سماج کے مزدور اور پروفیشنل ازم


سماجی تبدیلی کی جستجو سے لیس اور ذریعہ، معاش کے لبادے میں مقید (ذا تی اندازے کے مطابق) کم و بیش سوا لاکھ کے قریب ایسے افراد جو غیر سرکاری فلاحی اداروں سے وابستہ ہیں یا اپنے دور معاش کے اختتام کے قریب ہیں ان تمام افراد کی جستجو تقریبا انٹرن شپ سے شروع ہوتی ہے اور شاذ و نادر ہی کسی تنظیم کے مستقل کثیر المعاوضہ و مراعات یافتہ سطح کے رکن تک پہنچتی ہے۔ باقی ماندہ اکثریت روڈ پر بیٹھے ان مزدوروں سے خاصی مماشلت رکھتی ہے جو ہر صبح ہر چھوٹے بڑے شہر میں کسی نہ کسی مزدور چوک میں پر امید ہو کر کسی چھوٹے یا بڑے پروجیکٹ کے انتظار میں بیٹھے ہوتے ہیں۔

شاید ہی کوئی موضوع ایسا ہو جس پر ہم سماجی بھلائی کے لئے کام کرنے والے افراد کام نہ کرتے ہوں۔ مزدوروں، خواتین، بچوں، ماحولیات، دریاوں، جنگلی حیات، اسٹوڈنٹ یونین، معلومات تک رسائی اور امتیازی قوانین کے خاتمے جیسے بیش قیمت نعروں سے مزین ان تمام مسائل کے حل کے لئے شعور بیدار کرنے والی یہ عظیم لیبر فورس ایسی قابل رحم ہے کہ خود اپنے حقوق کے لئے کوئی یونین نہیں ہے۔ یہ غالبا واحد شعبہ ہے جس کے لئے نہ ہی کوئی ایسا نظام ہے جو ان کے مستقبل کی ضمانت دیتا ہو۔

مثلا مزدور کی تنخواہ کم از کم اٹھارہ کی بجائے تیس ہزار ہونی چاہے مگر ایک تعلیم یافتہ مزدور کا پرسان حال کوئی نہیں اور نہ ہی کوئی ایسا مروج طریقہ کار ہے جس کی بدولت انسانی ضروریات کو مد نظر رکھتے ہوئے کوئی ایک معیار قائم کیا جا سکا ہو۔ ہاں اگر کبھی اپنی باقی ماندہ پروجیکٹ کی مدت کو خطرے میں ڈال کر عرض کرنے کی ہمت باندھ بھی لی جائے تو جواب کے طور پر یہ یہی باور کرایا جاتا ہے کہ معاوضے سے متعلق گفتگو اس شعبے میں نان پروفیشنل ازم کی علامت ہے آپ میں تو سماجی بھلائی کا درد ہونا چاہیے۔

اسی طرز کے بیش قیمت جملوں سے مزین ہوش رُبا تحریک انگیز جملوں سے یہ باور کرایا جاتا ہے کہ آپ غالبا اس شعبے کے لئے مناسب نہیں وہ علاحدہ بات ہے کہ ان روح پرور جملوں کو کو ادا کرنے والے خود بیش بہا فیوض و برکات سمیٹ رہے ہوتے ہیں۔ معاملہ صرف معاوضے کا بھی نہیں ہے اس شعبے میں کام کرنے اور زندگی کا کثیر حصہ اس شعبے میں گزارنے کے بعد اس شعبے میں کرنے والے افراد کا کسی دوسرے شعبے کا حصہ بننا تقریبا ناممکن ہو جاتا ہے۔

ہم ایک جیسے نظام تعلیم کی تو بات کرتے ہیں مگر کہیں بھی ایسا نہیں ہے کہ ایک مرکزی متفق نظام کے تحت معاوضوں کا کوئی معیار ہو۔ مثلاً فیلڈ کے کام کے لئے اگر کہیں تیس ہزار دئے جا رہے ہیں تو کہیں ایک لاکھ تیس ہزار اور ہیومن ریسورس کے شعبوں کے معیار بھی مختلف ہیں کبھی تو صرف احکامات کی منتقلی و انتظام و انصرام کے لئے لاکھوں روپے ہیں تو کہیں قلیل معاوضے میں لپٹی جاب ڈسکرپشن بعنوان (دیگر کوئی بھی کام) کے تحت خوب تواضع کی جا رہی ہے۔

اگر قوانین سازی دیگر مسائل کے لئے ضروری ہے تو اس ضمن میں بھی قانون سازی کی جائے کہ کسی بھی پروجیکٹ میں جب اسٹاف کے معاوضے کو متعین کرنا مقصود ہو تو ایک مرکزی مسابقتی کمیشن متعلق تعلیم، تجربے اور ورک لوڈ کو مد نظر رکھتے معیار کو طے کرے، تا کہ غیر سرکاری فلاحی تنظیموں میں کام کرنا والے افراد کے حقوق کا تحفظ ممکن بنایا جا سکے۔

Facebook Comments HS