عورت مارچ: کوئی نیا بیانیہ تشکیل پا رہا ہے؟
آٹھ مارچ کو پاکستان میں عالمی یوم نسواں پر عورت مارچ جہاں نسوانی حقوق کے حقیقی علمبرداروں کی جدوجہد کو بڑھاوا اور ارباب فکر و دانش کو سوچ کی نئی راہیں دے گیا وہیں رجعتی اخلاقیات اور گھسی پٹی سماجی و خاندانی روایات کے حامیوں کو شدید نفسیاتی جھٹکے بھی محسوس ہوئے۔ اس دن نے نام نہاد لبرلز اور کلین شیو ملا حضرات کے زن کش ذہنی رویوں کا بھانڈا پھوڑ دیا تو کئیوں نے عور ت مارچ میں شامل نوجوان لڑکیوں کی تصاویر اور ہاتھوں میں پکڑ ے پلے کارڈز کی تحریروں سے جنسی تلذذ بھی کشید کر لیا۔
اس دن کی اہمیت کو محسوس کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے اپنے ٹویٹ میں خواتین کے لئے محفوظ اور سازگار ماحول فراہم کرنے کے عہد کی تجدید کی مگر دوسری طرف دنیا نے یہ بھی دیکھا کہ تحریک انصاف ہی کی حکومت نے یوم نسواں کے اشتہار سے ملک کی دو بار وزیر اعظم بننے والی بے نظیر بھٹو کا نام، تصویر اور ذکر تک نکال دیا جس پر پیپلز پارٹی نے سینیٹ کی کارروائی کا بائیکاٹ کر دیا۔
لاہور، کراچی، اسلام آباد، پشاور، حیدرآباد، گوجرانوالہ سمیت ملک کے کئی شہروں میں منایا جانے والا یہ یوم نسواں اس لحاظ سے منفرد اور بھرپور رہا کہ پہلی بار نئے نعروں اور نئے نسائی مطالبوں کی وجہ سے زیادہ موضوع بحث رہا اور اس پر شدید تنقید کی گرد ابھی نہیں بیٹھی۔
مسئلہ یہ نہیں کہ ہر طبقے کی خواتین اور ٹین ایجر لڑکیاں مردوں کے خلاف سڑکوں پر کیوں آ گئیں بلکہ اصل معاملہ یہ ہے کہ آخر وہ یہ کیوں کہہ رہی ہیں کہ ’مجھے ٹائر بدلنا آتا ہے، یہ سڑک اتنی ہی میری ہے، جتنی تمہارے باپ کی ہے، آوارہ نہیں آزاد ہوں، میری شادی نہیں، آزادی کی فکر کرو، عورت بچہ پیدا کرنے کی مشین نہیں‘ وغیرہ وغیرہ۔
مردوں کا اعتراض ہے کہ خواتین ہمیں مخاطب کرتے ہوئے یہ نہ کہیں کہ ’اگر دوپٹہ اتنا پسند ہے تو خود لے لو، نظر تیری گندی اور دوپٹہ میں کروں، مجھے کیا معلوم تیرا موزہ کہاں ہے، میری غیرت میرا مسئلہ۔ ‘ مرد وں کو یہ سننا اس لئے گوارا نہیں کہ ایسے نعروں نے پدری معاشرے پر گہری ضرب لگائی ہے، نام نہاد مذہبی اخلاقیات کا بھانڈا پھوڑ دیا ہے، صدیوں سے مسلط غلط سماجی روایات کی تقدیس کو چیلنج کیا ہے، اور روایتی خاندانی نظام اور ازدواجی بندھنوں کی تہہ میں کارفرما عورت کش بیانیہ کو سر بازار ننگا کر دیا ہے۔
گویا اس عور ت مارچ نے مذہبی، سماجی، ثقافتی، نفسیاتی حوالوں سے معاشرے کے اندرونی تضادات کو نمایاں کر کے ایک نئے بیانیے کی تشکیل کی بنیا د رکھ دی ہے۔ پاکستانی معاشرہ میں نسوانی حقوق کی جدوجہد میں ایک ایسا ٹرننگ پوائنٹ آیا ہے کہ منوں مٹی تلے عاصمہ جہانگیر کی روح لازمی سوچ رہی ہوگی کہ ’ہمارے بعد اندھیرا نہیں، اجالا ہے۔ ‘
عورت مارچ پر تنقید کرنے والے ذرا یہ بتانا پسند کریں گے کہ ہر دوسری گالی میں عورت کا ذکر کیوں آ جاتا ہے؟ اب اگر ایک خاتون ’ماں ہوں بہن ہوں گالی نہیں ہوں‘ کا پلے کارڈ اٹھاکر باہر نکل آئی ہے تو اس سے کون سا گناہ سرزد د ہو گیا؟ مرد ذرا یہ بھی بتا دیں کہ غیرت کے نام پر آج تک مرد کتنے قتل ہوئے؟ رشتہ طے کرتے وقت کتنے والدین پاک دامن خاوند کی تلاش کرتے ہیں؟ مذہب عورت کو جائیداد میں حصہ کا حق دیتا ہے مگرکتنے باپ شادی کے وقت اپنی بیٹیوں کو وراثتی جائیداد میں ان کا حصہ دے کر رخصت کرتے ہیں؟
کتنے شادی شدہ مرد اپنی ازدواجی زندگی کی پاسداری کرتے ہیں؟ عورت مارچ کے ناقدین یہ بھی بتا دیں کہ خواتین کو سر بازار اور دفاتر میں جنسی ہراسانی کا نشانہ کون بناتا ہے؟ عورتوں کے احتجاج اور باغیانہ زبان پر اعتراض کرنے والے چند پلے کارڈزپر لکھے نعروں کے پیچھے حقیقتوں کا اعتراف کرنے سے کیوں گھبرا رہے ہیں؟ وہ اس بات کو مان کیوں نہیں لیتے کہ اب ان کی ناجائز اتھارٹی چیلنج ہو چکی ہے؟
عورت مارچ نے اس پدری معاشرے میں رائج صدیوں کی جھوٹی روایات، رسومات، اخلاقیات کے نام پر جبر، ظلم اور نا انصافی کی تمام کریہہ شکلوں سے پردہ اٹھایا ہے۔ عورت کی اس ’جرات رندانہ‘ سے مرد اتنا خوفزدہ ہوا ہے کہ ایک ’سلیبرٹی‘ نے اس مارچ کو پاکستان کا چہرہ مسخ کرنے والا غیر ملکی ایجنڈا قرار دے کردوبارہ خبروں میں ’ان‘ ہونے اوراپنی کھوئی ہوئی ساکھ کو دوبارہ بحال کرنے کی کوشش کی۔ شرمین عبید نے 2012 میں غیرت کے نام پر قتل اور 2016 میں تیزاب گردی کے موضوع پر فلمیں بنا کر دو آسکر ایوارڈ لئے تو اس وقت بھی کہا گیا کہ یہ خاتون دنیا کے سامنے پاکستان کا غلط چہرہ پیش کر رہی ہے۔
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں





