جبوتی اور گنی بساؤ کی جیو پولیٹیکل اہمیت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دوستانِ شیریں، پہلے ابن انشا کا ایک کبت ذرا سی ترمیم کے ساتھ سن لیجیے۔
اﺱ ”دیس“ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﻣﻘﺎﻡ ﮨﮯ ﮐﯿﺎ، ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﭘﮧ ﭘﺮﺩﮦ ﺭﮨﻨﮯ ﺩو۔ اس بات سے تم کو کیا لینا، تم ہم کو قصہ کہنے دو۔ ﮨﻢ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﺗﻮ ﺳﻮﺩﺍ ﻣﻤﮑﻦ ﮨﮯ، ﺗﻢ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﺟﻔﺎ ﮨﻮﺳﮑﺘﯽ ﮨﮯ۔ ﯾﮧ ﺍﭘﻨﺎ ﺑﯿﺎﮞ ﮨﻮ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ، ﯾﮧ ﺍﭘﻨﯽ ﮐﺘﮭﺎ ﮨﻮ ﺳﮑﺘﯽ ﮨﮯ

یہ خادم بسلسلہ روزگار و تعلیم برِ اعظم انٹارکٹیکا اور برِ اعظم شمالی امریکہ کو چھوڑ کر چاروں کھونٹ گھوم چکا ہے۔ کہیں طویل کہیں مختصر قیام رہا۔ ایسے ایسے ملکوں میں جانا ہوا کہ ہمارے ہاں کسی نے نام بھی نہیں سُن رکھا۔ ایک بار کسی دوست نے پوچھا کہ بڑے دن سے غائب ہو، کہاں گئے تھے؟ عرض کیا، ذرا وانو واٹو گیا تھا۔ ذرا دیر سوچ کر بولے، ہے تو بھائی پھیرو کا ہم قافیہ، یہ بتاؤ کہ راستہ موٹر وے سے جاتا ہے یا جی ٹی روڈ سے؟

بتایا کہ یہ جنوبی بحر الکاہل کا ایک جزیرہ ہے، جو اپنی مبلغ دو لاکھ اٹھاسی ہزار آبادی کے باوصف اقوام متحدہ کا باضابطہ رکن آزاد ملک ہے اور جنرل اسمبلی میں بھارت اور چین جیسے اربوں کی آبادی کے ممالک کے مساوی ووٹ کا حق رکھتا ہے۔ بولے، غالبا اسی لیے سلامتی کونسل میں بندوں کو گننے کے بجائے تولنے کا اصول لاگو کیا گیا ہے۔ اور اس ناپ تول میں دنیا میں تباہی لانے کی صلاحیت کو نمایاں وزن کا حق دار ٹھہرایا گیا ہے۔

اس سے پہلے کہ وہ نیل کے ساحل سے تابخاکِ کاشغر پہنچتے، اس خادم نے یہ بتا کر گفتگو کا رُخ بدل دیا کہ وانوواٹو ان چند ممالک میں سے ایک ہے جہاں پاکستانی پاسپورٹ پر بھی ہوائی اڈے پر اترتے ہی ویزا لگا دیا جاتا ہے۔ وانوواٹو کے بارے میں ان کا اشتیاق یہ سن کر ذرا ماند پڑا کہ یہاں پہنچنے کے لیے آسٹریلیا، نیوزی لینڈ یا فجی سے گزرنا پڑتا ہے جہاں پاکستانیوں کو یہ سہولت دست یاب نہیں۔

خیر یہ جملہ ہائے معترضہ اور گریز تو حسبِ عادتِ بد بیچ میں آ گئے، عرض یہ کرنا تھا کہ اس دربدری کے دوران گوناگوں سیاسی نظام دیکھنے کو ملے۔ آئینی بادشاہت سے غیر آئینی عسکری آمریت تک، یک جماعتی آمریت سے بالغ رائے دہی کی کثیر الجماعت جمہوریت تک۔ دیو استبداد کو مذہبی لبادے میں پائے کوب دیکھا اور نیم جمہوریت کے تار تار پردے میں چندسری اقتدار کی شکل میں بھی۔ لوگوں کی ذاتی زندگی میں بے جا دخیل حکومتیں بھی دیکھیں اور مکمل ناکام ریاستیں بھی۔

ذرا ذرا سے فرق سے، اکثر جگہ بندوں کو کوچہ گرد اور خواجگان کو بلند بام پایا۔ کہیں بہ حیلہِ مذہب، کہیں بنامِ وطن۔ ایک عنصر تمام استبدادی حکومتوں میں مشترک نظر آیا کہ سب کے ہاں قومی سلامتی کی صورتِ حال طویل عرصے سے نازک چلی آرہی ہے۔ سب نے اپنے شہریوں کی آزادی کو سلب کرنے کے لیے کوئی نہ کوئی حقیقی یا موہوم دشمن پال رکھا ہے۔ اگر مذکورہ دشمن ملکی سرحدوں کے آس پاس پایا جائے تو سونے پر سہاگا ورنہ دور کے دشمن سے بھی کام چل جاتا ہے۔ اس پر اسلام آباد کے شاعر ظہور احمد کا شعر یاد آتا ہے کہ۔ ”دشمنِ جاں تو کوئی کیا ہوگا۔ یونہی بس تم کو بنا رکھا ہے“۔

کسی کو دشمنِ جاں کا درجہ دینے کے لیے اعداد و شمار بھی حسبِ منشا گھڑ کر اچھالے جاتے ہیں۔ مثلاً یورپ، امریکہ اور آسٹریلیا میں ”دوسروں“، خصوصاً مسلمانوں کے ثقافتی اور عددی غلبے اور جرائم اور تشدد میں ان کے کردار کو دائیں بازو کے حامیوں کی جانب سے بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے حالانکہ معروضی حقائق اور حقیقی اعداد و شمار اس کی تصدیق نہیں کرتے۔ ویسے ہی جس طرح ہمارے ہاں کبھی اربوں کی کرپشن تو کبھی پینتیس پنکچر کا شور بلند کیا جاتا ہے جو بعد میں ”سیاسی بیان“ ثابت ہوتا ہے۔ یا بھارت میں پاکستان کی حربی تیاریاں اکثر انتخابات سے ذرا پہلے محدب عدسے کی مدد سے رائے عامہ کے پردے پر پھیلا کر دکھائی جاتی ہیں۔

دوسرا مشترکہ پہلو یہ دیکھا کہ ان تمام مستبد حکومتوں نے اپنی رعایا کو یہ یقین دلا رکھا ہے کہ وہ دنیا میں اپنی طرز کی انوکھی قوم ہیں، ان کی عظیم تاریخ ہے، ان کی جغرافیائی حیثیت کو دنیا میں کلیدی حیثیت حاصل ہے اور ان کی سرزمین پر جس کا قابو ہو گا، دنیا کا مستقبل اسی کے ہاتھ میں ہوگا۔ اس خادم کے ایک دوست ایک سکینڈے نیوین ملک میں سیاسی پناہ حاصل کیے ہوئے ہیں۔ بتا رہے تھے کہ شروع میں ایک روز پناہ گزینوں کے مرکز میں کھانے کی میز پر ایک نوجوان بتا رہا تھا کہ جیسی جیو پولیٹیکل اہمیت اس کے ملک کی ہے، دنیا میں کسی کی نہیں اور جو اسے زیرِ نگیں رکھے گا جہاں بھر میں اس کا غلغلہ ہوگا۔

ان کے اس دعوے کو اسی میز پر موجود ایک اور بندے نے چیلنج کیا اور اپنے ملک کی اہمیت کو افضل قرار دیا۔ دوست وضع دار ہیں سو اپنا دعوی دائر کیے بغیر ان مانوس کہانیوں کو سن کر چُپ رہے لیکن بعد میں ”جبوتی“ اور ”گنی بساؤ“ نامی ممالک کو اٹلس میں تلاش کرنے میں خاصی تگ و دوکرنا پڑی۔ جن دوستوں نے جارج آرویل صاحب کا ناول ”انیس سو چوراسی“ پڑھ رکھا ہے، انہیں یہ منظر نامہ جانا پہچانا لگ رہا ہوگا۔ حکمران طبقات کی ان حالات کو جوں کا توں رکھنے میں دل چسپی تو سمجھ میں آتی ہے مگر، خصوصا اپنے ہاں، ان کے جیالے حامیوں کی شاہ سے بڑھ کر وفاداریوں کا مظاہرہ دیکھ کراس خادم کو سروانتے کے کردار ”ڈان کیخوتے“ کا ہوائی چکیوں کی پرچھائیوں سے شمشیر زنی کرنا یاد آ جاتا ہے۔

تیسری مشترکہ عمومی خاصیت جو ان بیمار معاشروں میں نظر آئی، وہ طرزِ کہن پر اڑنا یا ماضی پرستی ہے۔ یہ معاشرے اپنے صدیوں پرانے طرزِ فکر پر تنقیدی نظر ڈالنا پسند نہیں کرتے بلکہ یہ سمجھتے ہیں کہ نظامِ فکر تو بالکل درست ہے مگر چونکہ ہم اس پر صحیح معنی میں عمل پیرا نہیں ہیں چنانچہ ہم پر ادبار کا دور گزر رہا ہے۔ اس نرگسیت کا ایک مظہر احباب نے یقیناً دیکھا ہوگا کہ مثلاً کچھ لوگ ہر نئی سائنسی دریافت اور ایجاد کے سامنے آتے ہی الہامی کتابوں اور مذہبی صحائف کے بحرِ ذخّار میں غوطہ زن ہوجاتے ہیں اور وہاں سے یہ دور کی کوڑی برامد کرتے ہیں کہ یہ سب تو ہمارے اسلاف کو پہلے سے معلوم تھا۔

ظالم تاویل سے قران کو پاژند بناتے ہوئے یہ نہیں سوچتے کہ سائنس تو بے شرم چیز ہے اور کل کو نئی تحقیق کی روشنی میں اپنے موجودہ موقف سے پھرنے میں ایک منٹ نہیں لگائے گی، تو کیا اس سے ان کے عقیدے کو زک نہیں پہنچے گی؟ اس خادم کی نظر سے بیسویں صدی کی ابتدا میں دہلی سے چھپی ہوئی ایک کتاب گزری تھی جس میں مصنف نے فزکس کی ایتھر تھیوری کو قران سے نکال کر اسلام کے دینِ حق ہونے کی دلیل بہم پہنچائی تھی۔ بے چارے تاویل ساز مصنف کو علم نہ تھا کہ مائیکلسن اور مورلے نامی دو سائنسدان چند سال قبل تجربات کی مدد سے ایتھر تھیوری کو غلط ثابت کر چکے تھے اور اس تھیوری کو سائنس نے مدت سے کُوڑے دان میں پھینک رکھا تھا۔

اسی سے جڑی ہوئی خرابی اس خیال کی مقبولیت ہے کہ ہمارے نظام اور معاشرے میں کوئی جوہری خرابی نہیں ہے۔ اگر کمی ہے تو ذوقِ یقین کی۔ جو بھی خرابی ہمارے ہاں پائی جاتی ہے وہ اغیار کی سازش کے سبب ہے جو ہمیں ہمارے گم گشتہ چشمہِ بقا سے بھٹکانے کے لیے حیلے تخلیق کرتے رہتے ہیں۔ کبھی جمہوریت، کبھی سوشلزم، کبھی لبرل ازم تو کبھی صنفی مساوات کے نام پر۔ ہمیں اپنے اندرونی اختلافات بُھلا کر، اپنے معاشرے میں موجود ظالمانہ عدم مساوات اور جبر سے صرفِ نظر کرکے، ان سازشوں کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک مضبوط قیادت کے پیچھے، بے چون چرا ایک فیصلہ کُن جنگ لڑنے کے لیے تیار رہنا چاہیے تاکہ ہم آزمائش کی آگ سے کندن بن کر نکلیں۔ یہ نعرے اس حقیقت پر پردہ ڈال دیتے ہیں کہ کندن تو اسی کے ہاتھ آئے گا جس کے پاس سونا ہوگا۔ جس کی کُل متاع ہی آشیاں کے خس و خاشاک پر مشتمل ہو، وہ راکھ کے سوا کچھ نہیں پائے گا۔

اس خادم کو اعتراف ہے کہ ایں جانب بھی مدت تک مرحوم نسیم حجازی کے ناولوں“ اقبال کے چنیدہ بلند بانگ اشعار اور ماہنامہ حکایت اور اردو ڈائجسٹ کی تحریروں کے زیرِ اثر موہوم دشمن، ماضی پرستی، اور نظریہ سازش کے امراض میں گرفتار رہا۔ اب جبکہ سفینہ کنارے پر آ لگنے کے قریب تر ہے، اور دنیا کی رنگا رنگی کے مشاہدے نے دل و نظر سے بہت سا زنگ دھو ڈالا ہے تو مرزا نوشہ کے شعر کی حقانیت روز بروز دل پر نقش کالحجر ہوتی جا رہی ہے۔
حسد سے تنگ ہو گر دل تو سرگرمِ تماشا ہو۔ کہ چشمِ تنگ شاید کثرتِ نظّارہ سے وا ہو

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •