شوہر مارچ ضروری ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایک تحقیق کے مطابق دنیا میں پائی جانے والی مخلوقات میں پہلے نمبر پہ مظلوم ترین شوہر ہیں، اس کے بعد بھی مظلومیت کے درجے پر فائز خاوند ہی ہیں۔

بے عزتی سے باعزتی تک کا سفر سوچتا ہر کوئی ہے مگر اسے عملی جامہ پہنانا خاصا سہل ہوتا ہے، اور باہمت لوگ ہی کر گزرتے ہیں۔

ہمارے معاشرے کے خاوند حضرات بھی بے عزتی سے با عزتی کی جانب رخت سفر باندھنے کا صرف سوچتے ہیں مگر عملی جامہ پہنانے کی ہمت نہیں کر پاتے، وہ چاہتے تو یہی ہیں کہ معاشرے میں جس طرح ان کی تکریم ہے، اسی طرح کا عزت و مرتبہ انہیں گھر میں بھی ملے مگر وہ کیسے ملے گا؟ یہ سوچتا ہر شوہر ہی ہے مگر بے چارہ کر کچھ بھی نہیں پاتا اور وہ ٹھنڈی آہیں ہی بھرتا رہتا ہے، تدابیر کرتا رہتا ہے اور جب ان پر عمل در آمد کا سوچتا ہے تو سہم جاتا ہے۔

کچھ شوہروں نے ہمت کی، تمام مظلومین کو قائل کیا اور پھر اس بے انصافی کے خلاف آواز اٹھانے کے لیے ایک میٹنگ کی، اس اکٹھ میں ایک تنظیم بنائی گئی، جس کا نام ”انجمن متاثرین ازدواجیات“ رکھا، جس نے طے کیا کہ اب مزید بے عزتی سہنے کی گنجائش نہیں، اس لیے ظلم عظیم کے خلاف میدان عمل میں اترنا چاہیے اور ایک احتجاجی مارچ کرنا چاہیے، شوہر مارچ کے شرکا کے ہاتھ میں پلے کارڈ ہوں گے جن پر اپنے حقوق درج ہوں گے۔

زور و شور سے اس مارچ کی تیاریاں شروع کر دی گئیں، جس میں مظلوم شوہر بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے تھے، ان کا جوش و جذبہ دیدنی تھا، اب ظلم مزید سہنے کی سکت نہیں اپنا حق لے کر رہیں گے، بینرز اور پلے کارڈ تیار ہونے لگ گئے، ان پرپر نعرے لکھے جانے لگے، جو کہ کچھ اس طرح سے تھے۔

میرا ٹی وی، میرا ریموٹ۔

چھٹی والے دن کپڑے نہیں دھوئیں گے۔

عقد ثانی وقت کی ضرورت ہے۔

میں کوئی اے ٹی ایم نہیں ہوں۔

ہماری خواہشات، ہماری مرضی۔

اپنا وقت آ چکا ہے۔

لیڈیز نہیں، جینٹس بھی نہیں صرف شوہر فرسٹ۔

ٓدفتر سے چھٹی ہو گی، گھر سے بھی چھٹی ہو گی۔

کپڑے بروقت استری کر کے دیے جائیں۔

شوہر کی عزت کریں۔

خاوند کو گدھا نہ سمجھیں۔

شوہر مجازی خدا ہے۔ ”خدارا“ احترام کیجیے۔

انجمن متاثرین ازدواجیات نے مندرجہ بالا مطالبات سے مزین پلے کارڈ بنوا دیے، اس کے بعد تمام متاثرین کا اکٹھ ہوا کہ اب یہ مطالبات کب، کیسے اور کہاں پیش کیے جائیں؟

تمام شوہر سر جوڑ کر بیٹھے، سوچ بچار میں گم کہ اس مرحلے کو منزل کی جانب کیسے لے کر جایا جائے، کوئی صورت نظر نہیں آ رہی تھی، سبھی چپ سادھے اپنی توجہ اسی ایک نکتے پر مرکوز کیے صرف سوچے جا رہے تھے، کوئی ہمت نہیں کر پا رہا تھا کہ اس کا حل کیسے نکالا جائے، وقت گزر رہا تھا، تمام شوہر، سرد موسم میں پسینے میں بھیگ چکے تھے مگر کوئی امید بر نہیں آ رہی تھی، مارچ کا وقت، مقام اور دن کا تعین نہیں ہو پا رہا تھا۔ سبھی چپ سادھے ایک دوسرے کو امید سے تکے جا رہے تھے کہ ہے کوئی ایسا دلیر جو یہ فیصلہ کر پائے کہ اب با عزت زندگی جینے کے لیے شوہر مارچ ضروری ہے، دبیز خاموشی چھائی ہوئی تھی کوئی ان پلے کارڈ پر درج مطالبات کو دیکھتا اور پھر ٹھنڈی آہ بھر کر باقی شوہروں کو امید سے تکتا مگر صرف خموشی۔

پھر خاموشی میں ایک جذبات سے لب ریز آواز گونجی کہ تمام رن مریدوں کو خبر کر دو کہ ہم فروری کی تیس تاریخ کو شوہر مارچ کریں گے اور اپنے حقوق لے کر رہیں گے۔

تیس فروری۔ تیس فروری۔ کوئی چند آوازیں سنائی دیں پھر وہ بھی تائیداً بدل گئیں کہ ہاں ہاں ٹھیک ہے ہم تیس فروری کو شوہر مارچ کریں گے، اپنے مطالبات دنیا کے سامنے پیش کریں گے اور پھر معاشرے کے ساتھ گھر میں سر اٹھا کر جئیں گے۔

سبھی نے نعرہ مستانہ بلند کیا، بھنگڑے ڈالے اور ڈرتے ڈرتے اپنے گھروں میں داخل ہو گئے جہاں روز کے معمول کی بے عزتی ان کی منتظر تھی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •