بہاول پور: مقتول استاد کے بیٹے کو بھی جان کا خطرہ


بہاولپور پولیس کی طر ف سے گورنمنٹ صادق ایجرٹن کالج کے شعبہ انگریزی کے پروفیسر کے قتل کی تفتیش جاری ہے ۔ مقتول کے بیٹے نے اپنی جان کے خطرے کے خدشے کا اظہار کیا ہے۔ گرفتار ملزم خطیب حسین کو جسمانی ریمانڈ کے لیے انسدادِ دہشت گردی کی عدالت میں پیش کیا گیا جہاں عدالت نے 15 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا ہے۔

گورنمنٹ صادق ایجرٹن کالج بہاولپور کے شعبہ انگریزی کے پروفیسر خالد حمید کے قتل پر ان کے اہل خانہ اور طلبہ غم سے نڈھال ہیں ۔مقتول پروفیسر کے بیٹے ولید خان نے والد کے قتل کے ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچانے کا مطالبہ کیا ہے ۔ولید خان نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ان کی اپنی زندگی بھی خطرے میں ہے ۔

اُدھر ایس ای کالج انتظامیہ کی جانب سے کالج کی چھٹیاں ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ کالج انتظامیہ نے چھٹیاں ختم کر کے کل بروز 22 مارچ سے دوبارہ کالج کھولنے کا نوٹفکیشن جاری کردیا ہے۔ ڈی ایس اے پروفیسر امتیاز لودھی نے کہا ہے کہ تمام ڈپارٹمنٹس کے ہیڈز کو نوٹس بھیج دیا گیا ہے۔ ہم سانحہ کے خوف سے تدریسی عمل کو نہیں روکنا چاہتے۔ انہوں نے کہا کہ تدریسی عمل میں رکاوٹ بننے والے شر پسند عناصر کو پیغام دینا چاہتے ہیں کہ ہم زندہ قوم ہیں۔کالج کے طلبا و طالبات بھی شرپسندعناصر کو مات دینے کے لئے پرجوش ہیں۔

مقتول پروفیسر کے بیٹے ولید خان کی مدعیت میں ملزم خطیب حسین کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز بہاولپور کے گورنمنٹ صادق ایجرٹن کالج میں طالب علم نے چھریوں کے پے درپے وار کرکے اپنے ہی استاد پروفیسر خالد حمید کو قتل کردیا تھا۔ گرفتار ملزم نے پولیس کو بیان دیا تھا کہ وہ کالج کی فئیر ویل تقریب میں لڑکیوں کی شرکت کا قائل نہیں ہے۔ اسی بنا پر اس کی استاد سے تکرار بھی ہوئی تھی۔

ڈی پی او بہاولپور امیر تیمور خان نے بتایا کہ ملزم کو گرفتار کر کے دفعات 302 اور انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ مقدمے کی تفتیش کیلئے ایس پی انویسٹی گیشن سلیم نیازی کی قیادت میں تحقیقاتی ٹیم بنادی گئی۔ امیر تیمور خان کے مطابق مقدمے کی تفتیش کیلئے ڈسٹرکٹ انٹیلیجنس کمیٹی کی خدمات بھی لی جائیں گی۔ ڈی پی او بہاولپور نے مزید کہا کہ مقدمے کے حوالے سے تمام پہلوؤں پر غور کیا جائے گا۔

Facebook Comments HS