’’سانپ‘‘ ابھی مرا نہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  • 18
  •  

اُردو کے ایک محاورے کے مطابق نماز بخشوانے جائو تو روزے گلے پڑجاتے ہیں۔پنجاب کے وزیر اعلیٰ کے ساتھ مگر معاملہ اس کے برعکس ہوا۔ دربار بنی گالہ کی راہداریوں میں ہوئی سرگوشیوں کی خبر رکھنے والوں کا دعویٰ تھا کہ عثمان بزدار صاحب کو محض وضاحتیں دینے کے لئے طلب نہیں کیا جارہا۔

مناسب ڈانٹ ڈپٹ کے بعد انہیں وارننگ دی جائے گی کہ پنجاب اسمبلی میں پاس ہوا وہ بل فی الفور واپس لیا جائے جس کے ذریعے اس ہائوس کے اراکین کی تنخواہوں اور مراعات میں ہوشربا اضافہ کردیا گیا۔عثمان بزدار اسے واپس نہ کرواسکے تو…

مذکورہ بل کی ’’تصحیح‘‘ کی راہ میں حائل مشکلات کو نگاہ میں رکھتے ہوئے میرے کئی دوستوں نے عثمان بزدار کے متبادل کی تلاش شروع کردی۔ میں نے اس مشق میں دیگر وجوہات کی وجہ سے دلچسپی نہیں لی۔ کئی مستند ذرائع کی بدولت ویسے بھی خوب جان چکا ہوں کہ عمران خان صاحب عثمان بزدار کو ’’وسیم اکرم پلس‘ ‘ بنانے پر تلے ہوئے ہیں۔

چند نامور صحافیوں سے ذاتی ملاقاتوں میں اپنی حکومت کا دفاع کرنے کے بجائے بزدار صاحب کے گن گاتے رہے۔ دوستانہ درخواست ہوئی کہ ان پر ہاتھ ’’ہولا‘‘ہی نہیں رکھنا بلکہ انہیں بہتر حکمران کی صورت Project بھی کرنا ہے۔نظر بظاہر صوبائی حکومت نے مذکورہ بل کو تیار نہیں کیا۔

حکومتی اور اپوزیشن اراکین نے یکسوہوکر اسے اراکین کی جانب سے ’’ذاتی حیثیت‘‘ میں تیار کئے قوانین پر غور اور منظوری کے لئے مختص ہوئے دن ’’اچانک‘‘ پیش کردیا۔ حکومتی اراکین اس کی حمایت میں ووٹ دیتے ہوئے اس مضمرات پر غور نہ کر پائے۔ لطیفہ یہ بھی ہے کہ مذکورہ بل کی مذمت میں سب سے پہلی آواز عمران خان صاحب نے اٹھائی۔

طیش میں لکھے ایک ٹویٹ کے ذریعے انہوں نے حیران ہوکر معلوم کرنا چاہا کہ کسادبازاری اور مندی کے اس موسم میں پنجاب اسمبلی کے اراکین کو اپنی تنخواہوں اور مراعات میں اضافے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی ۔ گورنر کو حکم دیا کہ وہ اس بل پر دستخط سے انکارکردیں۔ دوبارہ غور کے لئے اسے پنجاب اسمبلی کو بھیجا جائے۔

تحریک انصاف کے بانی چیئرمین کے برسرعام دئیے اس حکم کی تعمیل ضروری تھی۔پنجاب اسمبلی کے جہاندیدہ اور کائیاں سپیکر چودھری پرویز الٰہی نے وزیر اعظم کی تشفی کے لئے مذکورہ بل میں وزیر اعلیٰ کے لئے اس عہدے سے رخصتی کے بعد دی گئی بھاری بھر کم مراعات کو ’’ٹائپنگ‘‘ کی غلطی قرار دے کر ’’درست‘‘ کردیا۔

وزیر اعلیٰ کو اب اپنے عہدے سے رخصت کے بعد سرکاری رہائش نہیں ملے گی۔ نوکرچاکر بھی دستیاب نہیں ہوں گے۔ اراکین کی تنخواہیں اور مراعات جو مذکورہ بل نے طے کی ہیں فی الوقت مگر اپنی جگہ برقرار ہیں۔پنجاب اسمبلی کے اراکین کی بے پناہ اکثریت اپنی تنخواہوں اور مراعات میں اضافے پر شرمندہ نہیں۔

ذاتی محفلوں میں ان کا اصرار ہے کہ ایسی تنخواہیں اور مراعات اُن کا ’’حق‘‘ ہے۔ کئی ایک نے میڈیا کو بلکہ یاد دلایا ہے کہ پاکستان کی دیگر صوبائی اسمبلیوں کے اراکین کی تنخواہیں اور مراعات مذکورہ بل میں دی گئی سہولتوں سے اب بھی کہیں زیادہ ہیں۔پنجاب اسمبلی میں ووٹنگ کے ذریعے مذکورہ بل کی ’’تصحیح‘‘ ناممکن تو نہیں مگر بے انتہا سیاسی مشقت کی طلب گار ہے۔

اس امکان کو بھی رد نہیں کیا جاسکتا کہ جب مذکورہ بل پنجاب اسمبلی میں ازسرنوغور کے لئے پیش ہو تو اپوزیشن یکسوہوکر مخالفت کرے۔ تحریک انصاف کے اراکین خاموشی سے سرکاری بنچوں سے اُٹھ کر ایوان سے باہر چلے جائیں۔ ان کی غیر حاضری میں اپوزیشن مذکورہ بل کو اس کی ’’اصل شکل‘‘ میں دوبارہ منظور کروالے۔

ایسی منظوری تحریک انصاف کے چیئرمین کے لئے ذاتی سبکی کا باعث ہونے کے علاوہ یہ سیاسی پیغام بھی دے گی کہ عثمان بزدار کے پاس اپنے ہائوس میں اکثریت کی حمایت حاصل نہیں رہی۔ ان کا متبادل ڈھونڈنا ہوگا۔عثمان بزدار کے ’’متبادل‘‘ کی تلاش سو طرح کے مسائل کھڑے کرسکتی ہے۔

گروہوں میں بٹی تحریک انصاف کے لئے کسی ایک نام پر متفق ہونا دشوار دکھائی دے رہا ہے۔ عمران خان صاحب اس دشواری کو بخوبی سمجھتے ہیں۔اسی باعث عثمان بزدار سے ملاقات کے بعد انہیں مزید بااختیار بنانے کی بات چلی ہے۔ دعویٰ ہے کہ اب وہ اپنی کابینہ سے چند ایسے اراکین کو فارغ کرسکتے ہیں جن کی کارکردگی سے وہ مطمئن نہیں۔

سرکاری افسروں کی تعیناتی کے ضمن میں بھی انہیں مزید Spaceدے دی گئی ہے۔ اپنے قائد سے ملاقات کے بعد لہذا وہ ہنستے مسکراتے لوٹے ہیں۔’’متبادل‘‘ کی تلاش فی الوقت رک جائے گی۔چند روز بعد شاید میڈیا کی توجہ بھی مذکورہ بل پر مبذول نہیں رہے گی۔اس بل کا ’’تصحیح شدہ‘‘ ورژن کسی ٹھوس تبدیلی کے بغیر کسی دن منظور کروالیا جائے گا۔اراکین اسمبلی کی تنخواہوں اور مراعات میں ہوا اضافہ کسی نہ کسی صورت اپنی جگہ برقرار رہے گا۔

Perception Managementکے حوالے سے مذکورہ بل کی وجہ سے اُٹھے قضیہ نے لیکن عمران خان صاحب کو اس ملک میں ’’واحد‘‘ سیاست دان کے طورپر پیش کیا ہے جن کا دل غریب کے لئے دھڑکتا ہے۔ انہیں بخوبی اندازہ ہے کہ متوسط طبقات کی زندگی مہنگائی،بجلی اور گیس کی قیمتوں میں کمرتوڑ اضافے کی وجہ سے اجیرن ہوچکی ہے۔

اس فضا میں فقط اپنی تنخواہوں اور مراعات کی فکر میں مبتلا پنجاب اسمبلی کے اراکین ’’خودغرض‘‘ اور ’’حریص‘‘ نظر آئے۔اپوزیشن جماعتوں کے رہنمائوں نے مگر ان اراکین کی مذمت کے لئے ایک لفظ بھی نہیں کہا۔ نواز لیگ کے لوگ سابق وزیر اعظم کی صحت کے بارے ہی میں پریشان رہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت جعلی اکائونٹس کے حوالے سے ضمانتیں کروانے میں مصروف رہی۔

پنجاب اسمبلی کے اراکین کی ’’خودغرضی‘‘ اور ’’ہوس‘‘ کا نوٹس لیا تو فقط عمران خان نے اورایک ٹویٹ کے ذریعے خفگی کا اظہار کرتے ہوئے اپنی جماعت کو’’تصحیح‘‘ کا حکم دیا۔مذکورہ بل کی بنا پر میڈیا میں چلارائونڈ عمران خان کو ’’سب سے الگ اور بالاتر‘‘ دکھانے کا باعث ہوا۔ ’’لاٹھی‘‘ اُٹھی تو نظر آئی مگر ’’سانپ‘‘ ابھی نہیں مرا ہے۔ پنجاب اسمبلی کے اراکین کی تنخواہوں اور مراعات میں اضافہ میرے خیال میں اپنی جگہ برقرار رہے گا۔ہر فریق کے لئے Win-Win کی بہترین مثال۔

بشکریہ روزنامہ نوائے وقت

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  • 18
  •  

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں