بزرگ ایرانی دانشور اور صحافی علی دشتی نے جنت اور جہنم کا فرق کیسے معلوم کیا؟

علی دشتی ایک محقق، مصنف، دانشور، ناول نگار، مترجم، ادبی نقاد اور صحافی ہونے کے علاوہ ایرانی مجلس شوریٰ کے رکن، سینٹ کے رکن اور مصر میں ایرانی سفیر کے طور پر بھی خدمات انجام دے چکے تھے۔ علی دشتی مشہورشیعہ عالم دین شیخ عبدالحسین دشتی کے ہاں مارچ 1897 ء میں پیدا ہوئے۔ علی…

Read more

سلطنت عثمانیہ اور یینی چیری

یینی چیری سلطنت عثمانیہ کی پیادہ فوج کے بہترین دستوں کا نام تھا، اس فوج کی تشکیل 1365 ء میں سلطان مراد اول کے دور میں ہوئی۔ ترکی زبان میں یینی چیری کا مطلب نئی فوج ہے ( ”Yeni“ مطلب نئی اور ”Çeri“ مطلب فوج) ۔ یینی چیری ترکی ہی نہیں بلکہ دنیا کی پہلی…

Read more

خلافت عثمانیہ مذہبی حکومت تھی یا سیکولر؟

پہلی جنگ عظیم میں ترکی نے جرمنی کا ساتھ دیا۔ ہندوستان کے مسلمانوں نے جنگ میں انگریزوں کا ساتھ دینے کے لیے وزیراعظم برطانیہ لائیڈ جارج سے وعدہ لیا تھا کہ جنگ میں انگریزوں کی فتح کی صورت میں نہ ہی مسلمانوں کے مقامات مقدسہ کی بے حرمتی ہو گی اور نہ مسلمانوں کی خلافت کے ادارے کو چھیڑا جائے گا۔ لیکن جنگ جیتنے کے بعد انگریزوں نے اپنے تمام وعدے فراموش کر دیے۔ اس بدعہدی کے نتیجہ میں ہندوستانی مسلمانوں نے اپنے مطالبات منوانے کے لئے اپنا وفد نہ صرف برطانیہ بھیجا بلکہ بہت شدت سے تحریک خلافت کا آغاز کر دیا۔

تحریک کے اہم ترین مقاصد یہ تھے، ترکی کی خلافت بحال رہے۔ مقامات مقدسہ ( مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ ) ترکی کی تحویل میں رہیں۔ ترک سلطنت کو تقسیم نہ کیا جائے۔ تحریک خلافت بہت زور پکڑتی ہے، نتیجتاً تحریک کے اہم رہنما مولانا محمد علی جوہر اور مولانا شوکت علی جیل بھیج دیے جاتے ہیں، اور پھر ان کی ماں آبادی بانو بیگم سے منسوب نعرہ زبان زد عام ہو جاتا ہے۔ ”بولی اماں محمد علی کی، جان بیٹا خلافت پہ دے دو“۔

Read more

ترکی میں صالح نسل کی پیدائش میں مزاحمت

ترکی پر پچھلی دو دہائیوں سے ایک مذہبی جماعت حکومت کر رہی ہے۔ طییپ ریجیپ (طیب رجب) ایردوان کی جماعت ”عدالت وے کالکنما پارتیسی (جماعت برائے انصاف و ترقی) کو مصر کی اخوان المسلمین اور پاکستانی کی جماعت اسلامی کی“ ہمشیرہ جماعت ”کہا جاتا ہے۔ اس جماعت نے ترکی میں جمہوریت کا نام لیتے ہوئے…

Read more

وہ اذیت ناک موت نہیں چاہتا تھا لیکن قانون اسے روکتا تھا

”اب مزید کوئی الفاظ نہیں، میں جا رہا ہوں“۔

یہ 54 سالہ ٹورائے ٹورنٹن کے آخری الفاظ تھے جو انہوں نے اپنی بیوی سے جمعہ 22 فروری کو سوئٹزر لینڈ کے شہر بازل کے یوتھے نیزیا کلینک میں کہے۔ ڈاکٹر کے دیے گئے زہریلے انجکشن کی مدد سے ٹورائے بازل کے مقامی وقت کے مطابق دن کے ساڑھے گیارہ بچے موت کی آغوش میں جا سوئے۔

مرتے وقت ان کی بیوی کرسٹین اُن کا ہاتھ تھامے ہوئے تھی۔ لیکن ان کا سترہ سالہ بیٹا جیک اور چودہ سالہ بیٹی لارا وہاں موجود نہ تھے وہ انہیں اتوار کے روزملبورن میں ہی خدا حافظ کہہ چکے تھے۔ ٹورائے جب آسٹریلیا سے سوئٹزر لینڈ پہنچے تو بہت کم سو پائے اور جب سوئے تو خوابوں میں ان کو بیٹا اور بیٹی نظر آتے تھے جنہیں وہ اپنے ماں باپ کے پاس چھوڑ کر آئے تھے۔

Read more
––>