البراک ٹیکسی اور تبدیلی
گزشتہ برس میں لندن میں تھا جبکہ میری فیملی لاہور میں، ایک شب گھر سے کال موصول ہوئی کہ چھوٹے بیٹے کی طبیعت خراب ہے، میں نے اے ٹیکسی A Taxi بلوانے کو کہا۔ نصف گھنٹہ کے اندر ٹیکسی دروازے پر موجود تھی اور تھوڑی ہی دیر میں نزدیکی ہسپتال کی جانب رواں ہوگئی، ڈاکٹر سے دوا لینے کے بعد البراک ٹیکسی کی خدمات دوبارہ حاصل کی گئیں۔ اور دل ہی دل میں اس سروس کی موجودگی کا شکریہ ادا کیا گیا۔
البراک ٹیکسی یا پیلی ٹیکسی بنیادی طور پر تو ترکی کی کمپنی ہے لیکن پاکستان کے ایک سیاسی خانوادے کے ترکی کے ساتھ مناسب روابط کی وجہ سے 150 گاڑیوں کا ایک بیڑا جن میں 1300 سی سی کی سوزوکی سوفٹ اور ہونڈا سٹی شامل ہیں لاہور میں اپنی خدمات بہت مناسب نرخوں پر مہیا کررہا تھا۔ پہلے تین کلومیٹر کے 120 روپے جبکہ باقی ہر کلومیٹر پر 35 روپے چارج ہوتے تھے۔ اس سروس کی ایک خوبی یہ بھی تھی کہ اس میں باقاعدہ ہنرمند ڈرائیور خدمات سر انجام دے رہے تھے۔
آپ ہیلپ لائن پر کال کر کے اپنی لوکیشن بتائیں، تیس منٹ کے اندر ڈرائیور آپ کے دروازے پر۔ اور وہ نہ صرف ڈرائیور ہوتا تھا بلکہ ایک مددگار بھی، آپ کا سامان ڈگی میں رکھتا تھا، آپ کے لئے دروازے کھولتا۔ صاف ستھری ائیر کنڈیشنڈ گاڑی۔ اور سامنے شیشے کے اندر جی پی ایس سسٹم آپ کے سفری اخراجات کو ہر لمحہ دکھاتا رہتا۔
میرے جیسے سفید پوش ابر اور کریم کی نسبت البراک ٹیکسی کو فیملی کے آنے جانے کے لئے ترجیح دیتے تھے کیونکہ باقی دونوں سروس کی نہ ہی پوچھیں تو بہتر ہے، ان میں ڈرائیور صاحب سیٹ چھوڑ کے راضی نہیں اور اکثر تو بغیر منہ دھوئے نیکر پہن کر چل پڑتے۔ زیادہ تر کا اے سی خراب اور پھر ڈراپ کرتے ہی فورا سے آپ کو کہتے ہیں کہ انہیں پانچ ستاروں سے نوازہ جائے۔ کیونکہ اچھی ریٹنگ ان کی بقا کے لئے بہت ضروری ہے۔
خیر بات کہاں سے نکلی اور کہاں جا پہنچی۔ ہوا کچھ یوں کہ دو ہفتے قبل مجھے اپنے دفتری کام کے سلسلہ میں کراچی جانا پڑا، اور پہلے جیسی ہی ایک دفعہ پھر صورتحال بن گئی، فورا سے البراک ٹیکسی کو کال کی گئی لیکن مطلوبہ نمبر بند تھا، اپنے لاہور والے آفس کے قریب ہی البراک کا دفتر تھا، آفس میں ایک ساتھی سے درخواست کی کہ ذرا جا کے البراک ٹیکسی کا نمبر لے آئے، لیکن وہاں جا کے پتہ چلا کہ نیا پاکستان بن چکا ہے اور اب یہ پرانے پاکستان والے چونچلے نہیں چلیں گے۔ خیر مرتا کیا نہ کرتا۔ ہسپتال تو جانا تھا کیسے گئے یہ نہ پوچھیں۔
لیکن اب اتنا بتا دیں جو کچھ نئے پاکستان کے نام پر آپ کررہے ہیں کیا یہ سب یوں ہی جاری رہے گا؟
اور اگر آپ کا جواب اثبات میں ہے تو کیا ختم کی جانے والی سہولیات کا نعم البدل بھی ہے آپ کے پاس؟
یا پھر وہ گھڑا گھڑایا جواب کہ جب البراک نہیں ہوتی تھی تب بھی لوگ بیمار ہوتے تھے اور ہسپتال جایا کرتے تھے۔
برداشت کرنے کا شکریہ، ہسپتالوں میں کیا ہو رہا ہے، پھر کبھی سہی۔


