ابھی انسان الجھن میں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سندھی شاعری اپنے موضوعات کے لحاظ سے بہت ہی نفیس خیالات، تصورات اور موضوعات پر پھیلی ہوئی ہے اور جدید سندھی شاعری تو سماج کے اندر ہونے والے واقعات، ظلم اور نا انصافی کے خلاف مزاحمت کی کئی داستانوں سے لب ریز ہے، وہ جبر ظلم اور تاریکی کے خلاف صف آرا رہی ہے۔ ہماری ملکی تاریخ کے تاریک اورجبر کے دور میں اسی شاعری پر قدغن بھی لگی اور شاعروں کو زندانوں اور عقوبت خانوں کا جبر بھی سہنا پڑا۔

آج میں جس کتاب کے بارے میں بات کرنے لگا ہوں وہ سندھ کی نامور سیاسی رہنما نظیر قریشی کی سندھی شاعری کی کتاب ”ایاں ساھ سوچن میں“ یعنی ابھی انسان الجھن میں ہے۔ ادی نظیر کی پہچان ان کی 25 سالہ سیاسی سفر کے جدوجہد کی داستان ہے جس میں انہوں نے سندھیانی تحریک سے لے کر سندھی عورت تنظیم کا سفر کیا ہے۔ آپ کا شمار سندھیانی تحریک کی ان ان گنت خواتین میں ہوتا ہے جنہوں نے سندھی خواتین کو سیاست کے سفر میں شامل کیا۔ ان میں اختر بلوچ، نسیم سندھی، شہناز راہو، شہربانو راہو، حور پلیجو، مریم پلیجو، زاہدہ شیخ، صاحب زادی ڈاہری، صاحب زادی میرجت، ماسی بختاور مگنھار، ممتاز نظامانی اور دیگر سیکڑوں خواتین شامل ہیں، جو سندھ کی جدید عورت سیاست کا درخشاں باب ہیں۔ ان میں سے کئی ایسی خواتین رہنما ہیں جو کہ بحالی جہموریت کی تحریک میں 1983 سے 1986 کے دوران جیل کی سلاخوں کے پیچھے گئیں، ان کے نام اور کام کے بغیر بحالی جہموریت کا ذکر نا مکمل ہے۔

یہ ساری خواتین جن کا بھٹو کی مقبول ترین پارٹی کے ساتھ کوئی دور دور کا تعلق نہیں تھا مگر وہ بے نظیر اور نصرت بھٹو کے ساتھ پابند سلاسل تھیں۔ انہیں گرفتار کر کے لایا نہیں گیا تھا بلکہ وہ احتجاجا گرفتاریاں دے کے مارشل لا کی قیدی بنی تھیں۔ انھی خواتین کی اگلی نسل نے مشرف کے سیاہ دور میں عدلیہ کی آزادی کی خاطر اور سندھ کے پانی کے حقوق کی خاطر حیدرآ باد، ٹھٹہ اور کراچی کی سڑکوں پر لاٹھیاں بھی کھائیں، آنسو گیس بھی جھیلا اور جیلوں کا بھی سامنا کیا۔

یہ ساری نچلے طبقے کی غریب خواتین تھیں، جن کے پاس سیاسی شعور اور اپنی تنظیم کا ہتھیار تھا۔ ادی نظیر بھی اسی سیاسی قافلے کی مسافر ہیں اور ان خواتین میں صف اول میں آپ کا نام آتا ہے۔ یہی آپ کا اوڑھنا بچھونا رہا ہے۔ یہی سبب ہے کہ آپ کی شاعری کے موضوعات خواتین کے مسائل اور سماج میں ان کے ساتھ ہونے والے برتاؤ پر احتجاج اور بغاوت کی داستان کے ساتھ ساتھ، وہ اس دکھی دیس کے محروم طبقات کے ساتھ ہونے والی زیادتی پر بھی اپنے قلم کو جنبش دیتی ہیں۔ آپ کہتی ہیں

جہاں کسی کے آنسو پونچے نہ کوئی

جہاں انسانیت کو شب و روز مسل دیا جائے

جہاں نہ نوری نگاہیں دکھنے میں آئیں

جہاں چند سکوں پہ بکتی ہو بیٹی حوا کی

جہاں پہ ہیں اندہیروں کے سائے

سانس سچائی کی گھٹتی ہو

وہاں کیسی عید پیارے

ادی نظیر جیسا کہ اپنی تمام تر سیاسی زندگی میں ترقی پسند، انسان دوست فکر اور نظریے کے ساتھ منسلک رہی ہیں اسی لیے ان کی شاعری میں بھی روشن خیال ترقی پسند فکر کا رنگ چھلکتا ہے۔ وہ کہتی ہیں:

”مذاہب پھیل گئے ہیں، محبت سکڑ گئی ہے

تفرقوں کی دراڑیں پہوٹ پڑیں ہیں۔‘‘

ایک اور جگہ کہتی ہیں:

”ہم نے پتھروں کو پوجا نہیں

ہم ہر حال میں انساں کو چاہیں

ہمی نے تو انساں کو بچایا ہے

ہمی نے تو انسان کہلوایا ہے

ہم اگر تنہا رہے بھی تو کیا ہے‘‘۔

’’آپ کے نزدیک انسان کی اہمیت ہے

ایمان زندہ آباد کہوں انسان زندہ آباد

ہماری دھرتی ہماری ماں

ہماری سندھ ہے ماں سماں

مٹی اور ماں زندہ آباد

انسان زندہ آباد‘‘۔

ایک سیاسی کارکن کے طور پر وہ سندھ کے گوشے گوشے میں محو سفر رہیں ہیں۔ انہوں نے یہ مسافتیں، دیہی خواتین کو سیاسی شعور دلانے کے لئے صحرائے تھر میں اونٹوں پہ سفر کر کے ٹیلے کے بنے ہوئے گھروں میں غسل خانے اور دوسری سہولیات کے بغیر راتیں بسر کر کے شعور کی شمعیں منور کیں۔ اسی طرح آپ کندھ کوٹ کشمور کے نیم قبائلی اور دادو کے سنگلاخ چٹانوں پہ بسنے والے بلوچ قبائل کی خواتین کو اپنے حقوق سے روشناس کرانے کے لئے بھی پہنچی ہیں۔ یہ نظم سراسر اسی مشاہدے اور تجربے پہ مبنی ہے:

او پیٹ پجاری، او کند ذہن

تم کیا بیج بوتے ہو

تم اپنی کرسی کی لالچ میں

مسکینوں کو لڑواتے ہو

تم چاہو ہو رئیس بننا

خلق خدا مانے تمھیں امیر اپنا

تم چاہو ہو کوئی نا پڑھے یہاں

تم چاہو اسکول ہوں ویران یہاں

پر ہوں تھانے تیرے آباد یہاں

دکھی دیس کے سارے لوگ

سدا برباد رہیں

پر ایسا اس بار نہ ہو گا

جینا اب دشوار نہ ہو گا۔

آپ کی زبان نے نعرے جنمے۔ آپ کے مضبوط بازو عورت کی جدوجہد کا علم بن کر اٹھے اور فضا میں لہرا کے خواتین کے لئے برابری کے حقوق مانگے۔ آپ کے پیروں نے سکھر تا کراچی سیکڑوں کلومیٹر پیدل سفر کر کے خواتین کو اپنے حقوق کی جدوجہد کے سفر میں شامل کیا۔ جو گاؤں گوٹھوں سے نکل کر شہروں کے بڑے استھان پہ پہنچیں اور بول کے لب آزاد ہیں تیرے کے پیغام کی سفیر بن گئیں۔

آپ کی جدوجہد اور آپ کی شاعری دونوں خیال اور عمل کا حسین امتزاج ہیں جو ہمیں کم ہی دیکھنے کو ملتا ہے۔ جب سندھیانی تحریک نے کارو کاری جیسی عورت دشمن رسم کے خلاف بڑی منظم تحریک بلند کی اس دوران سفر میں آپ خطرناک حادثات کا شکار بھی ہوئیں جس کے نشان آپ کے چہرے پر ابھی تک موجود ہیں اور اس سفر کی دین ہیں۔ کارو کاری جیسی عورت دشمن رسم ہے جو اس مہذب سماج کے چہرے پہ ایک کالک کے مانند ہے۔ کالی عورت کو قتل کرنے کے بعد اسے بغیر کفن دفن کے رات کی تاریکی میں دفن کیا جاتا ہے اور ماں باپ اس کی تعزیت بھی وصول نہیں کرتے۔ ایسی درندگی کو ادی نظیر نے چئلینج کیا اور کہا:

میلی تیری سوچ ہے قاتل

تم کیا جانو پیار کی پائل

تو کیا جانے پیار کے رشتے

عورت ہے نباہ ازل سے

عورت کا من موم کے مانند

عورت توہے سچ کے مانند

عورت شاہ بھٹائی گائے

عورت بن سہیلی جائے

عورت نہیں ہے کالی ظالم

کالی تیری سوچ ہے ظالم

کیونکہ ادی نظیر ایک سیاسی کارکن ہیں اس لیے وہ ہمیشہ اپنی شاعری اور عمل سے سب کو متحرک اور سرگرم رکھنے کے گیت گاتی ہیں۔ اس دعا کے ساتھ کے آپ ہمیشہ تن درست اور صحت مند رہیں اور اپنی سوچ اور قلم سے امید کے ترانے، محبت کے پھول، پیار کی دھنیں دھرتی کا امن اور خواتین کی آزادی کے خواب بنتی رہیں اور ہم آپ کے خوابوں کو پڑھتے رہیں اور اپنی روح اور اذہان کو تازگی بخشتے رہیں۔

میں سمجھوں گی

مرنے کے بعد بھی میں زندہ ہوں

ہر پل میں سب کے درد سمیٹوں

پکار بن کر میں تیری لوٹ آؤں

باغی بن کر سب کو راہ دکھاؤں

مرنے کے بعد بھی میں زندہ ہوں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •