں۔ مرد حضرات ان پلے کارڈز کی عبارتوں کی تہہ میں اترنا نہیں چاہتے اس لئے کہ ان کے نیچے اندھیرا ہے اور انسان اندھیرے سے ڈرتا ہے۔ خوف تو آئے گا کیونکہ پدری اجارہ داری کو چیلنج کیا گیا ہے۔
جو ملک صنفی امتیاز کے حوالے سے دنیا کا دوسرا بڑا ملک ہو، وہاں اگر عورت مارچ ہو گیا تو کون سی قیامت برپا ہو گئی۔ یقین نہیں آتا تو تین ماہ قبل ورلڈ اکنامک فورم کی ’گلوبل جینڈر گیپ انڈیکس‘ کی رپورٹ اٹھا کر دیکھ لیں۔ پاکستان بین الاقوامی سطح پر یونیورسل ڈیکلیریشن آف ہیومن رائٹس، بیجنگ پلیٹ فارم فار ایکشن اورسسٹین ایبل ڈویلپمنٹ گولزکی توثیق کر چکا ہے جبکہ ملکی سطح پرنیشنل پالیسی فارڈویلپمنٹ اینڈ ایمپاورمنٹ آف ویمن، پروٹیکشن اگینسٹ ہراسمنٹ آف ویمن ایٹ ورک پلیس ایکٹ، نیشنل پلان آف ایکشن آن ہیومن رائٹس سمیت دیگر کئی قوانین اور اقدامات پر عملداری کا عہد کر چکا ہے مگر اس سب کے باوجود بھی کوئی ٹھوس نتیجہ سامنے نہ آئے تو خواتین کا سڑکوں پر آنے کا جواز موجود ہے۔
عورت مارچ پر تنقید کرنے والوں کو یہ کہہ کر خاموش کروایا جا سکتا ہے کہ وہ محض پلے کارڈز کے الفاظ کی سطحی معنوں میں الجھ کر نہ رہ جائیں۔ یہ سلوگن خواتین کو درپیش مسائل کا علامتی اظہار بھی تو ہو سکتے ہیں جو خواتین کے گوناگوں مسائل کی سنگینی واضح کررہے ہیں۔ آج کی نوجوان نسل سوشل میڈیا پر بھی کچھ اس قسم ہی کی زبان استعمال کرتی نظر آتی ہے۔ زبان کتنی ہی لایعنی او رلغوکیوں نہ ہو، اس کی آڑ لے کراصل مسئلہ کو چھپایا نہیں جا سکتا، جبکہ یہ زبان تو اتنی لغو بھی نہیں۔ تیس چالیس نعروں میں پانچ سات نعرے روایت سے ہٹ کر سامنے آئے ہیں تو کیا ہوا۔ لہجہ طنزیہ اور اسلوب ظریفانہ ہو جائے تو اصل مسئلہ اوجھل نہیں ہوجاتا بلکہ بعض اوقات اور بھی زیادہ اجاگر ہو جاتا ہے۔ اس لسانی معاملے کو کومک رئیلزم کے کھاتے میں ڈال دیں تو شاید بات سمجھنے میں کچھ آسانی پیدا ہو جائے۔
یہ بھی ہوتا ہے کہ جب معاشرے کے اجتماعی لاشعورمیں ہونے والی گڑ بڑ اوپر کی سطح پر آ جاتی ہے تو اسے گرفت میں لانے کے لئے اس طرح کی زبان کے استعمال کا امکان پیدا ہو جاتا ہے۔ اگر اس بات کو نہ بھی مانا جائے توکم از کم ہم کسی سے اس کے وسیلہ اظہار کا حق نہیں چھین سکتے۔ یعنی سنگین بات لائٹ موڈ میں کیوں نہیں کی جا سکتی۔ لہٰذا اگر ’مجھے کیا معلوم تیرا موزہ کہاں ہے، تیرے اور میرے پھیپھڑے سیم سیم‘ کہا گیا ہے تو یہ مزاحیہ بات نہیں بن گئی۔ خواتین کے ساتھ صنفی امتیاز، گھریلو تشدد اور جنسی ہراسانی کو ان الفاظ سے بڑھ کرکیسے نمایاں کیا جا سکتا ہے؟
پلے کارڈز میں احتجاج کرنے والی خواتین اور ٹین ایجر لڑکیوں کی معصومانہ مگر حقیقت پسندانہ زبان میں غصے اور جھنجلاہٹ کا رنگ نمایاں سہی مگر اس سے سماجی گھٹن، جبر، صنفی امتیاز اور ہراسانی کے مسائل زیادہ احسن طریقے سے اجاگر ہوگئے۔
زبان کے کئی شیڈز ہوتے ہیں اور اس میں ہر طرح کے نظریات، جذبات، احساسات کو کسی بھی انداز میں بیان کرنے کی گنجائش ہوتی ہے۔ جہاں الفاظ کا استعمال بوجوہ نہ کیا جائے وہاں تصویر یا کسی علامت یا میڈیم کا سہارا لیا جا سکتا ہے۔ لیکن اس میں اپنا ما فی الضمیر بیان کرنے والے کی بات کو ہر طرح کے تعصبات ایک طرف رکھ کر ہمدردی سے سننا شرط ہے۔ اور چونکہ موجودہ کیس میں ہم ایسا نہیں کر سکے اس لئے عورت مارچ میں شریک خواتین ہمیں فحاشی پھیلانے والی گنہگارعورتیں نظر آ رہیں ہیں۔ اگرحقوق نسواں کے معاملے پر ہم اپنا مائنڈ سیٹ بدلنے کو تیا رنہیں تو پھر سمجھ لیں کہ یہ گنہگار عورتیں درست کہتی ہیں :
یہ ہم گناہگار عورتیں ہیں کہ سچ کا پرچم اٹھا کے نکلیں
تو جھوٹ سے شاہراہیں اٹی ملی ہیں
ہر ایک دہلیز پہ داستانیں رکھی ملی ہیں
جو بول سکتی تھیں وہ زبانیں کٹی ملی ہیں
یہ ہم گناہگار عورتیں ہیں
کہ اب تعاقب میں رات بھی آئے تو یہ نہیں بجھیں گی
کہ اب جو دیوار گر چکی ہے، اسے اٹھانے کی ضد نہ کرنا
یہ ہم گناہگار عورتیں ہیں
جو اہل جبہ کی تمکنت سے نہ رعب کھائیں، نہ جان بیچیں، نہ سر جھکائیں، نہ ہاتھ جوڑیں





