مجھے بچپن والا سکون چاہیے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پچپن کتنا خوبصورت تھا، سبزی اپنی زمین کی، دودھ اپنی بھینسوں کا، مرغیاں اور خرگوش بھی اپنے، حویلی کے سامنے کیارے کے ساتھ بور کا پانی۔ آہا اب سوچ کر ایک خوب ہی لگتا ہے۔ ہر سال گرمیوں کی چھٹیاں اتنی بہترین گزرتی تھیں کہ باقی نو مہینے بس ایک ہی دعا ہوتی تھی کہ جلدی جلدی گرمیوں کی چھٹیاں آ جائیں تاکہ ہم سون سکیسر کو اڑان بھریں۔ خوشاب سے قریباً آدھے پونے گھنٹے بعد جب ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا گالوں کو چھوتی تو معلوم ہو جاتا تھا کہ گاڑی کے پہیے اب سون سکیسر کی سڑک پر گھوم رہے ہیں۔

پھر گاڑی حویلی کے باہر رکتی تو سمجھ نہ آتا کہ پہلے ننھیال کو جائیں کہ دادیال کو۔ اور پھر اکثر نانی اماں کو دادیال میں حویلی کے دروازے پر سب سے آگے منتظر پاتے۔ نانی جان کا ایک بوسہ ا ف۔ گویا کوئی سفر تو جیسے کیا ہی نہیں، تھکان کا نام دور دور تک نہ رہتا۔ اور پھر اپنی بھینسوں کے دودھ کی چائے کی سرکیاں بھرتے بھرتے ہی کھیتوں کی طرف بھاگ پڑتے۔ زندگی ہر فکر سے آزاد ہو جاتی۔ حویلی کے سامنے والے کھیت باپ دادا کے زمانے کا کھباڑوں (انجیر) کا اونچا درخت (جو تین چار سال قبل کاٹ دیا گیا) میرا منتظر ہوتا تھا اور میں ایک دو منٹ میں درخت کے اوپر ہوتی۔

اس درخت پر پچپن میں اتنا چڑھے کی ایک وقت ایسا آیا جب یہ یاد ہو گیا کہ ایک پاؤں یہاں رکھنا ہے اور دوسرا وہاں اور بس پھر ہم درخت کی چوٹی پر ہوں گے۔ اس درخت پر بیٹھ بیٹھ کے دو تین مضبوط ٹہنیاں ایسے ہو چکی تھیں کہ جس پر بیٹھتے ہوئے ہم یہ محسوس کرتے کہ گویا صوفے پر بیٹھے ہوں اور پھر درخت سے کھباڑے توڑنے اور کھانے کا سلسلہ جاری رہتا۔ جب تک نانا ابو حیات تھے تو ایک شاپر بھر کے ان کے لیے بھی لے جایا کرتی تھی جو وہ دوپہر میں تندور کی روٹی کے ساتھ کھایا کرتے تھے۔ نانا ابو کے ساتھ میری قربت اتنی زیادہ تھی کی مجھے ان کے انار کے باغ میں جانے کی کھلی اجازت تھی۔

گاؤں میں اُس دن دوپہر کے کھانے کا بے صبری سے انتظار ہوتا جب معلوم پڑتا تھا کہ آج گوبھی بننے والی ہے۔ تندور کی روٹی کے ساتھ اپنی زمینوں کی گھوبھی کا سالن۔ ایک دو پلیٹیں سالن روکھا بھی کھایا جا سکتا تھا، سالن کا وہ ذائقہ ناقابل بیان ہے کیونکہ آج کل کی سبزیوں میں اب وہ سواد نہیں رہا۔ کھانا کھانے کے بعد ایک بار پھر سے وہی کھیتوں میں اچھل کود، ننھیال اور دادھیال چکر لگاتے گزر جاتا اور پھر شام کی چائے کا وقت آن پہنچتا، یہ وقت مجھے سب سے خوبصورت لگتا۔

