سلطنت عثمانیہ اور یینی چیری

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یینی چیری سلطنت عثمانیہ کی پیادہ فوج کے بہترین دستوں کا نام تھا، اس فوج کی تشکیل 1365 ء میں سلطان مراد اول کے دور میں ہوئی۔ ترکی زبان میں یینی چیری کا مطلب نئی فوج ہے ( ”Yeni“ مطلب نئی اور ”Çeri“ مطلب فوج) ۔ یینی چیری ترکی ہی نہیں بلکہ دنیا کی پہلی باقاعدہ فوج تھی۔ ابتداء میں یینی چری ماہر تیر اندازوں کا دستہ تھا، لیکن 1440 ء کی دہائی میں بارود کی دستیابی پر انہوں نے بندوقیں سنبھال لیں۔ یینی چری دنیا کی پہلی باقاعدہ فوج تھی جس نے بارود کا استعمال کیا۔ اس نے پندرہویں صدی میں ہی بندوقوں کا استعمال شروع کردیا تھا۔

یینی چیری سے پہلے عثمانی فوج وقتی ضرورت کے تحت مختلف ترک قبائل سے اکٹھے کیے گئے افراد پر مشتمل ہوا کرتی تھی جنہیں غازی کہا جاتا تھا۔ قبائلی عصبیت کی وجہ سے غازیوں کی وفاداری سلطان سے زیادہ اپنے قبیلے کے سردار سے ہوا کرتی تھی۔ لہذا جوں ہی ترکی سلطنت پھیلنا شروع ہوئی تو ایک ایسی باقاعدہ فوج کی ضرورت محسوس ہوئی جو صرف سلطان کے وفادار ہوں۔

یینی چیری نامی فوج کی بنیاد تب پڑی جب جنگ میں پکڑے جانے والے غیرمسلم قیدیوں کے ایک گروہ کو اسلام قبول کروانے کے بعد ذاتی محافظوں کے طور سلطان کی خدمت میں دے دیا گیا۔ شروع میں سلطان کبھی کبھار مال غنیمت سے اپنا پانچواں حصہ مال کی بجائے غلاموں کی صورت میں وصول کر لیا کرتا تھا۔ شیخ السلام کے فتوے کے بعد عیسائی آبادی سے ان کے کم سن بچے بھی خراج کے طور پر بھی لئے جانے لگے جو سلطان کے ذاتی غلام سمجھے جاتے تھے۔

مزید غلاموں کی خاطر باقاعدہ مہمیں بھیجی جاتی تھیں، جس میں بلقان اور اناطولیہ کے عیسائی کسانوں اور بغیر ماں باپ کے بچوں کو اغوا کیا جاتا تھا۔ ان بچوں کو ترک خاندانوں کے حوالے کیا جاتا تھا، جہاں ختنہ کرنے کے بعد انہیں اسلامی تعلیمات، ترکی زبان اور ترک معاشرت سے روشناس کروایا جاتا۔ چونکہ ان بچوں کا اپنے خاندان سے کسی بھی قسم کا رابطہ نہ ہوتا تھا اس لئے یہ آسانی سے اسلامی رنگ میں رنگے جاتے۔

بعد کے سالوں میں ابتدائی تعلیم سے فارغ ہونے کے بعد انہیں مکتب اندرون میں بھیجا جانے لگا۔ وہاں سے فارغ التحصیل نوجوانوں کو ان کی قابلیت کے لحاظ سے مراتب ملتے تھے۔ ان میں زیادہ ذہین بچے تعلیم کے بعد ریاستی انتظامیہ میں افسران کے طور پر بھرتی کر لئے جاتے تھے، بقایا بچے فوجی تربیت کے بعد یینی چیری دستوں کا حصہ بنتے تھے جو پندرہویں اور سولہویں صدی کے یورپ میں سب سے بہتر اور موثر فوجی دستے کے طور پر شہرت رکھتے تھے۔

چونکہ فوج اور شہری انتظامیہ کا انتخاب غیر ترکوں سے کیا جاتا تھا اس وجہ سے سلطان کا سلطنت پر بہت زیادہ کنٹرول ہوا کرتا تھا۔ یینی چیری کو سکھایا جاتا کہ ان کی چھاونی ان کا گھر، ان کے یینی چیری ساتھی ان کا خاندان اور سلطان ان کا باپ ہے۔ سلطان سے ینی چری کی وفاداری کا یہ عالم تھا کہ ان دستوں کے کمان دار کو چوربا جی یعنی شوربہ بنانے والا کہا جاتا تھا۔ سلطان کے سامنے اپنی عاجزی اور وفاداری کا علامتی اظہار کرنے کے لئے چوربا جی شوربے کے لئے استعمال ہونے والے کفگیر کو یونیفارم کے حصے کے طور پر استعمال کرتا تھا۔

سلطان کے علاوہ یینی چیری کا تعلق بکتاشیہ سلسلہ طریقت کے آغا سے ہوا کرتا تھا۔ اس سلسلہ کی بنیاد بالیم سلطان نے حاجی بکتاش ولی خراسانی کے نام پر رکھی تھی۔ بکتاشیہ سلسلہ کا آغا یینی چیری دستوں میں کرنل کا عہدہ رکھتا تھا۔ سلسلہ بکتاشیہ کے درویش امن کے دنوں میں یینی چیری فوجوں کی چھاونی میں اور جنگ میں محاذ پر ساتھ ہوا کرتے تھے۔

یینی چیری کے علاوہ 1389 ء میں ہی سلطان نے عثمانی فوج بھرتی کا ایک نیا نظام متعارف کروایا جس کے مطابق ضرورت پڑنے پر ہر گاؤں کو سلطان کے حکم پر بھرتی دفتر پر مسلح نوجوان پیش کرنا ہوتے تھے۔ اس بے قاعدہ پیادہ فوج کو ”عرب“ کہا جاتا تھا۔ ان کو عام ذمہ داری سڑکوں اور پلوں کی تعمیر، جنگ کے دوران سامان رسد کی فراہمی خیموں کی تنصیب، کھانے کی تیاری اور فوجیوں کو طبی امداد کی فراہمی کے علاوہ محاز جنگ پر، سڑکیں اور پل بنانا ہوا کرتا تھا۔

لیکن کبھی کبھار کسی اچانک حملے کی صورت میں مرنے کے لئے انہیں محاز پر بھی بھیجا جاتا تھا تاکہ جب تک باقاعدہ فوج نہیں پہنچ پاتی تو یہ دشمن کی پیش قدمی کو سست کرنے کے کوشش کریں۔ ”عربوں“ کے ”باشی بزوک“ دستے بے گھر اور مجرموں پر مشتمل ہوا کرتے تھے جو غیر منظم اور وحشی ہونے کی وجہ سے دو بدو جنگ میں انتہائی موثر خیال کیے جاتے تھے۔

یینی چیری کو فوجی تربیت کے دوران بہت سخت مشقت و محنت سے گزارا جاتا تھا جس سے وہ جنگجوؤں کی ایسی فوج بن گئی کہ ان وقتوں میں ان کا کوئی ثانی نہ تھا۔ یینی چیری کا واحد ذمہ داری صرف جنگ کرنا ہوتی تھی۔ ان کی وفاداری کو سلطان تک محدود رکھنے کے لئے انہیں ریاست کے باقی شہرہوں سے الگ تھلگ رکھا جاتا تھا جس کے لئے خصوصی قوانین وضع کیے گئے تھے۔ اپنی ملازمت کے دوران یینی چیری کو شادی کی اجازت بھی نہیں ہوا کرتی تھی، یہ صرف مونچھیں رکھتے تھے، انہیں دیگر مسلمانوں کی طرح داڑھی رکھنے کی اجازت بھی نہیں تھی۔

انہیں ہر تین ماہ بعد باقاعدگی سے نقد تنخواہیں دی جاتی تھیں۔ تنخواہوں کی ادائیگی کے وقت سلطان خود یینی چیری کے لباس میں چھاؤنی آتا تھا اور خود بھی قطار میں لگ کر تنخواہ وصول کرتا تھا۔ یینی چیری ایک مخصوص وردی پہنتے تھے جو انہیں انتظامیہ کی جانب سے دی جاتی تھی۔ نظم و ضبط، بہادری، دلیری اور سلطان کی خاطر جان کی بازی لگا دینا یینی چیری کا طرہ امتیاز تھا۔ جنگ میں یینی چیری دستوں کی قیادت ہمیشہ سلطان خود کرتا تھا۔ 1402 ء میں امیر تیمور نے عثمانی سلطنت کے ماتحت قبائل کو ساتھ ملا کر جب بایزید اول کوجنگ انقرہ میں شکست دے کر اسے زندہ گرفتار کیا تو یہ تب ہی ممکن ہوا تھا جب یینی چیری دستہ ختم ہو چکا تھا۔ یینی چیری کی جانثاری کا ذکر ہیرلڈ لیم کی کتاب ”امیر تیمور“ میں یوں درج ہے۔

”بایزید نے ایک ہزار یینی چیری اپنے ساتھ لے کر ایک پہاڑی سے تاتاریوں کو مار بھگایا، پھر تیر سنبھالے ہوئے جم کر کھڑا ہو گیا اور تیسرے پہر کا تمام وقت بے جگری سے لڑتا رہا۔ جس طرح واٹرلو کی لڑائی میں جب نپولین کی فوج بھاگ نکلی تو اس کی اولڈ گارڈ بٹالین اس کے ساتھ آخر دم تک لڑتی رہی، اسی طرح بایزید کی اس فوج نے بھی لڑتے لڑتے جان ہار دی“۔

ترکوں کی فتوحات میں یینی چیری کا بہت زیادہ حصہ ہے جن میں، 1453 ء میں قسطنطنیہ پر قبضہ، 1514 ء میں جنگ چالدران میں صفوی ایرانیوں کو شکست دے کر اناطولیہ کے مشرقی حصے پر قبضہ اور 1516 ء میں مرج دابق نامی لڑائی جس میں عثمانیوں نے مملوکوں سے حلب و دمشق وغیرہ چھین لئے، جیسی جنگیں شامل ہیں۔ جنگ میں یینی چری کا کام یہ ہوا کرتا تھا کہ اگر کہیں بھی دشمن کے قلعے یا صف بندی میں دراڑ پڑی ہے تو یینی چیری ایک دم سے آگے پہنچ کرہلہ ہول دیں۔

جنگوں میں یینی چیری جنگ کے آخری لمحوں میں وارد ہوتے تھے اور اپنی بے پناہ مہارت اور بہادری سے جنگ کا پانسہ پلٹ دیا کرتے تھے، اسی وجہ سے یورپی باشاہ یینی چیری کو ترکوں کا خفیہ ہتھیار کہتے تھے۔ ان کی بہادری کا سب سے بڑا واقعہ جنگ مہاج بتایا جاتا ہے جہاں ینی چری نے ہنگری کی سوار فوج کو صرف رائفلوں کی بوچھاڑ سے زیر کر لیا تھا۔ اپنے انہی کارناموں کی وجہ سے یینی چیری یورپ کے لئے دہشت کی ایک علامت بن گئے تھے۔

یینی چیری کی تعداد بیس ہزار سے بڑھ کر اٹھارویں صدی کے وسط میں ڈیڑھ لاکھ کے لگ بھگ ہو چکی تھی۔ سلطان سے بے پناہ وفادری اور چھوٹے ہتھیاروں کے استعمال میں مہارت اور نظم و ضبط اور بہادری کی وجہ سے یینی چیری سلطان کی فوج میں ایک اہم مقام حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ جس کے نتیجے سلاطین نے انہیں بہت زیادہ مراعات سے نوازا۔ یینی چیری کے کمانڈر جسے آغا کہہ جاتا تھا، وہ شاہی دیوان کا مرتبہ رکھتا تھا اور عہدے کے لحاظ سے صدر اعظم سے نیچے ہوتا تھا، لیکن باقی تمام فوجی کمانداروں سے اس کا رتبہ بلند ہوتا تھا۔ یینی چیری عثمانی حکومت میں اپنی اہمیت سے بخوبی واقف تھے اور اس لئے انہیں کئی مرتبہ بغاوتیں بھی کی جن میں پہلی بغاوت تنخواہوں میں اضافے کے لئے 1449 ء میں کی گئی جس میں ان کے مطالبات تسلیم کیے گئے۔ 1451 ء کے بعد وہ ہر نئے سلطان سے انعامات و اکرامات اور تنخواہوں میں اضافے کا مطالبہ کرتے رہے۔

وقت گزرنے کے ساتھ یینی چیری کی تنظیم میں تبدیلیاں آنا شروع ہو گئیں۔ 1566 ء میں سلطان سلیم دوم نے یینی چری کو شادیاں کرنے کی بھی اجازت دے دی۔ سترہویں صدی میں سلطان کے کمزور ہو جانے کی وجہ سے پہلے جیسا نظم وضبط، کڑی تربیت اور پابندیاں ختم ہونا شروع ہو گئیں۔ سلطان تین سو سالہ پرانی روایت کا خاتمہ کرنے پر مجبور ہوا جس کے نتیجے میں یینی چیری کے بچوں کو بھی یینی چیری میں ملازمت ملنا شروع ہو گئی، داڑھی نہ رکھنے کی پابندی بھی ختم کر دی گئی۔

1683 ء میں یینی چیری کے غلام ہونے کی شرط کے خاتمے کے بعد یینی چیری کی عزت و وقار میں مزید اضافہ ہوا جس سے مسلم ترک خاندانوں میں بھی یہ خواہش پیدا ہوئی کہ ان کا بیٹا بھی یینی چیری میں بھرتی ہو۔ یوں ترک اشرافیہ نے بھی اپنے بچے یینی چیری میں بھرتی کروانے شروع کر دیے۔ چنانچہ سترہویں صدی کے آخر چوتھائی میں عیسائی آبادی سے یینی چیری کی بھرتی ختم کر دی گئی۔

بہت سے معاصر مبصرین کے نزدیک جب مسلمانوں اور یینی چیری کے بیٹوں کو اس میں بھرتی ہونے کی اجازت دی گئی تو غلامی والا نظم و ضبط اور کٹھن تربیت کا معیار کم ہونے سے ان کا حربی معیار بھی شدید طور پر متاثر ہوا۔ یینی چیری نے درباری سیاست میں بھی حصہ لینا شروع کر دیا، یوں معاشی اور سماجی بدحالی کے دورمیں یینی چیری نے بہت زیادہ مراعات حاصل کر لیں۔ یینی چیری کے افسران نے اس ٹیکس سے بھی استثنیٰ حاصل کر لیا جو مسلمان آبادی کو دینا پڑتے تھے۔

لیکن جہاں یینی چیری کے افسران بہت امیر ہوتے گئے، وہیں نچلے درجے کے فوجیوں کو بسا اوقات تنخواہ تک نہ ملتی تھی۔ اور یوں یینی چیری کے نچلی سطح کے لوگوں نے دستکاریوں اور تجارت کی طرف توجہ مبذول کر لی۔ معاشی سرگرمیوں میں حصہ لینے کی وجہ سے یینی چیری کے تعلقات شہری آبادی سے قائم ہوئے اور ان کی سلطان سے وفادری میں پہلے جیسی گرم جوشی نہ رہی۔

یینی چیری جو کبھی سلطنت عثمانیہ کی محافظ تھی، اٹھارویں صدی تک اپنا نظم و ضبط کھو کر اور شہری زندگی کے عادی ہو کر اپنی افادیت کھو بیٹھی۔ وہ تاجر اور جاگیردار بننے کی وجہ سے اپنی ذمہ داریوں سے غافل ہو گئے، ان کی کارروائیوں کا محور محاذ جنگ کی بجائے ملک کے اندر اقتدار کی جنگ بن گئی۔ مذہبی حلقوں سے تعلق رکھنے والے یینی چیری افسران نے اتنا رسوخ حاصل کر لیا کہ وہ کسی بھی درباری یا صدر اعظم کو برخواست کروا سکتے تھے، یہی نہیں بلکہ انہوں نے سلطان تک کو بدلنے کی بھی قوت حاصل کر لی۔

یینی چیری کے بادشاہ گر بننے کی وجہ ان کی وہ سیاسی طاقت تھی جو انہوں نے علما، مفتیوں اور قاضیوں سے قریبی تعلق کی وجہ سے حاصل کر لی تھی جس سے وہ سلطان کے لئے بھی خطرہ بن گئے۔ یینی چیری میں بڑھتا کرپشن عثمانی سلطنت کی عسکری قوت کو کم کرنے اور بیرونی حملوں کا باعث بنا۔ جنگ خوتین میں پولینڈ سے شکست کا ذمہ دار یینی چیری کو ٹھہرایا گیا، اور جب سلطان عثمان دوم نے اصلاحات کرنا چاہی تو یینی چری نے اسے قتل کر دیا۔

1683 ء میں ویانا کے دوسرے محاصرے میں ناکامی کے بعد بھی یینی چیری نے فوجی تنظیم کو جدید بنانے کے ہر اقدام کی مخالفت کی۔ جنگ زنتا میں ترکوں کی شکست ہوئی جس کے نتیجے میں میں ترکوں کو 16 جنوری 1699 ء میں کارلویتز کا صلح نامہ قبول کرنا پڑا، یوں وسطی یورپ کا کثیر حصہ ترکوں کے ہاتھوں سے نکل گیا اس کا الزام بھی یینی چیری کو دیا گیا۔

ترکی کی سمٹتی سلطنت اور عسکری کمزوری سے نپٹنے کے لئے سلطان سلیم سوم نے نظام جدت کے تحت جدید یورپی اسلحے اور جنگی طریقوں کے مطابق نئی فوج تشکیل دینا چاہی لیکن یینی چیری اپنی معاشی و عسکری قوت کی وجہ سے تمام نئی اصلاحات کی مخالفت کر رہے تھے، حتیٰ کہ جب انہیں یورپی طرز کی فوجی وردی پہننے کا حکم دیا گیا تو انہوں نے حکم ماننے کی بجائے بغاوت کر دی۔ یینی چری نے شیخ الاسلام عطاء اللہ آفندی سے فتویٰ دلوایا جس کے مطابق یورپی طرز پر فوجوں کی تنظیم کو بے دینی سے تعبیر کیا گیا۔

جدید فوجی وردیوں کو عیسائیوں سے مشابہ اور سنگین تک کے استعمال کی اس لیے مخالفت کی گئی کہ کافروں کے اسلحے استعمال کرنا گناہ تھا۔ سلیم پر الزام لگایا گیا کہ وہ کفار کے طریقے رائج کرکے اسلام کو خراب کررہا ہے۔ عطاء اللہ آفندی نے فتویٰ دیا کہ ایسا بادشاہ جو قرآن کے خلاف عمل کرتا ہو بادشاہی کے لائق نہیں چنانچہ 1807 ء میں سلیم کو معزول کرکے قتل کردیا گیا۔

یینی چیری نے سلیم کے بعد اس کے بھائی مصطفیٰ چہارم کو تخت پر بٹھایا۔ لیکن سلیم کے ساتھیوں نے شدید جدوجہد کے بعد مصطفیٰ کو ہٹا کر سلیم کے بھتیجے محمود دوم کو 1808 ء میں تخت نشین کروایا۔ سلطان محمود ثانی اپنے چچا کی طرح ترک افواج کو جدید خطوط پر استوار کرنا چاہتا تھا جبکہ یینی چیری جدیدیت کے ہر اقدام کی مخالفت کر رہے تھے اس لیے ان دونوں قوتوں کے درمیان ٹکراؤ ناگزیر تھا۔ سلطان خاموشی سے تبدیلی کی قوتوں کو ساتھ ملاتا رہا اور جب اسے محسوس ہوا کہ وہ یینی چیری سے نپٹ سکتا ہے تو اس نے جان بوجھ کر ایسے حالات پیدا کیے کہ یینی چیری مشتعل ہو کر بغاوت کریں۔

اس کے لئے سلطان مراد نے اپنے متعلق ایک فتویٰ مشہور کروایا کہ اس نے اپنے چچا کی طرح یورپی انداز میں فوج تشکیل دی ہے جس کی وردی یورپی طرز کی تھی اور اس کے مطابق فوجی پگڑی کے بجائے ترکی ٹوپی پہننا تھی۔ یینی چیری تک جب یہ خبر پہنچی تو انہوں نے استنبول میں بغاوت کر دی لیکن اس مرتبہ فوج اور عوام ان کے خلاف تھی۔ سلطان کے گھڑ سوار دستے خفیہ طور پر ان کی چھاؤنیوں میں جا پہنچے اور توپ خانے سے ان پر گولہ باری کی گئی جس کے نتیجے میں چھ ہزار یینی چیری مارے گئے، کچھ جلاوطن ہوئے اور کچھ بھاگ گئے جن کی جائیداد پر سلطان نے قبضہ کر لیا۔ اگلے دو سال کے اندر اندر ملک بھر سے یینی چیری افواج کا خاتمہ کردیا گیا۔ سلطان نے بکتاشی سلسلہ پر بھی پابندی عائد کر دی۔ یینی چیری کے اس خاتمے کو ترکی زبان میں واقعۂ خیریئے کہا جاتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •