ہم لڑیں گے: شاعر کا اعلان

وہ شاعر اسلام آباد پریس کلب کے سامنے ایک احتجاجی مظاہرے کی رہنمائی کر رہے تھے۔ بدین کو پانی دو، بدین کو تباہی سے روکو، بدین سے ظلم بند کرو، کے نعرے لگاتے احتجاج کرتے ہوئے لوگوں میں اکثریت لکھاریوں، شاعروں اور نوجوانوں کی تھی۔
بدین ضلع کا محل وقوع اسے سندھ کے ٹیل کا علاقہ قرار دیتا ہے جہاں ان دنوں پانی کی عدم موجودی کے خلاف ایک احتجاجی تحریک جاری ہے۔ بدین شہر سے لے کر اس کی تحصیلوں اور چھوٹے بڑے شہروں پنگریو، ٹنڈو باگو، تلہار، ماتلی سے لے کر ہر چھوٹے بڑے شہروں اور دیہات میں، دھرنوں، مظاھروں اور شٹر بند ہڑتالوں کا ایک سلسلہ جاری ہے۔ احتجاجی تحریک نوجوانوں چھوٹے کسانوں اور طلبا نے شروع کی ہے۔ ملکی میڈیا پر ان احتجاج کا چرچا ہو نہ ہو، سوشل میڈیا خاص طور پر ٹویٹر ٹرینڈز کا سلسلہ جاری ہے۔
اسی احتجاجی تحریک کے سلسلے میں دارالخلافے میں بھی احتجاج کیا گیا۔ جس میں اس انقلابی شاعر کی صدائیں سننے کے قابل تھیں۔ شاعر آکاش انصاری کہہ رہے تھے، میری دھرتی سوکھ رہی ہے، وہاں کے لوگ زمینیں جانور پرندے پیاسے ہیں، میری دھرتی کا حسن ماند پڑ رہا ہے، ہمارا کلچر تباہ ہو رہا ہے، ہم کیسے چپ سادھ کے بیٹھ سکتے ہیں۔ یہ لوگ، حکمران رولنگ کلاس کیا سمجھتی ہے کہ ہم اپنی دھرتی اپنی ماں کو سوکھتا دیکھ کر، تباہ ہوتا دیکھ کر چپ رہیں گے؟ نہیں ہم لڑیں گے؛ اپنی دھرتی اپنی تہذیب کو ہم بچائیں گے۔
جب وہ یہ سب کچھ کہ رہے تھے ان کے لہجے کی گھن گرج دیکھنے لائق تھی۔ مجھے اس وقت کسی کی کہی گئی بات سچ لگنے لگی، کہ جب دھرتی پہ مشکل وقت آتا ہے تب اس دھرتی کے شاعر لڑنے اور جنگ کے لئے ہراول دستے کا کام دیتے ہیں۔ اس شاعر کے لفظ مجھے دیر تک گونجتے ہوئے سنائی دے رہے تھے؛ ہاں ہم لڑیں گے؛ دھرتی کی خاطر۔ کاش شاعر کی یہ صدا ان حکمرانوں تک بھی پہنچ پائے، اس سے پہلے کہ بدین کا ہر باسی یہ کہنا شروع کر دے کہ ہاں ہم لڑیں گے۔

