”مار نہیں پیار“ سے ”متفق نہیں تو مرو“ تک

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مقتول پروفیسر خالد حمید جو گورنمنٹ صادق ایجرٹن کالج بہاولپور کے شعبہ انگریزی کے ایسوسی ایٹ پروفیسر اور کالج کے سیکنڈ پرنسپل تھے حسب معمول 8 بج کر 40 منٹ پر کالج پہنچے مگر اس بات سے بے خبر تھے کہ جب وہ اپنے کمرے کی جانب بڑھ رہے ہیں بی ایس انگریزی کا طالب علم خطیب حسین اک ستون کی آڑ میں چھپا ان کا منتظر ہے۔ففتھ سمسٹر کے طالب علم نے پروفیسر کے سر پر پہلے وزنی آہنی تالا مارا اور پھر چھریوں سے اپنے استاد کی آنکھوں ، چہرے،اور سینے پر پے در پے وار کرنے لگا۔اپنی کارروائی کے دوران بملزم باآواز بلند کہتا رہا 21 مارچ کو شعبہ انگریزی میں نئے طالب علوں کے اعزاز میں دی جانے والی ویلکم پارٹی اسلامی تعلیمات کے منافی ہے۔ جس کی پروفیسر خالد حمید کھلم کھلا حمایت کر رہے ہیں۔ اس لیے پروفیسر کو قتل کر دینا چاہیے۔
پروفیسر صاحب کے قتل نے لوگوں کو ناقابل یقین صورتحال سے دوچار کر دیا۔لوگوں کی بڑی تعداد نے اس واقعے کو مذہبی جنونیت کا شاخسانہ قرار دیا۔”جس نے ایک انسان کو قتل کیا گویا اس نے ساری انسانیت کو قتل کیا” اور “جس نے مجھے ایک لفظ بھی پڑھا دیا میں اس کا غلام اور وہ میرا آقا” جیسے جملے بار بار سننے کو ملتے رہے۔ تعلیم یافتہ نوجوان سیخ پا تھے کہ اسلام نے یوں ہی مقتول کا مؤقف سنے بغیر سزا دینے کی چھوٹ دی ہوتی تو “قاضی ” جیسے شعبے کی تخلیق کیونکر کی جاتی؟ اکثر بحث مباحثوں میں اس واقعے کو آسیہ بی بی اور مشال خان قتل کیس سے مماثل قرار دیا گیا۔کچھ کوٹ رادھا کشن کا وہ واقعہ بھی دھراتے رہے جس میں لین دین کے تنازعہ پر میاں بیوی کو توہین مذہب کا رنگ دیکر بھون دیا گیا تھا۔
سب دلیلیں اپنی جگی مگر باعث تکلیف امر یہ تھا کہ ایک ایسا طالب علم جس کی عمر سے زیادہ پروفیسر صاحب کا پڑھانے کا تجربہ ہو گا اپنے ہی استاد کو بےدردی سے قتل کر دیتا ہے۔اس کے بعد میڈیا پر قاتل کی ویڈیو جاری کی جاتی ہے۔جس میں سوال کرنے والا استفسار کرتا ہے کہ آپ کو علم ہے آپ کے حملے کے باعث پروفیسر صاحب دم توڑ گئے ہیں؟ تو ملزم بڑی دیدہ دلیری سے کہتا ہے”اچھی بات ہے” اس جملے نے مجھے جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔سوچنے لگی تو سوچتی ہی چلی گئی کہ کیا اس واقعے کا طوق صرف مذہبی جنونیت کے گلے ڈالنا عین قرینہ انصاف ہو گا؟
وہی اسلام جس کی توہین کی آڑ لیکر یہ قتل کیا گیا کہتا ہے ماں کی گود بچے کی پہلی درسگاہ ہے۔اس لیے سب سے پہلی ذمہ داری تو ماؤں کی ہے جہاں وہ بچوں کو چھوٹے بڑے کی تمیز سکھاتی ہیں وہاں بچوں کو یہ بھی بتائیں کہ ایک استاد کی معاشرے یا اس سے بھی تھوڑا آگے جا کر کہوں تو مذہب میں کیا اہمیت ہے؟دونوں ہاتھوں پر پٹیاں لیے یہ نوجوان بڑی ڈھٹائی سے قتل کا اقرار کر رہا ہے۔اس کی تربیت میں اس قدر غفلت برتنے پر اس کی ماں ،یا اس کے والدین کیا اس قتل میں شریک تصور نہیں کیے جانے چاہیں؟
ہمارے ہاں ایک طبقہ وہ بھی ہے جو ذاتی طور پر نہ قاتل کو جانتا ہوتا ہا نہ مقتول کو پھر بھی جب ملزم یہ کہہ دے کہ اس نے اس لیے جان لی کہ مقتول توہین مذہب کا مرتکب تھا تو ایسے طبقے کی ہمدردیاں اچانک بیدار ہو جاتی ہیں وہ بھول جاتے ہیں کہ اک انسان قتل ہوا ہے الٹا ملزم کی وکالت شروع کر دیتے ہیں۔ایسے کیسیز میں ملزم بھی عموماً جانتا ہے کہ اگر توہین مذہب کا ڈیفینس لیا جائے تو جان چھوٹ بھی سکتی ہے،لوگوں کی سپورٹ بھی مل سکتی ہے، اکثر تو بنا سوچے سمجھے احتجاج تک اتر سکتے ہیں ۔یہی لوگ جو ایسی غیر مشروط حمایت سے قاتل کا حوصلہ بڑھاتے ہیں کیا یہ طبقہ اس قتل سے بری الزمہ ہے ؟
میرے ابا جی(دادا) گاؤں میں پرائمری سکول ٹیچر تھے۔انہوں نے چالیس سال سروس کی اور تقریباً ستر کو پہنچ کر وفات پائی۔آج سے چالیس پچاس برس قبل کا نصاب ٹٹولیے اور ثابت کریں کہ اس میں لکھا تھا کہ استاد کی عزت کیسے کرنی ہے؟ استاد راستے میں سے گزر رہا ہو تو وہیں کھڑا رہنا ہے جب تک کہ استاد آپ سے آگے نہ چلنے لگے۔استاد جب تک کھڑا ہے بیٹھنے کی جرات نہیں کرنی،یا ریٹائرمنٹ کے بعد بھی گھر حاضری دینی ہے اور خیریت دریافت کرنی ہے وغیرہ وغیرہ ۔
نصاب میں یہ اخلاقیات نہیں ملیں گی مگر میں عینی شاہد ہوں ابا جی کی وفات کے بعد بھی گاؤں میں ان کا قابل رشک مقام ہے۔لوگ ہماری بے حد تکریم کرتے ہیں کیونکہ ہم ابا جی کے پوتے پوتیاں ہیں۔  گستاخی معاف ! مجھے کہنے دیجئے آج استاد بھی اپنے طالب علموں کی اخلاقی تربیت کرنے میں سراسر ناکام ہے۔ بے شک اس کا الزام کمرشل ازم کو دیں یا مذید سو پہلو کریدیں مجھے یہ کہتے ہوئے نہایت تکلیف ہو رہی ہے آج اک استاد کی خون میں لت پت لاش دیکھنے کے مقام تک کا کھڑا کرنے میں کہیں نہ کہیں خود استاد بھی ملوث ہے۔
گورنمنٹ بظاہر تعلیم عام کرنے کے لیے سو جتن کر رہی ہے۔بنیادی تعلیم کے حصول کا حق فنڈامنٹل رائیٹس کا حصہ بنا دیا گیا ہے۔بجا ہے کہ بچوں کے سکول میں داخلے کی شرح بڑھ رہی ہے مگر کیا طالب علموں کو اک مخصوص چار دیواری میں مخصوص وقت کے لیے قید کر دینے کے عمل کو معیاری تعلیم کہا جا سکتا ہے؟ حکومت نے” مار نہیں پیار” کی پالیسی بنائی اور ہم نے دیکھا کہ آئے روز اساتذہ کو پرچوں کا سامنا رہا مگر حکومت اور اساتذہ کی ملی بھگت نے اس پالیسی کو “اختلاف نہیں تو مر” کہ نہج پر لا کھڑا کیا ہے۔
ہمارا تعلیمی نصاب عصری تقاضوں پر کیا اخلاقی تقاضوں کو بھی پورا کرنے میں بری طرح ناکام رہا ہے۔ہم اسلامیات ،مطالعہ پاکستان ،بائیولوجی اور حتیہ کہ انگریزی سے بھی مخصوص عنوان ختم کر کے محض پر واہ واہ سمیٹنے کے لیے دینیات کے مندرجات تو شامل کر سکتے ہیں مگر اس سے معیار تعلیم کیسے بہتر ہو سکتا ہے اس بارے کوئی جامع پالیسی حکومت کے پاس نہیں ہے۔تو کیا ناقص تعلیمی پالیسوں کے سبب تعلیمی اداروں میں ہونے والے ایسے واقعات میں حکومت وقت کے کردار کو اک سہولت کار کی نظر سے دیکھا نہیں جانا چاہیے؟؟
image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •