سندھ کے شہر کنری کے چوک میں چار دن سے رکھی لاش اور پی ایس ایل

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عمر کوٹ، تھرپارکر سندھ کے چھوٹے سے شہر کُنری میں ہونے والے ایک احتجاج نے پورے سندھ کی توجہ مبذول کرا لی ہے۔ لیکن حسب معمول اس احتجاج پر توجہ نہیں گئی تو ایک سندھ حکومت کی اور دوسرے اردو میڈیا کی۔ سندھ حکومت اور اردو میڈیا دونوں ہی پی ایس ایل میں مصروف ہیں ۔ پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت کی توجہ اس احتجاج پر نہ جانے کی ایک اور وجہ بھی سامنے آئی ہے اور رپورٹ ہو رہا ہے کہ عمر کوٹ کے پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے ایم این اے نواب یوسف ٹالپر اور ان کے بیٹے سندھ اسیمبلی کے ایم پی اے نواب تیمور ٹالپر مجرموں کی پشت پناھی کر رہے ہیں ۔

اس احتجاج نے توجہ اس لیئے مبذول کر وائی ہے کہ ایک نوجوان گھنشام بھیل کو چار دن قبل بکری چوری کرنے والے چوروں نے مزاحمت کرنے پر قتل کر دیا تھا۔ مقتول کا تعلق بھیل قبیلے سے تھا۔ بھیل سندھ کے قدیمی باشندے ہیں جنہیں اصلی سندھی بھی کہا جاتا ہے۔ گھنشام بھیل کے قتل میں ملوث یاسین جٹ کو گرفتار کرنے کی پولیس نے یقین دہانی کر وائی مگر قاتل کے تعلقات حکمران جماعت کے لوگوں سے ہونے کی وجہ سے پولیس نے کارروائی نہیں کی۔ جس پر گھنشام بھیل کے ورثا نے اس کی لاش کو لا کر کُنری شہر کے مرکزی چوراہے پر رکھا ہے اور دھرنا دے کر بیٹھ گئے ہیں۔

چار دن سے گھنشام کی لاش اسی چوک پر پڑی ہے۔ اس کے رشتے دار، دوست احباب اور ہزاروں کی تعداد میں عام آدمی اس چوک پر جمع ہیں ۔ گھنشام کی لاش کھلے چہرے کے ساتھ پھولوں اور برف میں اٹی ہوئی ہے۔ سندھ کے ہر کونے سے قاتلوں کو گرفتار کرنے کی آواز آ رہی ہے مگر سندھ کے وزیر اعلی کو چار دن سے کنری کے ایک چوک پر پڑی لاش نظر نہیں آئی۔

عمر کوٹ ضلع کی پولیس نے بجائے قاتل گرفتار کرنے کے اپنی پوری طاقت ان بھیلوں کا احتجاج اور دھرنا ختم کرانے پر صرف کی ہے اور لاٹھی چارج تک کیا ہے مگر لوگ احتجاج پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ گھنشام بھیل کی لاش سے بو اٹھنے کی وجہ سے اس پر مزید برف ڈالی گئی ہے اور اس کی لاش کو ایک صندوق میں ڈالا گیا ہے۔ برف کی سلیں شاید گھنشام کے جسم کو گلنے سے کچھ روز بچا سکیں مگر ہمارے حکمرانوں کے ضمیر اس برف سے زیادہ سرد ہو چکے ہیں۔ پولیس ان کی غلام بن چکی ہے اور قانون ان کی باندی۔

سندھ حکومت کے سب وزیر اور سندھ اسمبلی کے ارکان اسپیکر سراج درانی کے گھر کی تلاشی کے دوران ان کے گیٹ پر دھرنا دے کر بیٹھے تھے مگر اس مرتبہ ان میں سے کسی کو کنری کے چوک پر چار دن سے پڑی غریب گھنشام بھیل کی لاش نظر نہیں آئی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •