نیٹ کا نشہ چھڑانے کے چینی مراکز میں کیا ہوتا ہے؟


والدین پر لاپروائی کا الزام

نوجوان نسل کے انٹرنیٹ کے نشے میں مبتلاہونے پر مختلف طبقات اور چینی میڈیا حکومت کے بعد والدین کو بھی موردِ الزام ٹھہراتا ہے۔ جب بھی کسی نوجوان کی کیمپ میں موت کی خبر آتی ہے، اس کے ساتھ ہی اس کے ماں باپ کے حوالے سے یہ تبصرہ بھی ضرور سامنے آتا ہے کہ انھوں نے بروقت بچے یا بچی کو نیٹ یا گیمنگ کی لت میں مبتلا ہونے سے کیوں نہیں روکا؟ اس بات کا انتظار کیوں کیا گیا کہ مرض اتنا شدید ہوجائے کہ اس کو علاج گاہ میں داخل کرانا پڑے؟

ادھر گیمز ڈویلپ کرنے والی کمپنیوں پر بھی تنقید کی جارہی ہے کہ وہ اس طرح کی گیمز کیوں تیار کرتی ہیں، جن کے کھیلنے والے عادی ہوجاتے ہیں اور ان کے بغیر رہ نہیں سکتے۔ اس تنقید کے بعد چین میں گیمنگ کی ایک بڑی کمپنیTencentنے اپنے مراکز میں بچوں اور نوعمر لڑکوں لڑکیوں کے گیم کھیلنے کے اوقات کم کر دیے ہیں۔ یہ بھی سنا جا رہا ہے کہ اگلے ماہ ان مراکز میں آنے اور کھیلنے والوں کی عمر کی حد مقرر کی جائے گی۔

”امّاں ابّا نے دھوکے سے کیمپ میں لا پھینکا! “

زیونگ زو کی عمر اٹھارہ سال ہے اور وہ بھی نیٹ نشے کا موالی ہے۔ اسے پچھلے مہینے والدین نے پک نک کے بہانے سے ساتھ لیا اور پک نک کروا کے آدھی رات کو گھر واپسی کے سفر کے دوران انٹرنیٹ ایڈکشن سینٹر میں لا کر داخل کروا دیا۔ جب اسے احساس ہوا کہ والدین اس کے ساتھ کیا واردات کر رہے ہیں تو زیونگ زو نے بہت مزاحمت کی۔ وہ چیخا چلایا، ماں باپ کی منّت سماجت کی کہ اسے ان ’قصائیوں‘ کے حوالے نہ کیا جائے۔ وہ وعدہ کرتا ہے کہ آئندہ نیٹ کا استعمال کم کرے گا یا بالکل نہیں کرے گا۔ مگر اس کے والدین کے بقول وہ کئی سال سے یہ کوشش کر رہے تھے کہ ان کا بیٹا اس عادت سے نکل آئے لیکن ہر طرح کی کوششیں ناکام ہو چکی تھیں۔ اس لیے انھوں نے دل پر پتھر رکھ کر زیونگ زو کو بوٹ کیمپ کے حوالے کیا جو اُن کے گھرسے 600 سو کلومیٹر دور ہے۔

کیمپ میں داخلہ ہوجانے کے بعد زیونگ زو نے وہاں نئے بننے والے ایک دوست سے بات کرتے ہوئے اپنے دل کی بھڑاس نکالتے ہوئے کہا کہ اگر اسے پہلے سے معلوم ہوتا کہ امّاں ابّا اس کے ساتھ یہ کرنے والے ہیں تو وہ گھر چھوڑ کر بھاگ جاتا یا پھر۔ یا پھر انھیں دوسری دنیا بھجوا دیتا اور پھر خود آزاد ہوکر اپنی مرضی کی زندگی گزارتا۔

زیونگ زو کو جس زو زیانگ ینگ کیمپ میں داخل کروایا گیا ہے، اس کا 57 سالہ انچارج مسٹر سو کہتا ہے کہ میں اس دنیا میں، میں آن لائن گیمز کا سب سے بڑا مخالف ہوں۔ انٹرنیٹ کی بد عادت، خاص طور پر گیمز انسانی صحت کو برباد کر دیتی ہیں۔ ہمارے نوجوان جو اس لت میں مبتلا ہوجاتے ہیں، وہ ملک، قوم اور والدین کے لیے کسی کام کے نہیں رہتے۔ نہ پڑھتے ہیں اور نہ ہی کھانے کمانے کے لائق رہتے ہیں۔

چین اس وقت دنیا کی سب سے بڑی ”آن لائن کمیونٹی“ ہے، جس کے 71 کروڑ افراد انٹرنیٹ استعمال کرتے ہیں۔ اس سے متعلق زو زیانگ ینگ کیمپ کے انچارج سو کی اہلیہ اور اس کی بزنس پارٹنر لی یان کہتی ہیں :

”نیٹ نشّے کے موالی نوجوان اندر سے خالی ہوجاتے ہیں۔ نہ ان کے من میں جینے اور کچھ حاصل کرنے کی امنگ رہتی ہے اور نہ ہی وہ خود کو اس معاشرے کا کارآمد شہری بنانے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ ان میں سے جن کے والدین انھیں سیل فون یا دوسری ایسی ڈیواسز دلوا نہیں سکتے، وہ نیٹ کیفے ز کا رخ کرتے ہیں، جہاں وہ زیادہ کھل کھیلتے ہیں اور اس کے نتیجے میں وہ بچے اخلاقی طور پر بھی تباہ ہوجاتے ہیں۔

3D concept

سب سے تباہ کن گیمز

اس وقت جو آن لائن گیمز سب سے زیادہ تباہ کن سمجھی جا رہی ہیں، وہ لیگ آف لیجینڈز، کنگ آف گلوری اور کاؤنٹر اسٹرائیک ہیں۔ یہ اس طرح کی گیمز ہیں، جن کو اگر ایک بار شروع کردیں تو نوجوان اپنے گرد و پیش سے کٹ جاتے ہیں۔ اپنے ماحول، گھر اور کام کاج کو بھول جاتے ہیں۔ گذشتہ ماہ اسی گیم میں مسلسل 40 گھنٹے مگن ہو کر گوانگ زہو سٹی کا ایک 17 سالہ طالب علم دل کی دھڑکن اور ہیجان بڑھ جانے پر بیٹھے بیٹھے مر گیا۔

اٹھارہ سالہ طالبہ بنگ جیانگ کو بھی اسی ایڈکشن کے باعث، اس کی ماں نے دھوکے سے بوٹ کیمپ لا کر داخل کرایا۔ وہ سمارٹ فون پر گیمز کھیلنے کے چکر میں اسکول بھی چھوڑ چکی تھی۔ وہ جب اس کیمپ میں آئی تو اس نے پہلا سوال یہ کیا کہ کیا یہاں وائی فائی ہے؟ اسے بتایاگیا کہ ہاں، یہاں مفت وائی فائی موجود ہے۔ پاس ورڈ کیا ہے؟ اس نے نہایت بے چینی سے دوسرا سوال کیا تھا۔ تب اسے جواب ملا کہ وائی فائی ہے تو سہی مگ سوائے کیمپ انچارج اور ان کے ایڈمن کے کوئی یہاں نیٹ استعمال نہیں کرسکتا۔

حتیٰ کہ انسٹرکٹرز بھی نہیں۔ ایسے میں ان مریضوں کو یہ سہولت دینے کا کیا سوال جو یہاں لائے ہی اس عادت چھڑانے کے لیے گئے ہیں! ۔ اس پر بنگ جیانگ کی مایوسی اور غصے کی کوئی حد نہ رہی اور وہ اپنی ماں اور کیمپ کے لوگوں کو گالیاں دینے لگی، جنھوں نے اس سے سیل فون چھین کر نیٹ سے محروم کر دیا تھا۔ اگلے چھ ماہ کے دوران بنگ جیانگ کی ماں کئی بار اس سے ملنے کیمپ آئی مگر ضدی بیٹی نے اس سے ملنے سے انکار کر دیا۔ ایک بار جب انتظامیہ نے زبردستی اسے ماں کے سامنے لے جا کر بٹھایاتو بنگ نے بوڑھی ماں پر حملہ کر دیا۔ وہ اتنی مشتعل ہوگئی تھی کہ کسی کے قابو میں نہیں آتی تھی۔ بالآخر دو مرد گارڈز اسے زبردتی اٹھا کر لے گئے اور اسے لے جا کر کوٹھری میں بند کر دیا، جہاں اسے کئی دن تک قیدِ تنہائی میں رکھا گیا۔ تب جا کر اس کے ہوش ٹھکاناے آئے اور وہ نارمل ہوئی۔ بنگ جیانگ اب بھی اسی کیمپ میں زیرِ علاج ہے۔

کیمپ کے ایک استاد ڈاکٹر تاؤ ہونگ کائی کہتے ہیں کہ ایسے مریض جب مرکز میں لائے جاتے ہیں تو ان میں سے 90 فیصد بھیانک ڈپریشن میں مبتلا ہوتے ہیں۔ ان میں سے 58 فیصد وہ ہوتے ہیں، جنھیں جب والدین نے ہر وقت آن لائن رہنے سے روکا تو وہ تشدد پر اتر آئے اور ماں باپ پر حملہ آور ہوئے۔ یہ مریض مافیا اور دوسرے سماج دشمن گرووں کو اپنا آئیڈیل سمجھنے لگتے ہیں اور 67 فیصد حقیقی دنیا اور فکشن میں فرق کرنے کے قابل بھی نہیں رہتے۔ اس لیے ان پر سختی کی جاتی ہے تاکہ وہ ”بندے دے پتر“ بن جائیں! ۔

مگرنیوزی لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر ٹرینٹ بیکس، تاؤ ہوئی کانگ کے طریقہِ کار کے سخت مخالف ہیں اور اسے غیر انسانی قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں :

”انٹرنیٹ کا نشّہ بھی منشیات کی عادت جیسا ہے۔ آپ منشیات کے مریضوں سے نشے کی عادت چھڑانے کے لیے تشدد تو نہیں کرتے نا؟ پھر آپ ان بچوں سے کیسے اتنی مارپیٹ کر سکتے ہیں کہ وہ جان سے ہی گزر جاتے ہیں؟ “۔

چین کے ان مراکز میں نیٹ نشّہ چھڑانے کی بہت بھاری بھرکم فیس لی جاتی ہے۔ جیسے ایک مریض نوجوان کو آٹھ ماہ تک رکھا گیا تو اس کے والدین سے اس کے عیوض ایک لاکھ سترہ ہزار یوآن لیے گئے جو ساڑھے 17 ہزار برطانوی پاؤنڈ یا ہمارے تقریباً 40 لاکھ روپے بنتے ہیں۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ کئی مریض ان مراکز سے ”فارغ التحصیل“ ہونے کے بعد ایک بار پھر نیٹ کے نشّے میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔

اس کے باوجود چین میں اس طرح کے مزید کیمپس کھولے جارہے ہیں تا کہ مستقبل کے معماروں کو تباہ ہونے سے بچایا جاسکے۔ بھارت میں بھی ایسا ایک مرکز کھل چکا ہے۔

آپ اپنے اردگرد نظر دوڑائیں، خاص طور پر اپنے گھر میں دیکھیں کہ کہیں ہمارے اپنے بچے تو نیٹ نشّے کے بھیانک چنگل میں نہیں پھنس گئے؟ خدانخواستہ اگر ایسا ہے تو ابھی سے احتیاطی اقدامات اٹھانا شروع کردیں۔ کہیں دیر نہ ہوجائے! ۔
(بشکریہ: روزنامہ 92 نیوز)

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2