فیس بک کی ایک پروفائل اور محبت وغیرہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نام: شیلا اگروال

عمر: 19 سال

اسٹار: ورگو

ازدواجی حیثیت: غیر شادی شدہ

زبانیں جو میں بول سکتا ہوں /سکتی ہوں : ہندی، انگریزی، پنجابی

مذہبی نقطہ نظر: کوئی نہیں

سیاسی نظریات: اعتدال پسند

جنسی رجحانات: نارمل

جنم بھومی: چندی گڑھ

پیشہ: بے روزگاری (ابھی سٹوڈنٹ جو ہوں )

تعلیم: بی۔ ایس سائیکلوجی (فورتھ سمسٹر)

اپنے بارے میں : ایک عام سی لڑکی (اکثر لوگ اِسی غلط فہمی میں مارے جاتے ہیں ) ۔

مشاغل: فلمیں دیکھنا اور لڑکوں کو بے وقوف بنانا

پسندیدہ کتابیں : اَخ تُھوہ

موسیقی: لیڈی گاگا، برٹنی سپیئرز، شریا گھوسل، اے۔ آر رحمن اور لتا جی

ٹی وی شو: اوپرا ونفری شو، بگ باس، فرینڈز اور گیم آف تھرونز

فلمیں : دی لاسٹ سیمورائے، مشن امپوسیبل فائیو، سلطان، دبنگ اورویرزارا (بس یہی ہیں جو اوپنلی بتائی جاسکتی تھیں، آخر امیج بھی تو کوئی چیز ہے نا)

قد: 162 سینٹی میٹر

نقوش: شیشہ توڑنے والا میٹریل

آنکھوں کا رنگ: لائٹ براؤن

بالوں کی رنگت: ڈارک بلیک

پانچ چیزیں جو میری زندگی کا لازمی حصہ ہیں : آکسیجن، کاربوہائیڈریٹ، پانی، انٹرنیٹ اور میری سویٹ سی ماما

میرے بیڈروم میں پائے جانی والی چیزیں : اومائی گاڈ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اتنا تجسس؟

ماضی کے تعلقات سے کیا سیکھا: سارے مردایک ہی جیسے ہوتے ہیں (یعنی بے وقوف اور گھامڑ)

میرا خواب: سلمان خان کے ساتھ ایک لمبی سی ڈیٹ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

لوگوں کے لیے پیغام: یوں تو زندگی نِراش ہو کے بھی گزاری جا سکتی ہے مگرہنسنے سے پھیپھڑے مضبوط رہتے ہیں۔

نوٹ: باتونی لڑکیاں، کمزور اعصاب والے مرد اور ممی ڈیڈی لڑکے کنٹیکٹ کرنے کی کوشش نہ کریں

۔ساجد فیس بک پر گروپ سرفنگ کر رہا تھا۔ اتفاقاً ہی اُس کی نظرشیلا اگروال کی پروفائل پر جا پڑی۔

”بڑی ظالم بچی ہے یار! پَٹ گئی تو مزے کرا دے گی۔ “

اُس نے دو تین بار پروفائل کے مندرجات پڑھے اور ہر بار شیلا کے نئے خدوخال تراشے۔

کچھ دیر تک وہ سوچتا رہا۔ پھر اُس نے میسج ٹائپ کرنا شروع کیا۔

”ہم دونوں کی فریکوئنسی بہت میچ کرتی ہے اور یہ ریزونینس شاید آسٹرولوجیکل گراؤنڈز پر ایک سمبل۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “

” اونہوں! یہ تو کچھ زیادہ ہی ڈیپ نکل گیا ہے۔ “

ساجد نے ہونٹ چبائے، پچھلی لائن ڈی لیٹ کی اور دوبارہ سے ٹائپ کرنے لگا۔

”ابھی چند لمحوں پہلے تمہاری پروفائل دیکھی۔ یہ جان کر کافی حیرت ہوئی کہ تم میں اور مجھ میں بہت ساری باتیں کامن ہیں۔ مثلاً تم بھی سلمان خان کی فین ہو اور میں بھی (اب یہ مت سمجھ لینا کہ مجھے بھی اُس کے ساتھ ڈیٹ پر جانے کا شوق ہے )  ہم دونوں کا اسٹار بھی سَیم ہے یعنی ورگو۔ مجھے بھی کتابیں پڑھنے سے نفرت ہے۔ پھرسب سے بڑھ کر یہ کہ تمہاری پروفائل کے ڈسپلے پر رانی مکرجی کی جو تصویر لگی ہوئی ہے، میرے بیڈروم کی فرنٹ وال پر بالکل ویسی ہی ایک لارج سائز تصویر دیکھی جا سکتی ہے (ہے نا کمال کا اتفاق) ۔ “

ساجد نے میسج سینڈکیا اور سو گیا۔

اگلی صبح اس نے فیس بک کھولی تو دو نئے میسج دیکھ کر کافی خوش ہوا۔

”ہر دسویں آدمی کا سٹار ورگو ہوتا ہے، ہر بیسواں آدمی سلمان خان کا فین ہے اور جس تصویر کی تم بات کر رہے ہو وہ چندی گڑھ کے ہر تیسرے بیڈروم میں ٹنگی ہوئی ہے۔ ۔ ۔ ۔ “

”تمہیں تو ٹھیک سے لائن مارنی بھی نہیں آتی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پہلے بڑے تو ہو جاؤ کِڈی! پھر ایسی حرکتیں کرنا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “

ساجد شیلا کا جواب پڑھ کر کافی دیر تک ہنستا رہا۔

”دیکھیں مِس شیلا اگروال! آپ کسی غلط فہمی میں نہ رہیں۔ سب سے پہلے تو یہ نوٹ فرمالیں کہ میرا قد چھ فٹ تین اِنچ ہے (یعنی میں ضرورت سے کافی زیادہ بڑا ہوں ) اور دوسری بات یہ کہ ابھی میں نے آپ پر لائن ماری ہی کہاں ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “

”شریر کی نہیں، بات دماغ کی ہوتی ہے مسٹر ساجد! اور لمبے قد والے مردوں کا دماغ اُن کے ٹخنوں میں ہوتا ہے۔ سمجھ گئے نا؟ ۔ ۔ ۔“

”اور یہ جو تم نے اپنی پروفائل کے فرنٹ پر لیموزین کی تصویر لگائی ہوئی ہے۔ اس سے پتا چلتا ہے تم کتنے چھچھورے اور شو آف ہو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “

ساجد اس بار تھوڑا مائنڈ کر گیا۔

”جہاں تک دماغ کی بات ہے مِس شیلا تو میں پچھلے دو برسوں سے اپنے ڈیپارٹمنٹ کا ٹاپر ہوں اور ٹیسٹ کیفے نام کی مشہور ویب سائٹ نے میرا آئی کیو 143 ریکارڈ کیا تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور غالباً آپ نے میری پروفائل ٹھیک طرح سے پڑھی نہیں ورنہ آپ کو بہ خوبی اندازہ ہوجاتا کہ اچھی گاڑیاں میرا پیشن بھی ہیں اور جنون بھی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ باقی آپ اِسے حماقت کہیں یا چھچھورپن۔ ۔ ۔ ۔ ۔ آئی ڈیم کیئر“

کچھ ہی دیر بعد شیلا کا جواب آگیا۔

”تمہاری پروفائل میں پڑھنے لائق تھا ہی کیا سوائے شروع کی کچھ لائنوں کے (جو یقینا تم نے کہیں اور سے کٹ پیسٹ کی ہوں گی) ۔ ویسے پکچر البم میں پڑی تصویریں تمہاری اپنی ہیں تو فوراً سے پہلے جوکر ڈاٹ کام پر بھجوا دو۔۔۔“

ساجد نے جواب دینا مناسب نہ سمجھا۔

اگلے تین دن خاموشی چھائی رہی۔

”ہیلو مسٹرچھ فٹ تین اِنچ! اتنی جلدی ہمت ہار گئے؟ “

اس بار شیلا نے رابطہ کرنے میں پہل کی تھی۔ ۔ ۔ ۔ ۔

ساجد اتفاق سے آن لائن ہی تھا۔ اس نے فوراً رِپلائی کر دیا۔

”ایسی تو کوئی بات نہیں۔ بس پڑھائی میں تھوڑا بزی تھا۔ “

”تمہیں تو ٹھیک سے جھوٹ بولنا بھی نہیں آتا کِڈی! ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ویسے ائی لائیک اِٹ۔ ۔ ۔ ۔“

”ویل! ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ لوگوں کے جھوٹ پکڑنے کے علاوہ اور کیا اچھا لگتا ہے تمہیں؟ “

”اب زیادہ چپکو مت۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ایسی باتیں میں صرف اپنے فرینڈز کے ساتھ ہی شیئر کرتی ہوں “

”تو کیوں نا ہم دوست بن جائیں “

”وجہ؟ ۔ ۔ ۔ “

”بہت ساری ہیں۔ مثلاً میں بھروسے والا لڑکا ہوں، اپنے ڈیپارٹمنٹ کا ٹاپر، قد چھ فٹ تین اِنچ، 143 آئی کیو اور سب سے بڑھ کر سلمان خان اینڈ رانی مکھرجی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “

”لڑکوں کو فرینڈ بنانے کا نقصان یہ ہے کہ وہ فوراً ہی بوائے فرینڈ بننے کے بارے میں سوچنا شروع کر دیتے ہیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “

”بہت تجربہ کار لگتی ہیں آپ! “

ً ”کوئی ایسی ویسی“

”تو ایک تجربہ اور سہی؟ “

”اچھا پہلے میرے نام ایک فِٹ قسم کی ایپلی کیشن بھیجو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پھر کچھ سوچتی ہوں۔ ۔ ۔ ۔“

اُسی رات شیلا اور ساجد کی دوستی ہو گئی اور وہ فیس بک میسنجرسے واٹس ایپ پر آگئے۔

”تمہارے پاس وڈیوکال کا آپشن تو ہوگا ہی؟ “ سا جد نے وائس نوٹ بھیجا۔

”آف کورس! “

”پھر اٹینڈ کیوں نہیں کر رہیں؟ “

”ویٹ! “

”سکسٹی نائن۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تمہارا؟ “

”ہاہاہاہا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ایک نمبر کے سٹوپڈ ہوتم! “

” او مائی گاڈ! ابھی تم ہنسیں توگھنٹیاں سی بج اٹھی تھیں۔ “

”ہاہاہاہاہاہا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جھوٹے اور مکار بھی ہو! “

”تعریف کے لئے شکریہ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ایزی ہو کر بتانا! “

آئی ایم ایزی یار۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کال ناؤ! ”

شیلا کو دیکھتے ہی ساجد کے ہونٹوں سے بے اختیار ایک سیٹی نکل گئی۔

”نائٹی تو بہت اعلیٰ پہنی ہوئی ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کہاں سے خریدی! “

”اِسے سلپ کہتے ہیں سٹوپڈ! “ شیلا نے بھنوئیں اچکائیں اور نچلا ہونٹ دانتوں میں دبا لیا۔

”تمہارے ہونٹ چوم لوں؟ بہت دل کر رہا ہے یار! “ ساجد نے تھوڑا جھجکتے ہوئے کہا۔

اُس کا خیال تھا شیلا انکار کر دے گی۔

”بس ہونٹ ہی چومنا! “ شیلا نے آنکھ میچی۔

ساجد کو اپنے بدن پر چیونٹیاں سی رینگتی محسوس ہوئیں ؛وہ ایک جھٹکے سے اُٹھا اورپاگلوں کی طرح اپنے موبائل فون کو چومے گیا۔

شیلا کی آنکھیں بھی خمار آلودہوتی گئیں یہاں تک کہ وہ لذت بھری سسکاریاں بھرنے لگی۔

رات کے کسی پہر، ساجد نے شیلا کو بلاک کر دیا۔

اگلی صبح، جب شیلا کے علم میں یہ بات آئی تو وہ کافی دیر تک ہنستی رہی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •