حیض پر بنی فلم کو آسکر ایوارڈ اور عورتوں کو درپیش رویے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  • 44
  •  

برصغیر کے معاشرے کے ایک بڑے حصے میں جن موضوعات پر گفتگو کسی کے لئے بھی معبوب خیال کی جاتی ہے ان میں سے ایک حیض یا ماہواری بھی ہے۔ ایک خاتون قلم کار ہوتے ہوئے بھی اس موضوع پر لکھنے کے خطرے سے میں بخوبی واقف ہوں اور معاملہ کی سنگینی کے پیش نظر یہ خطرہ اٹھانے کا ارادہ رکھتی ہوں۔ موضوع پر بحث میں جانے سے پہلے ایک خبر پر توجہ فرمائیے۔ سنیما کی دنیا کا سب سے بڑا اعزاز مانے جانے والے اکیڈمی ایوارڈ جسے عام طور پر آسکر ایوارڈ کہا جاتا ہے اس میں اس بار ایک بھارتی فلم نے بھی بازی مار لی ہے۔

ماہواری سے متعلق ٹیبو پر بنی فلم پیریئڈ: اینڈ آف سینٹینس نے 91 ویں اکیڈمی ایوارڈس کے ڈاکیومنٹری شارٹ سبجیکٹ زمرے میں ایوارڈ حاصل کیا ہے۔ یہ دستاویزی فلم بھارتی ریاست اترپردیش کے شہر ہاپوڑ کی رہنے والی لڑکیوں کی کہانی ہے جو گاؤں میں خواتین کے درمیان ماہواری کے بارے میں بیداری پیدا کرنے، گاؤں میں سینیٹری پیڈ بنانے والی مشین لگانے اور اس میں کام کرنے کی ان کی جدوجہد کو بیان کرتی ہے۔ اس فلم میں دکھایا گیا ہے کہ ہمارے سماج میں آج بھی کس طرح گاؤں میں ماہواری کے بارے بچیاں جھجک، ڈر اور اندیشوں کا سامنا کرتی ہیں۔

فلم بتاتی ہے کہ اس بارے میں ہمارے یہاں خواتین میں آگہی کی کتنی کمی ہے؟ پچیس منٹ کی اس مختصر سی دستاویزی فلم کی ایگزیکیٹیو پروڈیوسر گونیت مونگا ہیں، فلم کی ہدایت کاری ایرانی فلم ساز رائکاز ہتاباچی نے کی ہے۔ اکیڈمی ایوارڈ پانے کے بعد گونیت مونگا نے اپنی خوشی کا اظہار ٹویٹر پر ان لفظوں میں کیا: ”ہم جیت گئے، اس دنیا کی ہر لڑکی، تم سب دیوی ہو“۔ ہدایت کار نے آسکر ملنے کی خوشی بڑے جذباتی انداز میں یوں ظاہر کی: ”میں اس لئے نہیں رو رہی ہوں کہ میرا پیریئڈ چل رہا ہے یا کچھ اور ہو رہا ہے۔ یہ تو میرے خوشی کے آنسو ہیں، مجھے یقین نہیں ہو رہا کہ پیریئڈ پر بنی فلم آسکر جیت سکتی ہے“۔

آسکر ملنے پر پروڈیوسر اور ڈائریکٹر کی خوشی اپنی جگہ لیکن یہاں رُک کر فلم کے موضوع پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ ماہواری کا معاملہ برصغیر کی خواتین کی زندگی میں مختلف قسم کی گندگی، پابندیوں اور عقائد سے جوڑا جاتا رہا ہے اور اس معاملہ پر عام طور سے خاموشی ہی روا رکھی جاتی ہے۔ حیض جو کہ ایک ایسا قدرتی جسمانی عمل ہے جس کے تحت خواتین کے بلوغت کو پہنچتے ہی ان میں مختلف تبدیلیوں کا آغاز ہو جاتا ہے، لیکن ہمارے معاشرے میں اسے الگ ہی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔

چونکہ ایسے معاملات کا کھل کر تذکرہ بھی معیوب سمجھا جاتا ہے اس لئے شرم و حیائی کے نام پر یہ موضوع پر ناقابل ذکر قرار پایا ہے۔ اس صورتحال کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ خود خواتین ہی آپس میں گفتگو کے دوران بھی ماہواری اور حیض جیسے الفاظ تک سے اجتناب کرتی ہیں۔ سماج کی صدیوں کی تربیت اور شرم و حیائی کی دہائیوں کی گٹھڑیوں میں دبی خواتین نے اس کے لئے بعض متبادل الفاظ یا جملے وضع کر لئے ہیں جیسے مہینہ آنا، چھٹیاں چلنا، سگنل ڈاؤن ہونا، ریڈ سگنل ہونا، نیچر پنشمنٹ وغیرہ۔

مسئلہ صرف گفتگو تک نہیں بلکہ عملی طور پر خواتین کو جن مسائل کا سامنا رہتا ہے وہ بھی کم توجہہ طلب نہیں ہیں۔ شہروں میں، جہاں سینیٹری پیڈس آسانی سے دستیاب ہیں وہاں اتنی مشکلات نہیں ہوتیں لیکن گاؤں دیہات میں حالات بہت خراب ہوتے ہیں۔ اول تو ہمارے دیہات میں پائی جانے والی عمومی غربت کی وجہہ سے خواتین سینیٹری پیڈ خریدنے کی استطاعت ہی نہیں رکھتیں اور اگر کسی کے پاس پیسہ ہو بھی تو پیڈ خرید کر خود لانا یا کسی سے منگوانا دونوں ہی کسی معرکے سے کم نہیں۔

مجبوری میں خواتین پھٹے پرانے کپڑے، سڑے گلے کاغذ اور گتے تک استعمال کرتی ہیں۔ یہ خواتین جن چیزوں کو استعمال کرتی ہیں ان میں سے کچھ تو ایسی ہیں کہ اگر ان چیزوں کا نام پڑھ کر آپ کی ریڑھ کی ہڈی میں سرد لہر نہ دوڑ جائے تو مجھے آپ کی حساسیت پر سخت شبہ ہوگا۔ جی ہاں، یہ خواتین مجبوری میں لکڑی کا بُرادا، راکھ اور مٹی تک استعمال کرتی ہیں۔

مذہبی بیانیہ عورت کے جس روپ کو سب سے زیادہ احترام کا حقدار بتاتا ہے وہ ماں کا کردار ہے۔ مذاہب کی تعلیمات متفق ہیں کہ ایک عورت جب ماں بنتی ہے تو اس کا درجہ بہت بلند ہو جاتا ہے۔ ماہواری کے بارے میں کوئی حکم لگانے سے پہلے دھیان رکھنا چاہیے کہ یہ ماہواری کا عمل ہی ہے جو عورت کو ماں کے مرتبے پر فائض کرنے کی سمت پہلا قدم ہے۔ ماہواری کے دوران خواتین کو جن روایتی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ان سب کا ذکر بھی مشکل ہے۔

مثال کے طور پر بہت سی جگہوں پر انہیں اس مخصوص دورانیہ میں اچھوت کی طرح رکھا جاتا ہے جیسے وہ کسی موذی اور لپٹنے والی بیماری میں مبتلا ہوں۔ ڈاکٹر بتا چکے ہیں کہ یہ ایک عام جسمانی عمل ہے لیکن سماج کی اکثریت ابھی تک اندھے عقائد کی مار سے ایسی دوچار ہے کہ اسے آسمانی مصیبت سے کم ماننے کو آمادہ نہیں۔ بہت سے علاقوں میں ایسی روایات موجود ہیں جن کے تحت ماہواری میں عورتیں پودھے کو پانی نہیں دیں سکتی، اچار نہیں چھو سکتیں، پاپڑ نہیں سُکھا سکتیں، ان سے کھانا نہیں بنوایا جاتا، اس دوران انہیں زمین پر سونے کا حکم رہتا ہے، ان کے بستراور برتن تک الگ کر دیے جاتے ہیں۔

بھارت کی بات کریں تو مغربی گجرات، مہاراشٹر، راجستھان، آسام، بنگال، منی پور کے کئی علاقوں میں اس قسم کی باتیں خوب پائی جاتی ہیں۔ ہماچل پردیش کے کُلو ضلع کے قریب 82 دیہی علاقے ایسے ہیں جہاں ان ایام کے دوران عورت کو گھر سے باہر رہنا پڑتا ہے جہاں وہ میدان میں کسی جھوپڑی یا جانوروں کے باڑے میں رات گزارتی ہے۔

دیہی علاقوں میں ان غیرعقلی رسومات کو نہ ماننے پر عورتوں کو ناگہانی آفات سے ڈرایا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر وہ کنوئیں کے پانی کو ہاتھ لگائیں گی تو کنواں ہی سوکھ جائے گا، پھل کو ہاتھ لگانے سے پیڑ پر پھل نہیں آئیں گے، فصل کو چھوا تو وہ برباد ہو جائے گی وغیرہ وغیرہ۔ کہیں کہیں تو یہ تک مانا جاتا ہے کہ اگر ماہواری کے دوران عورت نے مندرجہ بالا پابندیاں نہ مانیں تو گھر میں کسی کی موت ہو سکتی ہے۔ شہروں میں رہنے والے لوگ ہی نہیں زیادہ تر خواتین بھی شاید ان مصیبتوں سے واقف نہیں ہیں جن سے ایک عورت ہر ماہ سماجی جہالتوں کے سبب گزرنے کو مجبور ہوتی ہے۔

شہروں میں اگر سروے کیا جائے تو ان پریشانیوں کو علم انہیں خواتین کو ہوگا جو خود دیہی علاقوں سے ہجرت کرکے شہر آئی ہیں اور ان حالات سے کبھی نہ کبھی خود گزر چکی ہیں۔ تشویشناک امر یہ ہے کہ اس معاملہ پر روا رکھی جانے والی خاموشی اور بیداری کا فقدان ان مسائل کو حل کرنے کے بجائے مزید خراب ہونے کی طرف ہی دھکیل رہا ہے۔

یہ بات ذہن میں رہنی چاہیے کہ اس تحریر کا مقصد خواتین کو اس بات کی تحریک دینا نہیں ہے کہ وہ اس معاملہ پر بلا ضرورت ڈھنڈورا پیٹیں بلکہ ہمارا مقصد اس المیہ کی طرف نشاندہی کرنا ہے جس سے ہماری خواتین کی ایک اچھی خاصی تعداد مسلسل دوچار ہے۔ ہمیں چاہیے کہ سماج میں پائی جانے والی جہالت کو برداشت کرنے سے پہلے ذرا اس اذیت کا تصور کریں جس سے خواتین گذاری جاتی ہیں اور وہ بھی اس جسمانی عمل کی وجہہ سے جس پر نہ صرف یہ کہ ان خواتین کا اپنا کوئی زور نہیں بلکہ جو عمل ایک صحت مند خاتون کی زندگی کی نشانی اور انسانی زندگی کے سفر کو آگے بڑھانے کی وعید بھی ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  • 44
  •  

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

صائمہ خان، اینکر پرسن دور درشن، دہلی

صائمہ خان دہلی سے ہیں،کئی نشریاتی اداروں میں بطور صحافی کام کر چکی ہیں، فی الحال بھارت کے قومی ٹی وی چینل ڈی ڈی نیوز کی اینکر پرسن ہیں

saima-skhan has 8 posts and counting.See all posts by saima-skhan