ہمارے گھر کے صحن سے عقب میں پہاڑ دیکھے جا سکتے تھے اور گھر کے سامنے بھی پہاڑ تھے پر وہ نظروں سے بہت دور پڑ جاتے۔ انہی پہاڑوں پر میرے تایا جان نے اپنی آخری سانسیں لی تھیں اس لیے سامنے والے پہاڑوں پر کم ہی نظر ڈالتی تھی۔ خیر ہاتھ میں چائے کا کپ تھامے ڈھلتے سورج اور حویلی کے عقب میں سر سبز پہاڑوں کا میل جول دیکھتی رہتی تھی اور پھر اندھیرا چھانے لگتا، اکثر اندھیرا پڑنے سے قبل صحن میں پانی کا چھڑکاؤ بھی کیا جاتا اور گیلی مٹی کی سوندھی سوندھی خوشبو خود بخود اندر اترنے لگتی، رات 8 بجے ڈرامے کا انتظار ایسے ہوتا تھا جیسے عمران خان کے وزیراعظم بننے کے بعد ان کے پہلے خطاب کا انتظار تھا۔

ساتھ ہی رات کے کھانے کے لیے تندور بھی تیار ہو رہا ہوتا تھا، اندھیرے میں تندور کے اندر سے اٹھتے آگ کے شعلے اور دھواں مجھے بہت بھلے لگتے تھے اور میں جھٹ تندور کے پاس پہنچ جاتی اور پھر تندور سے اتری ایک آدھ گرم روٹی وہیں کھڑے کھڑے کھا لینا تو لازم و ملزوم ہوتا۔

سب بچوں میں سے واحد میں تھی جو 9 بجے کا خبرنامہ سنا کرتی تھی۔ میرا کھانا اور خبرنامہ ساتھ ساتھ ہی ہوتے تھے اور یہ عادت بدستور قائم ہے۔ پھر رات کو سونے کے لیے صحن میں چارپائیاں بچھانا، گاؤں کی گرمیوں کی راتیں ٹھنڈی ہوا کرتی تھیں، صحن میں رضائی کے بغیر سونا مشکل ہوتا تھا۔ کھلے آسمان تلے بے خوف ہو کر سونے کا بھی اپنا ہی مزہ تھا، تاروں کو دیکھتے دیکھتے آنکھ کب لگ جاتی پتہ ہی نہ چلتا اور آنکھ تب کھلتی جب سورج ہمیں سلام کر رہا ہوتا، اگرچہ میں ٹھنڈی ٹھنڈی صبح اور خوبصورت مناظر سے لطف اندوز ہونے کے لئے کبھی کبھی بہت جلدی بھی اٹھ جایا کرتی تھی اور پھر ایک اور خوبصورت دن میرا منتظر ہوتا، روزانہ ایک ہی معمول ہوتا تھا لیکن ہر دن بے شمار خوشیوں اور ایکسائٹمنٹ سے بھر پور ہوتا تھا جس کو یاد کر کے بس ایک ہی بات کہی جا سکتی ہے میرے بچپن کے دن کتنے اچھے تھے دن۔

ابھی گاڑی ملتان روڈ سے گزر رہی تھی کہ میں سوچنے لگ گئی ہر شخص کی کتنی مصروف زندگی ہے، ہر کوئی جیسے ملاوٹ، دکھاوے اور جھوٹ پر مبنی زندگی گزار رہا ہو۔ دن گزر جاتا ہے پر سکون کا ایک پل مہیا نہیں ہوتا، ہر وقت فکر  سی لگی رہتی ہے کہ کل کیا ہو گا۔ آج سے کچھ سال قبل یقینا ہر کسی کی زندگی اتنی ہی پرسکون ہو گی۔ لیکن کیا وجہ ہے کہ اب ہم سب کی زندگیوں سے یہ سکون کہیں دور بھاگ گیا ہے؟ شاید مقابلہ بازی اور حسد۔

کاش ہم سب ایک بار پھر سے وہی زندگی جینے لگتے منافقت سے پاک اور محبتوں سے بھرپور۔ ایسے میں صرف خواہش ہی کی جا سکتی ہے کہ مجھے میری پندرہ سال قبل والی زندگی چاہیے کیونکہ مجھے سکون چاہیے۔ اب تو سب کی زندگی بس ایک مقابلے کی صورت اختیار کر گئی ہے اور اس سے ریس میں بھاگتے بھاگتے سانس پھولنے کی باری سب کی کبھی نہ کبھی آ جانی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •