دو تصویروں کی کہانی!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دو تصویریں میرے سامنے رکھی ہیں۔ ایک تصویر بڑی د ل فگار و دل گیر، دوسری حوصلہ افزا و پرتاثیر۔ ایک قابلِ صد رشک دوسری باعث دل صد چاک۔ ایک دردِ دل کی غمّاز اور دوسری دل گرفتہ و دل گداز۔ ایک اخلاص و بے لوث خدمت کی بہترین مثال، دوسری ریا کاری و تصنع کا وبال۔ ایک روح پرور اور دوسری روح فرسا۔ ایک ریاستی قہر و سفاکی کی آئینہ دار، دوسری ریاستی تحفظ و رٹ کی شاہکار۔ یہ دو تصویریں چیخ چیخ کر اعلان کر رہی ہیں کہ دو ریاستوں، مملکتوں اور معاشروں میں کتنا تفاوت ہے۔ یہ دو تصویریں نہیں، درحقیقت دو ریاستوں کی کہانی ہے۔ دو تہذیبوں کی نشانی ہے۔ دو ملکوں کی ترجمانی ہے۔ دو معاشروں کی جولانی ہے۔ دو تمدنوں کا برملا و بے ساختہ اظہار ہے۔ دو سماجوں کے جینے کا برجستہ معیار ہے۔ دو طرح کے انسانوں کے رویوں کا بے تکلف شاہکار ہے۔

ایک تصویر میں ایک جیسا لباس پہنے دو ننھی پریاں قوم کے محافظوں اور خدمت گزاروں کے سامنے زخمی بدن، گھائل دل، مجروح روح اور ضبط سے چاک چاک زبانوں کو لیے سہمی، ڈری، سمٹی بیٹھی ہیں۔ ریاست کے محافظوں نے ان ننھی پریوں کے والدین کو دہشت گرد قرار دے کر سرعام گولیوں سے بھون دیا تھا۔ بڑی بہن کے معصوم جسم پر گولیوں سے چھلنی ماں کی آغوش میں سمٹے ہوئے کسی کمزور پرندے کی طرح اپنی نشانہ بازی کا ہنر آزمایا تھا۔ پھر ان ننھی پریوں کو خون آلود کپڑوں اور زخمی روحوں کے ساتھ والدین کی لاشوں سے زور سے کھینچ کر الگ کیا تھا۔ ماں مر گئی۔ باپ ذبح ہو گیا۔ بہن گولیوں سے بھون دی گئی۔ بھائی کو گھائل کردیا۔ اب ان ننھی پریوں کو مجرموں کی طرح جگہ جگہ گھمائے پھر رہے تھے۔

قیامت صغریٰ کے گزرنے کے بعد ایک اور قیامت یہ ہوئی کہ سفاک نشانہ بازی کے بعد والیانِ ریاستِ مدینہ (ثانی) کی طرف سے زہرناک ڈراما بازی شروع ہوئی۔ ریاست نے پل پل بیان بازی کے چولے بدلے، اجسام کے ساتھ جذبات و احساسات بھی چھلنی ہو گئے۔ ریاست کا والی صدمے کی حالت میں ننھی پریوں کی پتھرائی ہوئی آنکھوں کو منتظر چھوڑ کر اڑان بھرتا ہے اور سیدھا بیرون ملک جا کر طاؤس و رباب کے سہارے سانحے کا غم غلط کرنے لگتا ہے۔ چند ماہ بعد کہ ابھی مقتولین کا خون بھی خشک نہ ہوا تھا کہ والیانِ ریاست سمیت سب دردمندوں کا خون سفید ہو گیا اور یوں خونِ خاک نشیناں رزق خاک ہو کر قصے کو بے باق کرگیا۔ سکیورٹی سٹیٹ کی یہی کہانی ہوتی ہے کہ انسانوں کو ریاست پر بے دردی سے قربان کردیا جاتا ہے۔

 میرے سامنے رکھی دوسری تصویر “کافر” ملک کی خاتون وزیر اعظم کی ہے۔ اس کے ملک کو اپنا گھر سمجھنے والے کلمہ گو تارکین وطن کو جب اللہ کے گھر میں بے دردی سے خون میں نہلا دیا گیا تو وہ سچ مچ غم کی تصویر بن گئی۔ اس اندوہ ناک سانحے پر وہ فوراً منظر عام پر آئی۔ مجرم کے انسانیت سوز جرم پر نہ اگر مگر کی ملمع کاری کی نہ اس کے پیچھے بے بنیاد اسباب کی بیساکھی تلاش کی۔ نہ ردعمل اور مکافات عمل کا عذر لنگ پیش کیا اور نہ ہی اسے ذہنی و نفسیاتی مریض قرار دے کر اس کے جرم کی پردہ پوشی کی۔

کالے ملبوس اور اجلے دل کے ساتھ شہدا کے لواحقین کے ہاس حاضر ہوئی۔ اس کی آنکھوں میں دکھ کے آنسو مگر دل میں ایسے سانحات کے خاتمے کا پختہ عزم تھا۔ پولیس کی خاتون چیف نے گلوگیر آواز میں اس دل خراش سانحے کے شہدا کو خراج عقیدت پیش کیا۔ جب ماں جیسی ریاست کا منتظم اعلٰی ڈھارس بندھانے کے لیے صدمے کے مارے تن دریدہ اور دل گرفتہ لواحقین کے درمیان موجود ہو تو اگرچہ جانے والے واپس نہیں آتے مگر زندہ رہنے کا حوصلہ ضرور واپس آجاتا ہے۔ عدل و انصاف کی راہ ہموار ہوتی دکھائی دیتی ہے۔ ریاست ساتھ کھڑی ہو تو غم کے پہاڑ بھی ریزہ ریزہ ہونے لگتے ہیں۔

کیسا اجلا، بے ریا اور خالص منظر تھا۔ نہ تکلف و تصنع کا غماز لہجہ جو دکھی دلوں کو مزید چھلنی کردے نہ منافقت و دوغلے پن کے زرق برق لباس میں پوشیدہ ڈھارس کا اندازِ گفتار۔ نہ مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچانے کی رنگ بازی نہ بے روح و بے رنگ سیاسی بیان بازی۔ نہ لواحقین کی مجبوریوں کو سرِ بازار سجا کر سیاسی مفاد حاصل کرنے کا مکروہ دھندہ۔ نہ زخموں کی تجارت نہ بے بسی کا کاروبار۔

یہ دو تصویریں مملکتوں اور تہذیبوں کا ایک اور نمایاں فرق سامنے لاتی ہیں۔ وہ یہ کہ ہمارے جیسے ملک چند دن بعد ایسے دلخراش سانحات کو بھول جاتے ہیں۔ نہ کوئی پالیسی بنتی ہے نہ اصول مرتب ہوتے ہیں نہ قانون سازی ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یکے بعد دیگر قیامتوں کا سامنا کرتے ہیں جبکہ “کافر” ملکوں میں ایسے دل دوز سانحات کے بعد تھنک ٹینکس بنتے ہیں۔ ایسے واقعات کے سماجی، نفسیاتی، معاشرتی، سیاسی، اقتصادی اور تہذیبی محرکات تلاش کیے جاتے ہیں جن کی روشنی میں ایسی پالیسیاں اور قانون سازی عمل میں آتی ہے کہ پھر عشروں تک ویسا سانحہ وقوع پذیر نہیں ہوتا۔ مجھے یقین ہے کہ نیوزی لینڈ میں بھی اس کے بعد کئی سال تک ایسا واقعہ رونما نہیں ہوگا جبکہ ادھر ہم ڈنگ ٹپاؤ پالیسی کی وجہ سے روزانہ لاشیں اٹھاتے رہیں گے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •