رفعت وحید کی شاعری اور ان کی کتاب سمندر استعارہ ہے

رفعت وحید عہد حاضر کی ایک منفرد شاعرہ ہیں جن کی شاعری نہ صرف انسانی خیالات و جذبات کی ترجمانی کرتی ہے بلکہ وہ سماجی مسائل و جبر کے خلاف اپنے قلم سے آواز بلند کرتی ہیں اور جب ان کا قلم کچھہ لکھنے لگتا ہے تو وہ ذہنوں، دلوں اور روحوں کو چھو لیتی…

Read more

ممتاز نظامانی کا ملھن: سندھی خواتین کی جدوجہد کا لینن گراڈ

سندھی خواتین کی نمائندہ تنظیم سندھیانی تحریک جس نے 1980 کے عشرہ میں جنم لیا وہ سندھی خواتین کی ترقی پسند اور نمائندہ جماعت آگے چل کر پاکستان کی سب سے بڑی خواتین کی سیاسی تحریک بن کر ابھری اور ممتاز نظامانی کا تعلق اسی ہی سندھیانی تحریک سے تھا۔ ممتاز نظامانی سماجی خدمتگار کے…

Read more

شاہ لطیف بھٹائی کی موکھی اورمتارے رند

موکھی مے فروش اور رند متاروں کا قصہ سندھ کی لوک داستانوں کی جان ہے۔ سندھ کے بہت ہی اوائلی اور بڑے شعرا، شاہ کریم، شاہ عنایت اور شاہ لطیف بھٹائی نے اس داستان کو نہ صرف اپنی شاعری کا موضوع بنایا بلکہ اس قصے کو بڑے دلچسپ انداز مین بیان بھی کیا۔ یہاں تک…

Read more

شاہ لطیف بھٹائی کا سُر کلیان

شاہ عبدالطیف بھٹائی سندھی زبان کے سب سے بڑے اور نامور شاعر ہیں جو 1689 کو گاؤں ہالا حویلی میں پیدا ہوئے اور 1752 میں تقریباً 63 سال کی عمر میں رحلت فرما گئے۔ آپ کی زندگی کا کافی حصہ سفر میں گزرا اس لیے آپ نے اپنی شاعری میں بہت سے علاقوں کا نہ صرف ذکر کیا ہے بلکہ ان علاقوں کے باشندوں کے رہن سہن، رسم و رواج اور زندگی کے بارے میں بھی بتایا ہے۔ آپ نے اپنے تجربات اور خیالات کو اپنی شاعری میں قلم بند کیا ہے جسے ‘شاہ جو رسالو’ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ آج ہم شاہ لطیف کے کلام کے پہلے سُر کے بارے میں بات کریں گے جسے سُر کلیان کہا جاتا ہے۔

Read more

پاکستان کا مائیکل اینجلیو: فقیرو مینگھواڑ

ٹنڈوالہ یار کی مٹی اپنی ہریالی کی وجہ سے بڑی مشھور اور سندھ کی زرعی زمین میں سب سے زیادہ زرخیز ہے۔ یہاں کے لہلہاتے کھیت، ہری بھری فصلیں، آ موں کے باغات، پھلوں اور سبزیوں کی مشہورمنڈی سلطان آباد، پاکستان کا مثالی گاؤں ٹنڈو سومرو جس کے مثالی ہونے پر بی بی سی نے…

Read more

ابھی انسان الجھن میں

سندھی شاعری اپنے موضوعات کے لحاظ سے بہت ہی نفیس خیالات، تصورات اور موضوعات پر پھیلی ہوئی ہے اور جدید سندھی شاعری تو سماج کے اندر ہونے والے واقعات، ظلم اور نا انصافی کے خلاف مزاحمت کی کئی داستانوں سے لب ریز ہے، وہ جبر ظلم اور تاریکی کے خلاف صف آرا رہی ہے۔ ہماری ملکی تاریخ کے تاریک اورجبر کے دور میں اسی شاعری پر قدغن بھی لگی اور شاعروں کو زندانوں اور عقوبت خانوں کا جبر بھی سہنا پڑا۔آج میں جس کتاب کے بارے میں بات کرنے لگا ہوں وہ سندھ کی نامور سیاسی رہنما نظیر قریشی کی سندھی شاعری کی کتاب ”ایاں ساھ سوچن میں“ یعنی ابھی انسان الجھن میں ہے۔ ادی نظیر کی پہچان ان کی 25 سالہ سیاسی سفر کے جدوجہد کی داستان ہے جس میں انہوں نے سندھیانی تحریک سے لے کر سندھی عورت تنظیم کا سفر کیا ہے۔ آپ کا شمار سندھیانی تحریک کی ان ان گنت خواتین میں ہوتا ہے جنہوں نے سندھی خواتین کو سیاست کے سفر میں شامل کیا۔

Read more