چیخیں تو نکلیں گی


نون لیگ نے ملک برباد کر دیا۔ نواز شریف تین ہزار ارب کھا گیا۔ ملک کا بچہ بچہ قرض میں جکڑا گیا ہے۔ کنٹینر پر چڑھے خان کا بیانیہ ہمارے اذہان میں نواز شریف کے خلاف نفرت بھرتا چلا گیا۔ نواز شریف اقتدار میں آیا تھا تو ہم تواتر سے یہ سن رہے تھے کہ زرداری ملک دشمن ہے۔ لوٹ کر کھا گیا۔ سرے محل بنا لیا۔ دوبئی میں جائیدادیں بنالیں ملک بری طرح مقروض ہو گیا۔ ریلوے بند ہو گئی۔ پی آئی اے کے جہازوں نے اڑنے سے انکار کر دیا۔

لوڈ شیڈنگ نے جنگ کے بغیر ہی بلیک آوٹ کردیا۔ زرداری اقتدار میں آیا تھا تو ہمارے کان یہ سنتے سنتے پک گئے تھے کہ آمریت نے اور پرویز مشرف نے ملک برباد کر دیا۔ پرویز مشرف کا قول آج بھی ہمارے دماغ میں گونج رہا ہے ”سب سے پہلے پاکستان“ اس کا مطلب تھا میں پاکستان کے لئے آسمان سے تارے توڑ کر لا رہا ہوں۔ ڈالر کو تارے اور امریکہ کوآسمان ماننے اور منوانے کے لئے مسجدوں پر بمباری کرانے والے پرویز مشرف کو ہم مسیحا ماننے پر مجبور تھے۔

پرویز مشرف نے ہمیں چند ڈالر تو مانگ کر لے دیے۔ اس کے بدلے ملک کے ہزاروں جوان شہید ہوئے۔ مسجد میں نمازییوں کا خون بہایا گیا۔ بلوچستان ہمارے ہاتھ سے نکلتے نکلتے بچا۔ زرداری نے ہمیں آمریت سے نکالا۔ یعنی پرویز مشرف کا اقتدار ختم ہوا۔ ہزاروں کی تعداد میں بلیک واٹر اور امریکی ایجنٹ پاکستان میں دندناتے رہے۔ طویل دورانئیے کی لوڈ شیڈنگ نے زندگی عذاب کر دی۔ ریل بند ہو گئی۔ جہاز بند ہو گئے۔ زرداری نے مفاہمت کی پالیسی بنائی سب مل کر لوٹ مار کرنے لگے۔

جمہوریت مضبوط ہوتی چلی گئی۔ پھر نوز شریف کا دور آیا۔ اس بار کچھ کام آگے بڑھا ہی تھا کہ کنٹینر آ گیا۔ یک دم عدالتیں آزاد ہو گئیں۔ ملک میں قانون اتنا طاقتور ہوا کہ ملک کے وزیراعظم کو جیل کی ہوا کھانے پر مجبور کر دیا گیا۔ یہ دور بھی تمام ہوا اور عمران کی قیادت میں اصلی جمہوری اور عوامی دور کا آغاز ہوا۔ ملک پاکستان ترقی کی راہ پر گامزن ہوا۔ قرضوں کی ریل پیل ہونے لگی۔ سعودی اور دوسرے عربی شہزادے نوٹوں کی بوریاں کمر پر لادے پاکستان آئے۔

گزشتہ تیس سال کا جائزہ لیا جائے تو پاکستان میں صرف دو چیزوں نے ترقی کی ہے۔ پاکستاں کا قرض بے تحاشا بڑھ گیا ہے اور بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ اس کو روکنے یا کم کرنے کی جانب آج تک ہم نے کوئی عملی قدم نہیں اٹھا سکے۔ حکومتوں کے آنے جانے سے قرض میں اضافہ ہی ہوا ہے۔ بلکہ موجودہ حکومت نے اپنے وقت کے تناسب سے پہلی حکومتوں کی نسبت کہیں زیادہ قرض لیا ہے اور مزید قرض کے حصول کے لئے۔ دن رات کوشاں ہے۔ دوسرا ہم نے اپنی آبادی میں بے انتہا ترقی کی ہے۔ تمام حکومتوں نے اپنے اپنے ادوار میں آبادی کم کرنے کی طرف ذرا توجہ نہیں کی۔ ان دو وجوہات کی بنا پر ہمارے معاشی مسائل میں بے تحاشا اضافہ ہوا ہے۔

معاشی مسائل میں حالیہ اضافے کی ایک حھلک پنجاب اسمبلی کے حالیہ فیصلے ہیں۔ ممبران نے اپنی تنخواہیں بڑھا لی ہیں۔ لوگ اس بات پر افسوس کر رہے ہیں۔ تنقید ہو رہی ہے۔ ملکی معیشت زیر بحث لائی جارہی ہے۔ اور اسے ملکی معیشت پر کلنک کا ٹیکا سمجھا جا رہا ہے۔ عوام کے ساتھ ساتھ عمران خان نے بھی برا منایا ہے۔ حالانکہ اس سے پہلے سندھ اسمبلی اور کے پی کے اسمبلی بھی اپنے ممبران کی تنخواہوں میں اضافہ کا بل پاس کرکے اپنی غربت کا علاج کر چکے۔

پنجاب کے ساتھ ہی یہ زیادتی کیوں ہو رہی ہے۔ خان صاحب کی آمرانہ سوچ پنجاب کے غریب ممبران اسمبلی پر سکائی لیب بن کر گری ہے۔ یہ پنجاب کی خود مختاری پر بڑا حملہ ہے۔ یہ جمہوریت پر حملہ ہے۔ غریب ممبران کے بچوں کی بیرون ملک تعلیم کا مسئلہ ہے۔ ڈالر کا ریٹ بڑھ گیا ہے۔ بچوں کی فیس ڈالر میں دینی پڑتی ہے۔ بیگم کا بیوٹی پارلر کا خرچہ ہے۔ امپورٹڈ بیوٹی کریم پر اضافی ڈیوٹی نے پارلر مہنگے کر دیے ہیں۔ وفاقی حکومت نے پٹرول، بجلی اور گیس کی قیمتیں بڑھا دی ہیں۔

ان حالات میں تنخواہوں میں اضافہ ناگزیر تھا۔ اگر ممبران نے تنخواہ بڑھا لی ہے تو کیا قیامت آ گئی ہے۔ سب سے بڑی بات قومی یکجہتی کی ہے۔ ہم اتنے سالوں سے قومی یکجہتی کی ضرورت پر زور دیتے چلے آئے ہیں، دیکھو تھوڑی سی تنخواہ بڑھنے کی بات پر کس طرح ممبران یکجا ہوئے ہیں۔ یہ بھی تو دیکھیں اسد عمر نے کیا اعلان کر دیا ہے۔ وہ کہ رہا ہے مہنگائی بڑھے گی اور عوام کی چیخیں نکلیں گی۔ درست کہا ہے۔ ابھی تو آی ایم ایف نے پروگرام لانچ نہیں کیا اور چیخیں نکلنا شروع ہو گئی ہیں۔ جب پروگرام شروع ہو گا تو کیا بنے گا۔

بات مہنگائی پر آکر رکی ہے تو اس کا کچھ نہ کچھ علاج بھی ضروری ہے۔ زیادہ تر طبقات تو مہنگائی کا علاج خود ہی کر لیتے ہیں۔ ڈاکٹر اور وکلا اپنی فیس بڑھا لیتے ہیں۔ ان کو اس کام کے لئے کسی اسمبلی سے بل پاس نہیں کروانا پڑتا۔ مزدور اور مکینک لوگ بھی یہی کرتے ہیں۔ رکشے بسیں اور ٹرانسپورٹ حکومتی کنٹرول سے باہر ہی رہتے ہیں۔ آخر میں سرکاری ملازم رہ جاتے ہیں۔ سرکاری ملازمین کی کیٹیگری اے کو بھی فرق نہیں پڑتا۔ وہ اپنا رشوت کا ریٹ بڑھا لیتے ہیں۔

اس کے لئے بھی اسمبلی سے منظوری نہیں لینی پڑتی۔ صرف کلاس فور کے ملازم اور چھوٹے کلرک ٹائپ لوگ رہ جاتے ہیں جو ہر سال مئی جون میں اسمبلی کے سامنے کفن پوش جلوس نکالتے ہیں اور پنشنرز جو خود سوزیاں کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ یہ عمر رسیدہ لوگ ویسے بھی بیکار ہتے ہیں اور دھرتی کا بوجھ ہیں۔ یہ بوجھ جتنا کم ہوتا جائے گا ملکی معیشت اتنی ترقی کرتی چلی جائے گی۔

معیشت کی ترقی کے لئے انصاف کی فراہمی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ موجودہ حکومت تو بنی ہی انصاف کی بنیاد پر ہے۔ ثاقب نثار نے پاکستان کی تاریخ میں انصاف کے پرچم کو آسمان کی بلندیوں تک پہنچا دیا ہے۔ ثاقب نثار کا انصاف تحریک انصاف کی بائیس سالہ جدوجہد کا نتیجہ ہے۔ اب انصاف کا بول بالا ہے۔ اور بڑے بڑے چور جیل کی سلاخوں کے پیچھے انصاف کی دھائی دیتے نظرآتے ہیں۔ صحت اور تعلیم جیسے چھوٹے چھوٹے مسائل کا کیا ہے۔ یہ تو مسائل کا دو فیصد بھی نہیں۔ ہم نے اٹھانوے فیصد مسائل حل کر دیے ہیں تو یہ دو فیصد تو جب چاہیں گے پلک جھپکتے حل کر لیں گے۔ ان مسائل کے لئے پانچ سال پڑے ہیں۔ قوم صبر کرے اور چیخیں نہ مارے۔

Facebook Comments HS