پانی کا سوال

پانی زندگی ہے۔ بلا مبالغہ ہزارہا مرتبہ سنے ہوئے اس جملے میں جو سچائی ہے اس کا مکمل ادراک وہی کر سکتے ہیں جن کی زندگی کے شب و روز اپنی رہائش تک پینے کا صاف پانی پہنچانے میں صرف ہو جاتے ہیں اور یہ بھی ضروری نہیں کہ وہ بلوچستان یا تھر کے رہائشی ہوں۔ اگر آپ پاکستان کے صنعتی مرکز اور سب سے متمدن شہر کراچی میں بھی رہائش پذیر ہیں تب بھی آپ کو اس مسئلے کا سامنا روزانہ کی بنیاد پر کرنا پڑسکتا ہے۔ بلکہ اگر آپ امریکہ کی ریاست ’مشی گن‘ کے شہر ’فلِنٹ‘ کے رہائشی ہیں تو بھی آپ کے گھر کی پانی کی لائن میں آنے والا پانی مضرِ صحت ہو سکتا ہے۔ شہریوں تک صاف پانی کی فراہمی کا مسئلہ اب غیر ترقی یافتہ خطوں سے ہوتا ہوا ترقی یافتہ خطوں تک پہنچ گیا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ زندگی کی بنیادی ضروریات میں سے سب سے اہم ضرورت تعیشات میں شامل ہوتی جا رہی ہے اور یہ بحران کسی قدرتی آفت کا نتیجہ نہیں ہے۔

Read more

زمین سے بڑے پیمانے پہ زندگی کا خاتمہ ہو نے کا خطرہ

جسمانی طور پر جدید انسان کو زمین پر زندگی گزارتے تقریباً سوا تین لاکھ سال کا عرصہ ہو نے کو ہے۔ زرعی انقلاب تقریباً دس ہزار سال پہلے وقوع پذیر ہوا اور سائنسی دریافتوں اور ایجادات کے ساتھ سرمایہ دارانہ صنعتی انقلاب اٹھارہویں صدی عیسوی میں شروع ہوا۔ جس کا تسلسل آج انسان کو زمین کی طنابیں توڑ کر خلاؤں کی خاک چھاننے کے قابل بنا چکا ہے۔ ایک طرف جہاں سائنس اور تکنیک کی ترقی نے زندگی کو سہل بنایا وہیں دوسری طرف سرمائے کی ہوس نے وحشت اور بربریت کی تمام حدیں توڑ دیں۔ لیکن آج سرمائے کی ہوس صرف انسانوں کے لئے ہی نہیں بلکہ پورے کرہ ارض کی حیات کے لئے خطرے کا سبب بن چکی ہے۔ ماحولیاتی تبدیلیاں آج اس نہج تک پہنچ چکی ہیں کہ اگر جلد ان کو روکا نہ گیا تو زمین سے بڑے پیمانے پہ زندگی کا خاتمہ ہو نے کا خطرہ ہے۔

Read more