سانحات اور زندہ و مہذب معاشرے
نیوزی لینڈ میں برپا ہونے والے دلخراش واقعے نے پوری دنیا کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ مذہب، زبان، نسل اور رنگ سے بالاتر ہو کر دنیا کے ہر خطے میں انسانیت کا درد رکھنے والے اس پر اشکبار ہیں۔ نیوزی لینڈ میں دو مساجد میں پچاس افراد کی شہادت کسی ایک مذہب کے ماننے پر حملہ قرار نہیں دیا گیا بلکہ اسے انسانیت پر حملہ قرار دے کر ہر ذی حس اس پر نوحہ کناں ہے۔ نیوزی لینڈ میں برپا ہونے والی اس قیامت صغریٰ کے بعد سب سے اہم اور جاندار پیش رفت وہاں کے معاشرے کا ردعمل ہے۔
یہ رد عمل ایک ایسے توانا، بیدار اور مہذب معاشرے کا ہے جہاں شہریوں کو نسل، عقیدے اور رنگ کی بنیاد پر تقسیم کرکے انسانی المیوں کو حصوں اور خانوں میں نہیں بانٹا جاتا۔ ایک نسل پرست سفید فام فرد کی متشدد، نفرت اور وحشت سے لبریز دہشت گردانہ کارروائی پر نیوزی لینڈ کے معاشرے نے جو توانا ردعمل دیا ہے اس میں ہم جیسوں معاشروں کے لیے لاتعداد سبق پنہاں ہیں۔ اس سفاکانہ عمل میں نیوزی لینڈ میں آباد مسلم کمیونٹی کو نشانہ بنایا گیا جو وہاں اقلیت میں ہے۔
اس بہیمانہ عمل پر یہ نہیں کہا گیا کہ یہ تو ایک خاص عقیدے کے افراد کے خلاف تھا اس لیے اکثریتی گروہ اس سے لاتعلق ہو کر رہ جائے۔ نیوزی لینڈ کے معاشرے نے دہشت گرد کو اور اس کی کارروائی کو ”اگر مگر“ کی چادروں سے ڈھکنے کی کوشش نہیں کی۔ اس پر یہ تہہ چڑھانے کی کوشش نہیں کی گئی کہ یہ ”تہذیبوں کے مابین ٹکراؤ“ کا شاخسانہ ہے۔ اس واقعے کی سنگینی کو یہ کہہ کر گھٹانے کی کوشش بھی نہیں کی گئی یہ مسلمانوں اور عیسائیوں کے درمیان صدیوں پرانی آویزش کا تسلسل ہے یا صلیبی جنگوں کی کڑی ہے۔
معاشرے نے یک آواز ہو کر اس کی مذمت کی اور مسلم کمیونٹی پر حملے کو نیوزی لینڈ کے معاشرے پر حملہ قرار دیا ہے۔ کسی عیسائی نے اگر مسلم کمیونٹی سے اظہار یک جہتی کیا تو اس کے عقیدے سوال نہیں اٹھایا گیا کہ یہ ایک غیر مذہب سے کیوں کر یک جہتی کا اظہار کر رہا ہے؟ اگر عیسائی اور یہودی مسلم کمیونٹی سے اظہار ہمدردی کے لیے مساجد کے باہر کھڑے ہوئے تو ان پر یہ فتوے نہیں لگے کہ یہ اپنے مذہب سے منحرف ہو چکے ہیں۔
نیوزی لینڈ کی وزیراعظم مسلمانوں سے اظہار ہمدردی کے لیے مساجد میں پہنچیں اور ماتمی لباس میں سر پر دوپٹہ اوڑھنے جب تعزیتی تقریب میں شریک ہوئیں تو کسی کونے سے یہ آواز نہیں ابھری کہ غیر مذہبوں کی بودو باش اختیار کر کے وہ اپنے عقیدے سے بغاوت کر رہی ہیں۔ نیوزی لینڈ کی وزیراعظم کے اس اقدام کو سراہا گیا اور اس کے نتیجے میں پورا معاشرہ یک زبان ہوکر سفید فام دہشت گرد کے خلاف صف آراء ہو چکا ہے۔ مہذب اور انسانیت نواز معاشروں کا یہی خاصہ ہے کہ وہ ایک انسان پر ہونے والے حملے کو مذہب، رنگ اور نسل کے خانوں میں نہیں بانٹتا۔
پاکستان میں ایک سیاسی رہنما بلاول بھٹو زرداری نے نے ہندوؤں کی ایک تقریب میں شرکت کی تو اس پر رجعت پسند قوتوں نے جو ہا ہا کار مچائی وہ نہایت ہی فضول تھی۔ ایک سیاسی رہنما فقط اس ملک میں بسنے والے مسلمانوں کا رہنما نہیں۔ وہ اس ملک میں بسنے والے تمام عقائد سے تعلق رکھنے والے افراد کو سیاسی رہنما ہے۔ سابق وزیر اعظم نواز شریف نے ایک بار ایک اقلیتی گروہ کے بارے میں چند بول بولے تو انہیں انتہا پسند قوتوں کی جانب سے ہدف تنقید بننا پڑا۔ مرحومہ عاصمہ جہانگیر نے ایک بار گیروے رنگ کے کپڑے پہن کر بھارت میں کسی تقریب میں شرکت کی تو اس پر ان پر ایسی طعن و تشنیع ہوئی کہ بعد از مرگ بھی انہیں نہیں بخشا جا رہا۔
معاشرے میں مذہبی اقلیتوں سے ہمارا رویہ بہت زیادہ معاندانہ تو نہیں لیکن اسے مثالی بھی نہیں قرار دیا جا سکتا۔ ان پر ٹوٹ پڑنے والی کسی افتاد پر بے شک حکومت اور معاشرے کی قلیل تعداد تو سراپا احتجاج ہوتی ہے لیکن اکثریت اس سے لاتعلق ہی رہتی ہے۔ ہم نیوزی لینڈ میں مسلمان اقلیت کے ساتھ ہونے والے ظلم کے اور پاکستان میں اقلیتوں کے ساتھ ہونے والی کسی زیادتی کا تقابل کریں تو اس میں دونوں معاشروں کے رد عمل میں ایک واضح تفاوت دکھائی دے گا۔
مسلمان کمیونٹی سے اظہار یک جہتی کے لیے ہزاروں افراد دعائیہ تقریبات میں شریک ہورہے ہیں جس میں اقلیتی مسلم کمیونٹی کے مقابلے میں سب سے بڑی تعداد عیسائیوں، یہودیوں، سکھوں اور دوسرے مذاہب کے ماننے والے شامل ہیں۔ اس کے بالمقابل اقلیتی کمیونٹی کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں پر ہم رد عمل اس کا عشر عشیر بھی نہیں ہوتا۔ چھوٹی چھوٹی تقریبات میں ایک آدھ وزیر کی شرکت سے حکومت اپنی ذمہ داری پورا کرنے کا تاثر دیتی ہے لیکن معاشرے کی اکثریت اس سے لاتعلق ہی رہتی ہے۔
کسی اقلیت کے ساتھ اظہار یک جہتی کرنا ایک مذہب کے ماننے والوں کی انسانیت نوازی کا سب سے بڑا ثبوت ہوتا ہے۔ ایک مسلمان کو تو اس لیے بھی سب سے بڑا انسانیت نواز ہونا چاہیے کیونکہ وہ محسن انسانیت صلعم کے ماننے والے ہیں۔ ہمیں اس رجعت پسند سوچ سے چھٹکارا حاصل کرنا ہو گا کہ کسی دوسرے مذہب کی خوشی یا غمی کی تقریب میں شرکت کا تعلق عقیدے سے ہے یا اس سے کسی کے عقیدے کے بھرشسٹ ہونے کا خطرہ ہوتا ہے۔ مذہبی رہنماؤں کے عقیدوں کو اگر غیر ملکی سفارت خانوں میں منعقد ہونے والی کرسمس اور دوسری مذہبی تقریبات اے سے خطرہ نہیں تو پھر پاکستان کے ایک عام فرد کو تو بالکل خطرہ نہیں ہو سکتا۔
معاشرے کا تنوع اور رنگا رنگی ہی اس کی خوبصورتی ہوتا ہے اور برداشت کا کلچر اس کے حسن کو چار چاند لگاتا ہے۔ انسانیت نوازی اور پر امن بقائے باہمی کا حسین مناظر جو نیوزی لینڈ کی سرزمین پر دیکھنے کو ملے وہی اس کی پہچان اور سفیر بن کر دنیا بھر میں اس کے مہذب اور روشن چہرے کو دکھا رہے ہیں۔ ہمیں بھی نیوزی لینڈ کے معاشرے کے نقش پا پر چلتے ہوئے برداشت اور تحمل کے ستونوں پر اپنے معاشرے کی عمارت کھڑی کرنی ہوگی۔
ایک انسانیت نواز معاشرے کی تخلیق ہی پاکستان کی بقا و ترقی کی ضامن ہے جس سے بدقسمتی سے ہم ابھی تک کوسوں دور ہیں۔ سیانوں کا کہنا ہے کہ فرد اور قوم اپنی خوبیوں پر ترقی کرتی ہیں ناکہ دوسروں کی خامیاں گننے سے مستقبل کی راہ روشن ہوتی ہے۔ اپنے اندر خوبیاں پیدا کریں تاکہ دنیا بھر میں ہماری بھی مثالیں بھی دی جا سکیں۔ اب کب تک ہم دوسروں کی مٹھائی کی دکان کو دیکھ دیکھ کر للچاتے رہیں گے۔ اے خانہ برانداز چمن کچھ اندر بھی مٹھاس پیدا کر۔


