پانی کا سوال


پانی کا غیرضروری استعمال

پانی کے زیاں سے متعلق آگاہی مہم میں عموماً ایک نلکا دکھایا جاتا ہے جسے کھلا چھوڑدیا گیا ہوتا ہے یا پھر اس میں سے قطرہ قطرہ پانی ٹپک رہا ہوتا ہے۔ یا ایک عام سے گھر کی پانی کی ٹنکی بھرنے کے بعد اوور فلو سے بہہ رہی ہوتی ہے اور پھر ایک سنجیدہ آواز آپ کو بتاتی ہے کہ یہ پانی بہت قیمتی ہے اس لئے اسے ضائع ہونے سے بچائیں۔ لیکن ان تمام آگاہی مہمات میں کبھی بھی آپ کو حکمران طبقات کے محلوں میں ہونے والے پانی کے بے تحاشا استعمال اور زیاں کے متعلق ایک حرف بھی نہیں بتایا جاتا۔

یہ کبھی نہیں بتایا جاتا کہ حکمرانوں کے محلوں میں کتنے سوئمنگ پول ہیں جن میں صبح شام پانی تبدیل کیا جاتا ہے۔ کتنے فوارے ہیں جو دن رات چلتے رہتے ہیں۔ کتنے باغات ہیں جن کو لاکھوں لیٹر پانی روزانہ دیا جاتا ہے اور کتنی مصنوعی آبشاریں ہیں جو لان کو خوبصورت بنانے کے لئے نصب کی گئی ہیں۔ کتنے واٹر پارک ہیں جہاں قیمتی پانی صرف کھیل کود کے لئے استعمال کیا جاتا ہے جبکہ لاکھوں لوگ ایک ایک بوند کو ترس رہے ہوتے ہیں۔

کتنے لاکھ لیٹر پانی بوتلوں میں بھرا گوداموں میں پڑا رہتا ہے کیوں کہ گاہک موجود نہیں ہوتے اور کتنے کروڑ لیٹر پانی کولڈڈرنکس کی صورت میں قید ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق کوک کی سالانہ پیداوار 650 ملین میٹرک ٹن سے زیادہ ہے یعنی صرف کوک کے پیداواری عمل میں سالانہ 5850 ملین میٹرک ٹن پانی استعمال ہوتا ہے۔ ایک انسان کو پورے دن میں پینے کے لئے صرف 2 لیٹر پانی کی ضرورت ہوتی ہے اورکوک سالانہ اتنا پانی استعمال کرتی ہے جو 8 ارب سے زائد انسانوں کی پورے سال کی پیاس بجھا سکتا ہے۔ اب اگر بقایا ڈرنک انڈسٹری کو بھی لیا جائے تو یہ اتنا پانی ہو گا جو شاید سینکڑوں سال تک استعمال کیا جاسکے۔ پانی کے اس غیر ضروری استعمال کے بارے میں کبھی میڈیا نہیں بتائے گا کیونکہ اس کے ساتھ اربوں کھربوں روپے کے منافعے جڑے ہیں۔

پاکستان اور ڈیم

پاکستان ان چند ممالک میں سرِفہرست ہے جہاں پانی کا بحران آنے والے دنوں میں شدت اختیار کرتا جائے گا۔ پاکستان کی مقتدر اشرافیہ کے آئن سٹائن چیف جسٹس نے بہت ”تحقیق“ کے بعد اس مسئلے کا حل ایک ڈیم بنانے میں نکالا ہے اور اس کے لئے عوام سے چندہ بھی لینا شروع کردیا ہے جو چندے سے زیادہ بھتہ معلوم ہوتا ہے۔ عوامی چندوں سے اتنے بڑے منصوبوں کی تکمیل ممکن بھی ہے یا نہیں یہ ایک الگ بحث ہے۔ سب سے پہلے تو یہ بات کہ ڈیم صرف پانی جمع کر سکتا ہے پانی بنا نہیں سکتا۔

دوسرا سب سے اہم نکتہ یہ کہ بڑے ڈیم بنانے کے معاشرتی اور ماحولیاتی نقصانات بہت زیادہ ہیں جس کی طرف کبھی توجہ نہیں دی گئی۔ جب بڑے ڈیم (بڑے ڈیم سے مراد ایسا ڈیم جس کی اونچائی 15 میٹر تک ہو اور پانی جمع رکھنے کی صلاحیت 3 ملین کیوبک میٹر تک ہو) بنائے جاتے ہیں تو وہ آبادیا ں جو ڈیم کی تعمیر سے براہ راست متاثر ہو رہی ہوتی ہیں ان سے کسی قسم کی اجازت نہیں لی جاتی۔ یعنی وہ لوگ جو وہاں آباد ہیں، وہ زمینیں جو ڈیم بننے کے بعد زیرِآب آجائیں گی یا وہ لوگ جن کا گزر بسردریا کے ڈاؤن اسٹریم میں کاشتکاری اور ماہی گیری وغیرہ کے ساتھ جڑا ہے۔

انڈیپنڈنٹ ورلڈ کمیشن آن ڈیمز کی مطابق زیادہ تر منصوبے معاشرتی اور ماحولیاتی نقصان کے سدِباب میں ناکام رہے ہیں۔ بڑے ڈیموں کی تعمیر میں پچھلے دس سال میں ایک دفعہ پھر اضافہ ہوا ہے اور بڑے ڈیموں کو ماحول کو صاف رکھنے اور صاف ستھری انرجی (بجلی) کے ذرائع کے طور پر مشہور کیا جا رہا ہے۔ بڑے ڈیموں کی تعمیر کے لئے بڑے سرمائے کی ضرورت ہے اور یہ سرمایہ چین، برازیل، انڈیا اور تھائی لینڈ جیسے درمیانے درجے کی معیشتوں سے آ رہا ہے۔

چینی کمپنیاں اور بینک اس وقت 216 بڑے ڈیموں کی تعمیر میں شامل ہیں جو 49 ممالک میں بن رہے ہیں۔ پاکستان میں جس حد تک چینی سامراج کا اثرورسوخ بڑھتا جا رہا ہے اس سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے کہ یہ ڈیم بھی چینی سرمایہ کاروں کو اربوں ڈالر کے منافعوں سے نوازنے کے لئے بنوایا جا رہا ہے جس میں یہاں کی ریاستی اشرافیہ حسب روایت کمیشن ایجنٹ کا کردار ادا کرے گی۔ لاکھوں زیرِ التوا مقدموں کو نمٹانے کی بجائے بڑے قاضی صاحب ڈیم کے لئے چندہ اکٹھا کرتے پھر رہے ہیں۔

بڑے ڈیموں کی تعمیر ماحولیاتی آلودگی کو بڑھانے کا سبب بھی بنتی ہے۔ دریاؤں کا قدرتی بہاؤ ان میں موجود آلودگی کو کم کرنے کا موجب بنتا ہے جبکہ ڈیم میں پانی جمع ہونے کی وجہ سے آلودگی بڑھ جاتی ہے۔ زیادہ تر بڑے ڈیموں نے ڈاؤن اسٹریم میں پانی کو خطرناک حد تک کم کردیا ہے بلکہ۔ بعض دریا تو اب سمندر تک پہنچ ہی نہیں پاتے۔ جس کی وجہ سے دریا کے ڈاؤن اسٹریم پر بسنے والوں کی زندگیاں مسلسل عذاب کی کیفیت سے دوچار ہیں۔

علاوہ ازیں سمندر بھی مسلسل آگے بڑھتے آ رہے ہیں اور خشکی کے خطوں کو ہڑپ کر رہے ہیں۔ پاکستان میں ڈیم کو سیاسی شعبدہ بازی کے لئے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ بہت سے قوم پرست گروہ ایک طرف ڈیم کے مخالف نظر آتے ہیں تو دوسری طرف چینی اور امریکی سامراج یا ہندوستانی سرمائے کی کاسہ لیسی کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے۔ زلزلوں کی وجوہات پر سائنسدانوں کی تحقیقات سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ بڑے ڈیم زلزلے لانے کا باعث ہو سکتے ہیں یا زلزلوں کی شدت کو بھی بڑھا سکتے ہیں۔ اس مخصوص کیفیت کو ’Reservoir۔ induced Seismicity‘ کہا جاتا ہے۔ پاکستان میں جس جگہ دیا میر بھاشا ڈیم بنانے کی بات کی جارہی ہے وہ جگہ فالٹ لائن پر واقع ہے اور اس جگہ ڈیم کا بننا کسی بڑے زلزلے کا موجب بھی بن سکتا ہے۔

اوپر بیان کیے گئے اعدادو شمار اور حقائق سے یہ بات واضح ہوکے سامنے آتی ہے کہ سرمائے کی ہوس اور منافع خوری میں دھرتی پہ موجود سب سے اہم انسانی ضرورت کا بے دریغ زیاں کیا جا رہا ہے اور اس کے استعمال کا پھیلاؤ اس قدروسیع ہے کہ اسے نظام تبدیل کیے بغیر کسی اور طریقے سے نہیں روکا جا سکتا۔ ایک منصوبہ بند عالمی معیشت، جس میں پیداوار کا مقصد انسانی ضرورت کی تکمیل ہو، ہی اس لوٹ کھسوٹ کے نظام کو ختم کر کے دھرتی کو انسانوں کے رہنے کے قابل بنا سکتی ہے اور آج کے عہد میں یہ صرف ا نقلابی سوشلزم کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2