طلبا اپنی زندگی سے مایوس کیوں؟


 پاکستان میں طالب علموں میں خود کشی کا رجحان خطرناک حد تک بڑھتا جا رہا ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق پاکستان میں سالانہ پانچ ہزار افراد خود کشی کرتے ہیں جن میں طالب علموں کی بھی بڑی تعداد شامل ہے۔ حال ہی میں ایسے بہت سے واقعات رونما ہوئے ہیں جن میں طالب علموں نے اپنی زندگی سے تنگ آکر خود کشی جیسی حرام موت کو گلے لگا لیا۔ آج کل یہ موضوع بھی زیرِ بحث ہے کہ ان واقعات کا ذمہ دار کون ہے۔ والدین یا اساتذہ؟ ان واقعات کی وجوہات پر نظرثانی کرنا بے حد ضروری ہے۔

چند ماہ قبل ایسا ہی ایک حادثہ پشاور کے ایک کالج میں پیش آیا۔ جہاں کیمیکل انجینئرنگ کے طالب علم سیف اللہ جمالی نے کالج کے گیٹ کے باہر خود کشی کر لی۔ تحقیقات کے بعد یہ بات سامنے آئی کہ طالب علم نے خود کشی امتحانات میں اچھے نمبر نہ آنے کی وجہ سے کی۔ سیف اللہ جمالی کے دوستوں کا کہنا تھا کہ سیف اللہ نے خود کشی صرف اس لیے نہیں کی کہ اس کے مارکس اچھے نہیں تھے بلکہ سیف اللہ کے استاد کا رویہ اس کے ساتھ ٹھیک نہیں تھا۔ جنھوں نے بار بار اس کی بے عزتی کی اور بار بار اس کو امتحان میں فیل کیا۔ یہ قصہ صرف ایک سیف اللہ جمالی کا نہیں ہے۔ ایسے بہت سے طالب علم ہیں جو اساتذہ کی نا انصافیوں کا شکار ہو کر اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ اس کے علاوہ والدین کی توقعات پر پورا نہ اترنے کی وجہ سے بھی بہت سے طالب علم اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ یہ ایک بہت نازک مسئلہ ہوتا جا رہا ہے۔ جس کے لیے والدین اور اساتذہ کو سوچنا چاہیے کہ ایسی کون سی وجوہ ہیں جن کی وجہ سے نوجوان نسل زندگی جیسی انمول نعمت کی بھی پروا نہیں کرتے؟

ایسا اس وقت ہوتا ہے جب کسی انسان کو کہیں بھی اپنے لیے کوئی سہارا نظر نہ آ رہا ہو۔ والدین اپنے بچوں کو اسکولوں، کالجوں، اور یونیورسٹیوں میں داخلے دلوا کر، ان کی فیس ادا کر کے یہ سمجھتے ہیں کہ ان کی ذمہ داری پوری ہو گئی ہے۔ اپنی مرضی کے تعلیمی اداروں میں بچوں کو ڈال کر، اپنی مرضی کے مضامین ان پر مسلط کر کے، ان سے کہنا کہ اب تمہیں ڈاکٹر یا انجینئر بن کر ہی یہاں سے باہر نکلنا ہے۔ والدین اپنے بچوں کے لیے اہداف قائم کرتے ہیں جن کو پورا کرنے میں اگر بچے ناکام ہو جائیں تو پھر وہ اپنی زندگی ہی سے نا امید ہو جاتے ہیں۔

ہماری حکومت جو کہ کرپشن سے بھری ہوئی ہے۔ جس کی وجہ سے یہاں کے تعلیمی نظام کا بھی بہت برا احوال ہے۔ جہاں اساتذہ کی جانب سے فیورٹ ازم بھی کیا جاتا ہے۔ طالب علم بے جا منفی رویوں کا سامنا کرتے کرتے مختلف نفسیاتی مسائل کا شکار ہو جاتے ہیں۔ جس کی وجہ سے ان میں ڈپریشن، نا امیدی، احساس کم تری اور ناکامی کا ڈر پیدا ہوجاتا ہے۔ ہمیں اس مسئلے کے حل کے لئے سنجیدہ کام کرنا چاہیے۔ والدین کو اب یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ برادری میں اپنا سر اونچا رکھنے کے لیے بچوں کی ڈاکٹر یا انجینئر کی ڈگریاں دکھانا ضروری نہیں ہے۔ اپنے بچوں کو ان کی زندگی جینے کا حق دیں۔ انھیں وہ بننے دیں جو وہ خود دل سے بننا چاہتے ہیں۔ اسی طرح اساتذہ بھی اپنا رویہ تمام طالب علموں کے ساتھ یکساں رکھیں۔ زندگی انمول تحفہ ہے اس میں کسی چیز کو انا کا مسئلہ بنا کر موت کے گھاٹ نہ اتاریں۔

Facebook Comments HS