پاکستانیوں کے مغالطے اور مرشد

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستانیوں کے مغالطے صاحب طرز و فکر کالم نگار جناب یاسر پیرزادہ کے منتخب کالموں کا مجموعہ ہے جو حال ہی میں کتابی صورت میں شائع ہوا ہے۔ صاحب کتاب گزشتہ کئی برسوں سے ایک قومی روزنامے میں ”ذرا ہٹ کے“ کے عنوان سے کالم لکھتے ہیں اور اپنے کالم کے ذریعے تعلیم بھی دیتے ہیں اور جادوئی نثر سے دل بھی لبھاتے ہیں۔ فکر انگیز نکات بیان کرکے تڑپاتے بھی ہیں۔ سلگتے مسائل کی طرف نہ صرف انگلی اٹھاتے ہیں بلکہ بہتری پر بھی اکساتے ہیں یعنی کل ملا کر وہ اپنے فہم کے عطر سے سماجی راہوں کو مہکاتے ہیں اور فکری روشنی سے آگے بڑھنے کا رستہ دکھاتے ہیں۔

صحافتی کالم حالات حاضرہ کا عکس ردعمل اور تجزیہ ہوتے ہیں۔ یہی حالات حاضرہ جب ایک مدت کے بعد تاریخ کا حصہ بننے کے بعد جب ہم اس تاریخ پر اور اس وقت کے حالات حاضرہ پر نظر ڈالتے ہیں تو کوئی بات نئی نہیں لگتی بلکہ ایسا لگتا ہے کہ آج جو کچھ ہورہا ہے وہ پہلے بھی گزر چکا ہے۔ کالم نگار اگرچہ ذاتی رائے رکھتا ہے اور وہ رائے کسی مخصوص واقعے یا صورتحال کے تناظر میں ہوتی ہے لیکن اس کی رائے فرد واحد کی رائے شمار نہیں ہوتی بلکہ معاشرے کے ایک مکتبہ فکر کے نمائندہ اور ترجمان کی رائے کے طور پر لی جاتی ہے۔

کچھ حوالوں سے ہم کالم نگار کو رائے عامہ کا نقیب بھی کہ سکتے ہیں۔ کالم کے بارے میں عجیب سا مفروضہ ہے کہ کالم کی زندگی ایک دن کی ہوتی ہے۔ ہوتی ہوگی ضرور ہوتی ہوگی۔ میرے جیسے کالم نگاروں کے لکھے کالموں کی زندگی ایک دن کی ہی ہوتی ہوگی لیکن یاسر پیر زادہ کے کالم اس مفروضے کو بالکل غلط ثابت کرتے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں انہوں نے کتابی صورت میں کالموں کا انتخاب شائع کرکے اردو ادب اور صحافت کے قارئین پر احسان کیا ہے۔ ان کالموں کی صورت میں جہاں ان کا اسلوب محفوظ ہوگیا وہیں سیاسی۔ سماجی۔ ادبی اور معاشی حوالے سے پورا عہد محفوظ ہونے جارہا ہے۔ آنے والے کل کا قاری ان تحریروں کی وساطت آج کی صحیح تصویر دیکھ سکے گا۔

پیرزادہ ہمہ پہلو شخصیت ہیں۔ پیشے کے لحاظ سے وہ بیوروکریٹ ہیں لیکن ان کی بیوروکریسی نے ان کا کچھ بھی نہیں بگاڑا وہ سرتاپا مجسم لکھاری اور دانشور ہیں۔ اسی لیے وہ اپنے مصاحبین میں مرشد کے نام سے معروف ہیں۔ میں بلامبالغہ کہ سکتاہوں کہ ان کے کالم حالات حاضرہ پر گہری نظر اور اظہار کے بے ساختہ پن کا خوبصورت امتزاج ہے۔ ان کی شگفتہ مزاجی اور دقیقہ سنجی ان کے الفاظ سے جھانکتی اور مسکراہٹیں بکھیرتی ہے۔ مزاح بھی لکھتے ہیں تو ایسا لگتا ہے کہ بڑی سنجیدہ۔

