”ہماری“ تاریخ کے عظم ہیرو ایرتورل اور عثمان کے دیس سے

ناروے سے اگر کسی دوسرے ملک میں بذریعہ بنک پیسے بھیجنے ہوں تو نارویجن بنک پہلے ساٹھ کرونے چارج کرتا تھا۔ اب کچھ عرصہ سے یہ رقم بڑھ کر 195 کرونے ہو گئی ہے۔ یہاں تک تو خیر ہے لیکن میں نے ترکی میں موجود ہونے کی وجہ سے جب کبھی بھی نارویجن بنک سے ترکی بنک اکاؤنٹ میں پیسے منتقل کیے تو نارویجن بنک اور ترکی بنک کے درمیان کوئی اور بنک ہے جو بھیجی گئی رقم سے بیس

Read more

شاہ محمود قریشی نے اپنی چھتری خود کیوں نہ اٹھائی؟

چھتری اٹھانے کے حوالے سے پاکستانی وزیر خارجہ محمود قریشی اور روسی وزیر خارجہ سرگئی لیوروف کا رویہ میڈیا پر کافی زیر بحث ہے۔ ہر کوئی محمود قریشی کو مطعون کرنے میں دوسروں سے سبقت لے جانے کی کوشش میں مصروف ہے۔ لیکن اگر اس بات کو حقیقت پسندانہ انداز میں دیکھا جائے تو قصور ہمارے وزیر خارجہ کا نہیں بلکہ ہماری نفسیاتی، معاشرتی و معاشی ساخت کا ہے، جس کی باقاعدہ معقول وجوہات ہیں۔

Read more

دوسروں کے گھر میں اپنی تہذیب پہ اصرار

مغربی ممالک میں منتقل ہونے اور مستقل طور پر وہاں قیام پذیر ہونے کی خواہش، جس شدت سے مسلمانوں میں ہے، اس سے زیادہ شدت سے وہ وہاں کی طرز حیات اور ثقافتی اقدار سے نفرت کرتے ہیں۔ نفرت کی اس شدت کا مظاہرہ صرف قتل و غارت ہی نہیں، بلکہ روز مرہ کے چھوٹے چھوٹے واقعات کی صورت میں بھی ظاہر ہوتا ہے۔

آج جرمنی میں مقیم ایک لبنانی کا اس سلسلے میں ذکر ہو رہا ہے۔ موصوف کی عمر چالیس سال ہے، اور وہ پیشے کے لحاظ سے ڈاکٹر ہیں۔ ڈاکٹر صاحب 2002ء میں جرمنی آئے، اور صاف ظاہر ہے کہ وہ اپنی مرضی سے وہاں منتقل ہوئے، کیوں کہ لبنان کے مقابلے میں جرمنی کا نظام اور وہاں کی کرنسی انھیں پسند تھی۔ البتہ انھیں جرمنی کی ثقافت اور طرز حیات سے سخت نفرت ہے۔

Read more

پنجابی: ایک بدتمیز زبان

اپنے دیس میں پنجابی کے حوالے سے تھوڑے وقفے کے بعد کوئی نہ کوئی ایسی خبر آ ہی جاتی ہے، جس کے نتیجے میں گھر میں اپنے بچوں سے اردو بولنے والے پنجابی ”پُھوڑی“ ڈال کر سینہ کوبی میں مصروف ہو جاتے ہیں۔ چند دن واویلا ہوتا ہے، بال نوچے جاتے ہیں اور پھر زندگی معمول پر آ جاتی ہے۔ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے، ایسا ہمیشہ سے ہوتا آیا ہے۔ جہاں کے دانشور ایک زمانے میں ”اردو، بولو،

Read more

عمران خان کی تسبیح، بے نظیر کا دوپٹہ اور حکمران کا منصب

چند دن پہلے عمران خان اور ڈونلڈ ٹرمپ کی مشترکہ پریس کانفرنس تھی۔ اس بات سے قطع نظر کہ عمران خان بہت اچھے انداز میں صورت حال سےنپٹ رہے تھے۔ لیکن جو بات میری سب سے زیادہ توجہ حاصل کرنے میں کامیاب رہی وہ عمران خان کے ہاتھ میں پکڑی تسبیح تھی جس کے دانے مسلسل نیچے گرتے جا رہے تھے۔ صاف ظاہر ہے کہ عمران خان اس وقت کسی بھی قسم کا اسم اعظم یا کوئی اور مذہبی کلمات

Read more

اسلاموفوبیا اور عمران خان

خان صاحب، آپ نے جنرل اسمبلی میں بہت اچھی اورمتاثر کُن تقریر کی۔ گو اس تقریر میں کچھ بھی نیا نہیں تھا، یہ وہی سب باتیں ہیں جو آپ اردو میں اکثر کرتے رہتے ہیں۔ لیکن انگریزی زبان میں، اور پرچیوں کے بنڈل کے بغیر ایسی فی البدیہ اورجوشیلی تقریر کرنا واقعی آپ کا ہی کام ہے۔ شاید 1960 ء کی بات ہے کہ اسی جنرل اسمبلی میں کیوبا کے مرحوم صدر فیڈل کاسترو نے ساڑھے چار گھنٹے سے زیادہ

Read more

قتل ریاست کے خلاف جرم ہے، ورثا کیسے معاف کر سکتے ہیں؟

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ناروے میں ایک پاکستانی کے ہاتھوں دوسرے پاکستانی کا قتل ہوا۔ مقدمہ درج ہو گیا۔ لوگوں نے بیچ میں پڑ کر صلح کروا دی۔ مقتول کے ورثاء میں سے کوئی پولیس کے پاس گیا اور بتایا کہ ”ہماری صلح ہو گئی ہے، لہذا معاملہ ختم کر دیا جائے۔“ پولیس افسر نے کہا کہ ”یہ بہت اچھی بات ہے کہ آپ نے صلح کر لی ہے لیکن آپ کے صلح کرنے سے یہ قطعی طور

Read more

کیا پناہ گزینوں نے سویڈش لوگوں کو اپنے ہی دیس میں مہاجر بنا دیا ہے

سویڈن کا نام ہم پاکستانیوں کے لیے اجنبی نہیں رہا۔ یہ سکینڈے نیویا کا وہ ملک ہے جس کے متعلق اچھے خاصے پڑھے لکھے پاکستانیوں کا خیال ہے کہ اس ریاست کی فلاح کی بنیا د ”عمر لاء“ پر رکھی گئی ہے۔ ایسا ہی بیان عمران خان نے بھی کچھ عرصہ پہلے دیا تھا۔ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کرنے کے لیے فاروق سلہریا نامی بائیں بازو کے پاکستانی دانشور نے ایک سویڈش تاریخ دان ڈاکٹر بلوم کویست کو انٹرویو کیا تھا۔ بلوم کویست کے بقول یورپ کا عرب دنیا سے کبھی تعلق نہیں رہا، لہذا وہ عمر یا اُس کے لاء سے بے خبر ہیں۔ سویڈن کی فلاحی ریاست سویڈن کے محنت کشوں کی ٹریڈ یونین کے تحت جدوجہد کرنے سے وجود میں آئی ہے۔

Read more

بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو ووٹ کا حق نہیں چاہیے

ابھی ٹی وی پر خبر دیکھی کہ بیرون ملک پاکستانیوں کو ووٹ کا حق ملنے جا رہا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ بیرون ملک پاکستانیوں کی دیرینہ تمنا تھی کہ وہ بھی اپنے ملک کے سیاسی نظام میں اپنا حصہ ڈال سکیں۔ کیونکہ وہ بھی پاکستان سے محبت میں پیش پیش ہی نہیں بلکہ شاید پاکستان میں موجود پاکستانیوں سے زیادہ درد وطن رکھتے ہیں۔ بیرون ملک میں مقیم پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینے کے حامیوں کے نزدیک

Read more

بزرگ ایرانی دانشور اور صحافی علی دشتی نے جنت اور جہنم کا فرق کیسے معلوم کیا؟

علی دشتی ایک محقق، مصنف، دانشور، ناول نگار، مترجم، ادبی نقاد اور صحافی ہونے کے علاوہ ایرانی مجلس شوریٰ کے رکن، سینٹ کے رکن اور مصر میں ایرانی سفیر کے طور پر بھی خدمات انجام دے چکے تھے۔ علی دشتی مشہورشیعہ عالم دین شیخ عبدالحسین دشتی کے ہاں مارچ 1897 ء میں پیدا ہوئے۔ علی دشتی کی جائے پیدائش کے حوالے سے مختلف آراء ہیں۔ کچھ لوگ ان کی جائے پیدائش کربلا بتاتے ہیں، اورکچھ کے بقول وہ جنوبی ایران

Read more

سلطنت عثمانیہ اور یینی چیری

یینی چیری سلطنت عثمانیہ کی پیادہ فوج کے بہترین دستوں کا نام تھا، اس فوج کی تشکیل 1365 ء میں سلطان مراد اول کے دور میں ہوئی۔ ترکی زبان میں یینی چیری کا مطلب نئی فوج ہے ( ”Yeni“ مطلب نئی اور ”Çeri“ مطلب فوج) ۔ یینی چیری ترکی ہی نہیں بلکہ دنیا کی پہلی باقاعدہ فوج تھی۔ ابتداء میں یینی چری ماہر تیر اندازوں کا دستہ تھا، لیکن 1440 ء کی دہائی میں بارود کی دستیابی پر انہوں نے

Read more

خلافت عثمانیہ مذہبی حکومت تھی یا سیکولر؟

پہلی جنگ عظیم میں ترکی نے جرمنی کا ساتھ دیا۔ ہندوستان کے مسلمانوں نے جنگ میں انگریزوں کا ساتھ دینے کے لیے وزیراعظم برطانیہ لائیڈ جارج سے وعدہ لیا تھا کہ جنگ میں انگریزوں کی فتح کی صورت میں نہ ہی مسلمانوں کے مقامات مقدسہ کی بے حرمتی ہو گی اور نہ مسلمانوں کی خلافت کے ادارے کو چھیڑا جائے گا۔ لیکن جنگ جیتنے کے بعد انگریزوں نے اپنے تمام وعدے فراموش کر دیے۔ اس بدعہدی کے نتیجہ میں ہندوستانی مسلمانوں نے اپنے مطالبات منوانے کے لئے اپنا وفد نہ صرف برطانیہ بھیجا بلکہ بہت شدت سے تحریک خلافت کا آغاز کر دیا۔

تحریک کے اہم ترین مقاصد یہ تھے، ترکی کی خلافت بحال رہے۔ مقامات مقدسہ ( مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ ) ترکی کی تحویل میں رہیں۔ ترک سلطنت کو تقسیم نہ کیا جائے۔ تحریک خلافت بہت زور پکڑتی ہے، نتیجتاً تحریک کے اہم رہنما مولانا محمد علی جوہر اور مولانا شوکت علی جیل بھیج دیے جاتے ہیں، اور پھر ان کی ماں آبادی بانو بیگم سے منسوب نعرہ زبان زد عام ہو جاتا ہے۔ ”بولی اماں محمد علی کی، جان بیٹا خلافت پہ دے دو“۔

Read more

ترکی میں صالح نسل کی پیدائش میں مزاحمت

ترکی پر پچھلی دو دہائیوں سے ایک مذہبی جماعت حکومت کر رہی ہے۔ طییپ ریجیپ (طیب رجب) ایردوان کی جماعت ”عدالت وے کالکنما پارتیسی (جماعت برائے انصاف و ترقی) کو مصر کی اخوان المسلمین اور پاکستانی کی جماعت اسلامی کی“ ہمشیرہ جماعت ”کہا جاتا ہے۔ اس جماعت نے ترکی میں جمہوریت کا نام لیتے ہوئے جمہوریت کو جیسے پامال کیا ہے، اس کی مثال نہیں ملتی۔ صدر ایردوان کے اپنے الفاظ میں جمہوریت کی مثال ایک ٹرین کی سی ہے

Read more

وہ اذیت ناک موت نہیں چاہتا تھا لیکن قانون اسے روکتا تھا

”اب مزید کوئی الفاظ نہیں، میں جا رہا ہوں“۔

یہ 54 سالہ ٹورائے ٹورنٹن کے آخری الفاظ تھے جو انہوں نے اپنی بیوی سے جمعہ 22 فروری کو سوئٹزر لینڈ کے شہر بازل کے یوتھے نیزیا کلینک میں کہے۔ ڈاکٹر کے دیے گئے زہریلے انجکشن کی مدد سے ٹورائے بازل کے مقامی وقت کے مطابق دن کے ساڑھے گیارہ بچے موت کی آغوش میں جا سوئے۔

مرتے وقت ان کی بیوی کرسٹین اُن کا ہاتھ تھامے ہوئے تھی۔ لیکن ان کا سترہ سالہ بیٹا جیک اور چودہ سالہ بیٹی لارا وہاں موجود نہ تھے وہ انہیں اتوار کے روزملبورن میں ہی خدا حافظ کہہ چکے تھے۔ ٹورائے جب آسٹریلیا سے سوئٹزر لینڈ پہنچے تو بہت کم سو پائے اور جب سوئے تو خوابوں میں ان کو بیٹا اور بیٹی نظر آتے تھے جنہیں وہ اپنے ماں باپ کے پاس چھوڑ کر آئے تھے۔

Read more