عورت کے مسلمہ حقوق

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عورت کے حقوق کا تعین تو اس دن ہی ہو گیا تھا جس دن سورہ النساء کی مقدس آیات نازل ہوئی تھیں، عورت کے حقوق کے نام پر عورت مارچ اسلام آباد میں اپنی ماؤں بہنوں بیٹیوں کے ہاتھوں میں غلاظت سے بھرپور تحریری کتبے دیکھ کر ایسا محسوس ہوا کہ یہ لبرل عورتیں معاشرے میں آزادی نہیں بلکہ اسلام اور نظام اسلام سے بغاوت اور آزادی چاہ رہی ہیں، اگر آپ کو اسلام کے قوانین اتنے ہی ناپسند ہیں تو پاکستان چھوڑ جائیں کیونکہ پاکستان سیکولر ذہنیت پر نہیں بلکہ اسلام کے نام پر معرض وجود میں آیاہے۔ اور یہاں عورت کو وہ حقوق ملیں گے جو سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے اماں خدیجہ، امی عائشہ صدیقہ اور امی فاطمۃ الزہرا رضوان اللہ تعالی عنہم کو دیے اور دلوائے اور انہیں کا پردہ اور حیا چلے گا۔

یہاں مشعل اوباما، ہیلری کلنٹن،  انجلینا جولی اور انجلینا مرکل جیسی اخلاق باختہ آزادی کے ہم روادار نہیں مردوں کو چاہیے کہ عورت کو غلام نہ سمجھیں لیکن عورت کو بھی چاہیے کہ اپنے حقوق کے نام پر حدود سے تجاوز نہ کرے۔ اسلام ہی ہے جو بیٹی کی بہتر پرورش، بہتر تعلیم، بہتر گھر میں جہاں رشتہ پر جنت کی ضمانت دیتا ہے وہیں زبردستی کی شادی کو تسلیم کرنا تو دور کی بات بلکہ اسلام کا تو حکم ہے کہ رشتے سے قبل بیٹی سے پوچھنا اور اس کی رضامندی حاصل کرنا ضروری ہے۔

مغربی تہذیب بھی عورت کو حقوق کا دعویدار ہے لیکن تب جب عورت خود کو مصنوعی مرد بنائے اور ذمہ داریوں کا بوجھ اٹھائے وہیں اسلام اسے ساری عزتیں اور حقوق دیتاہے اور ذمہ داریاں صرف وہی عائد کرتاہے جو خود فطرت نے اس کے سپرد کررکھی ہیں۔

یہ اسلام ہی ہے کہ جب عورت کے وجود کو تسلیم کرنے سے انکار کیاگیا اور پیدا ہوتے ہی زندہ دفن کیاجانے لگا تو اس وقت سرکاردوعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ صرف اس آگ سے عورت کو بچایا بلکہ جہاں بے پناہ حقوق سے نوازا وہیں عورت کی اہمیت اور فطرت کو سامنے رکھ کر اس کو ذمہ داریاں بھی سونپ دیں،

یہ عورت ہی کے حقوق ہیں کہ جہان قرآن سورہ النساء میں عورتوں کو ملکیت میں حصہ دینے سمیت ان کے حقوق بتلاتاہے وہیں اسی عورت کو یہ مقام بھی قرآن دے رہاہے کہ ایک طرف اک عورت حضرت مریم کے نام پر پوری سورہ نازل ہوتی ہے تو دوسری طرف سورت مجادلہ بھی عورت کی شکایت پر ہی نازل ہوتی ہے،

چونکہ ہزاروں سال قبل بنی اسرائیل میں عورت ہی سے حقوق کے آڑ میں فتنوں اور شرانگیزی کا آغاز کروایا گیا تھا، کیاچودہ سو سال میں عورت نے اس طرح پمفلٹ اور کتبے اٹھا کر کبھی احتجاج کیا؟ لیکن اب ایک سازش کے تحت فری میسنز یہودی گروپ اور ان کی سرپرستی میں قائم این جی اوز چاہتی ہیں کہ عورت بالخصوص مسلم عورت کو آزادی کے نام اتنا اکسایاجائے کہ عورت کے لئے اللہ تبارک وتعالی نے جو فطری حیا شرم رکھی ہے وہ اللہ کی قائم کردہ حیا شرم پردہ کی فطرت کا خاتمہ کردیں۔

اور ہاں یہ بات بھی سمجھنا چاہیے کہ جو عورت کو باہر نکلوا کر انہیں حقوق کے دعویدار ہیں، وہ در اصل عورت کو حق دلوانا ہی نہیں چاہتے بلکہ حقوق کے نام پر عورت کو بے حیا بناکر اس کو آسانی سے اپنا شکار بنانا چاہتے ہیں۔ لہذا میری ماؤں بہنوں بیٹیوں سے درخواست ہے کہ وہ امہات المومنین رضی اللہ عنہما کو پڑھیں اور ان کو اپنا آئیڈیل بنائیں، بخدا آپ کو وہ حقوق ملیں گے جو کے تصور وخیال میں بھی نہیں، سکون اور آرام تو میسر ہوگا ہی لیکن جب آپ کے بال سفید اور ہاتھ میں لاٹھی ہوگی تو آپ کے بچے آپ کو کسی اولڈہاؤس لے جاکر نہیں چھوڑیں گے بلکہ آپ کے قدموں میں سر رکھ کر اپنے لئے جنت تلاش کریں گے۔
( نوٹ: لکھاری ایم ایم اے سندھ کے صدر و جے یو آئی سندھ کے سیکرٹری جنرل ہیں )

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
علامہ راشد محمود سومرو کی دیگر تحریریں
علامہ راشد محمود سومرو کی دیگر تحریریں