سلجھی اور متانت پر مبنی کوئی بات کررہے ہیں۔ آپ کہیں گے کہ میں اپنی تمہید میں محض قصیدہ گوئی ہی کیے جارہا ہوں تو لیجیے میں اپنی قصیدہ گوئی کی ایک دو دلیلیں بھی درج کیے دیتا ہوں جس سے آپ کو اندازہ ہوگا کہ یاسر پیرزادہ واقعی ہی بالغ النظر، روشن دماغ، معاملہ فہم اور دلائل و براہین کی شمعیں فروزاں کرنے والے لکھاری ہیں۔ اللہ نے انہیں نثر میں جو کمال عطا کیا وہ ہاری ساری کے لیکھے میں نہیں آتا۔

آل پاکستان نیوز پیپرسوسائٹی سال میں کسی ایک کالم نگار کو بہترین اخباری کالم نگار کا ایوارڈ دیتی ہے۔ یہ ایوارڈ باقاعدہ طور پر سینئر لوگوں کی جیوری کی سفارشات پر دیا جاتا ہے۔ یاسر پیرزادہ وہ خوش قسمت لکھاری ہے جس کے حصے میں یہ ایوارڈ دوبار آچکا ہے۔ میں پہلے لکھ چکا ہوں کہ وہ مصاحبین میں مرشد کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ میں ابتدا میں جب گل نوخیز اختر کے ساتھ میری نئی نئی ملاقات تھی وہ اکثر اپنے دوست ناصر ملک، شاہد نذیر چوہدری اور چند دوسرے بے تکلف دوستوں کے ساتھ بات کرتے ہوئے بار بار مرشد کا لفظ استعمال کرتے تھے کہ مرشد نے یوں کہا، مرشد نے یوں لکھا، مرشد نے یہ ہدایت کی۔ بعد کی ملاقاتوں میں یہ عقدہ کھلا یہ مرشد کوئی اور نہیں قبلہ یاسر پیرزادہ ہیں۔

اب آپ ہی کہیں کہ جنہیں گل نوخیز جیسے گرو مرشد مانیں وہ خود کتنے پہنچے ہوں گے۔ آخری بات جو مجھے سب سے پہلے کرنی چاہیے تھی وہ یہ پنجابی کی ایک کہاوت ہے کہ ”بوہڑ دی تھاں بوہڑ ای اگدا اے“ (برگد کی جگہ برگد ہی پیدا ہوتا ہے ) ۔ یاسر پیرزادہ ادبی برگد اور سالار کالم نگاراں جناب عطاء الحق قاسمی کے فرزند ہیں لیکن انہوں نے اپنے والد محترم سے بالکل جداگانہ اسلوب اور طرز نگارش ایجاد کی ہے نہ صرف ایجاد کی ہے بلکہ اسے کامیابی سے برقرار بھی رکھا ہے۔

مصنف کی بات ہوچکی ہے اب کچھ تصنیف کی بات بھی ہوجائے۔ پاکستانیوں کے مغالطے میں کالموں کے موضوع کے اعتبار سے انہیں تین ابواب میں تقسیم کیا گیا ہے۔ پہلے باب کا نام ”میں، تم اور پاکستان“ ہے۔ اس باب میں پاکستان اور پاکستانیت سے جڑے موضوعات جیسے اکابرین، نظریات، سیاست، سماجیات اور ثقافت پر پر بات کی گئی ہے۔ دوسرے باب کا نام ”ملا، فلسفی اور سائنس“ ہے اور اس باب میں فلسفہ، عقائد، معاملات، مذہب اور سائنس جیسے موضوعات کو موضوع سخن بنایا گیا۔ تیسرے اور آخری باب کا نام ”بالغوں کے لیے“ ہے۔ اس کالم میں نوجوان نسل کے مسائل اور دبدھوں کا تذکرہ کیا گیا جیسے شادی، کیرئیر، نظام تعلیم، اخلاقیات، رومانس اور شخصی ترقی وغیرہ پر خامہ فرسائی کی گئی ہے۔

کتاب کا سرورق بڑا دلچسپ ہے۔ مشہور اور صاحب فن کارٹونسٹ جاوید اقبال نے صاحب کتاب کا معصوم سا خاکہ بنایا ہے۔ جو قلم پکڑے اپنے ہم وطنوں کی خود فریبیوں پر متفکر و مغموم نظر آرہا ہے۔ سرورق کے علاوہ تینوں ابواب کے شروع میں بھی جاوید اقبال کے تیارکرہ رنگین اور بامعنی کارٹون موجود ہیں جوباب میں شامل کالموں کا ایجاز و اختصار سے احاطہ کیے ہوئے ہیں۔ کتاب کھولتے ہیں ہماری کچے پکے دیباچے پر نظر پڑتی ہے۔ کچا پکا میں نہیں کہہ رہا بلکہ ایسا اپنے دیباچے کے بارے میں مصنف کا ہی خیال ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ اپنی کتاب کا دیباچہ لکھنا ایسے ہی ہے جیسے بغیر دائی کے بچہ جننا۔

میرے جیسے نوآموز کا یاسر پیرزادہ جیسے مقبول لکھاری کے فکروفن پر بات کرنے کو آپ کمپوڈر کی نیورو سرجری سے تعبیر کرسکتے ہیں۔ اب تینوں ابواب کا مختصر خلاصہ پیش کرنا چاہوں گا۔ تو سنیے خلاصہ یہ ہے کہ اس وقت تک سدھار کی توقع عبث ہے جب تک کمی اور غلطی کا درک نہیں ہوگا۔ مسئلہ حل تبھی ہوگا تب مسئلے کی بنیاد اور سبب کا علم ہوگا۔ مصنف نے وہ وجوہات بتانے کی کوشش کی ہے جو سارے مسائل اور پریشانیوں کی جڑ ہیں۔ مثلا پہلے باب میں انہوں نے قائد اعظم اور علامہ محمد اقبال کے متعلق پورے وثوق اور دلائل سے سمجھایا کہ وہ اپنے اپنے فنون اور شعبہ جات کے ماہر اور مکمل انسان تھے۔

مکمل انسان سے مراد ان میں وہ تمام باتیں موجود تھیں جو کہ انسان نامی مخلوق میں ہونا چاہییں۔ لیکن ہماری قوم کا مسئلہ مگر یہ ہے کہ ہم فرشتے اور شیطان کے درمیان کوئی بھی جگہ یا درجہ چھوڑنے کو تیارنہیں یا تو ہم کسی کو اتنا گرائیں گے کہ شیطان کے برابر یا کم تر لا کھڑا کریں یا پھر اتنا اٹھائیں گے کہ کوئی دیوتا یا اوتار ٹائپ چیز بنا لیں گے۔

دوسرے باب میں ہمارے عجیب و غریب اعتقاد کا ماتم کیا گیا ہے۔ ہم صرف نعروں اور کھوکھلے نظریات سے دنیا فتح کرنے نکلے ہیں۔ دنیا فتح کرنی ہے تو سائنس اور ٹیکنالوجی سمیت باقی درکار عملی مہارتوں پر عبور ہی ہمیں اس میں کامیابی دلا سکتا ہے۔ تیسرے باب میں نوجوان نسل کے خواہ مخواہ کے پیداکردہ مسائل اور پریشانیوں کا ذکر ہے۔ کمپوڈر نے نیوروسرجری کرلی اگر آپ کا کچھ کرنے کا من ہے تو کتاب خریدیں اور من مرضی کریں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •