ٹیوشن فیس کے نادہندہ وکیل صاحب


گھر پہنچتے پہنچتے آج مجھے کچھ زیادہ ہی دیر ہوگئی تھی۔ عموماً مغرب تک پہنچ جاتا تھا۔ کالج تو چار بجے ختم ہو جاتا تھا مگر اُس کے بعد ٹیوشنیں پڑھانے کے لئے سیدھا وہیں سے چلا جاتا تھا۔ ایک ٹیوشن تو ہیرآباد میں کالج کے نزدیک ہی تھی جہاں میں تین لڑکوں کے ایک گروپ کو کیلکیولس پڑھاتا تھا۔ دوسری ٹیوشن کے لئے مجھے میمن محلّے میں جانا پڑتا تھا جو شہر کے دوسرے کنارے پر تھا۔ اُس گروپ میں چار لڑکے تھے جنہیں کیمسٹری پڑھاتا تھا۔

دونوں ٹیوشنوں سے مل ملا کر سو سوا سو روپیے مہینہ بن جاتے تھے جن میں سے اسّی روپیے اپنی والدہ کو دے دیتا اور باقی اپنے جیب خرچ کے لئے رکھ لیتا تھا۔ سب سے پہلی ٹیوشن مجھے اُس وقت ملی تھی جب میں آٹھویں کلاس میں پڑھتا تھا۔ ایک بچے کو الف بے پے سے شروع کیا تھا اور روزانہ گھنٹہ بھر پڑھاتا جس کے مجھے پانچ روپیے مہینہ ملتے تھے۔ اُس کے بعد سے اب تک بے شمار بچوں کو پڑھا چکا تھا، مگر ایک وکیل صاحب کے بچّے کی ٹیوشن ہمیشہ یاد رہتی ہے۔

ہُوا یوں کہ اُن کے بچے کو انگلش اور میتھ پڑھانا تھا۔ پندرہ روپیے مہینہ طے ہوئے تھے۔ شروع شروع میں تو ٹھیک ٹھاک پیسے ملتے رہے۔ اس کے بعد وکیل صاحب کسی مہینے میں دس روپیے پکڑا دیتے اور باقی پیسے بعد میں ادا کرنے کا وعدہ کر دیتے، کبھی کبھار سرے سے تنخواہ ہی نہ ملتی اور کئی مرتبہ تقاضہ کرنا پڑتا۔ آخر کار میں نے تنگ آکر بچّے کے ہاتھ وکیل صاحب کو پرچہ لکھ کر بھیج دیا کہ میں بعض مجبوریوں کی بناء پر ٹیوشن کو جاری نہ رکھ سکوں گا۔

آخری مہینے کی تنخواہ واجب الادا تھی۔ میں کئی مرتبہ ان کے گھر گیا۔ کبھی اندر سے ان کی بیوی کہہ دیتیں کہ وکیل صاحب گھر پر نہیں ہیں، کبھی وہ خود نکل آتے اور معذرت کرنا شروع کر دیتے، ”یقین کریں ماسٹر صاحب، مجھے بے حد شرمندگی ہے مگر میرے کچھ پیسے ایک نا دہندہ موکّل کے پاس پھنسے ہوئے ہیں جیسے ہی ادائیگی ہوگی، میں سب سے پہلے آپ کا قرض چُکاؤں گا۔ “

”وکیل صاحب، آپ کو تو معلوم ہے کہ میں خود ایک طالبِ علم ہوں، والد بھی کوئی امیر آدمی نہیں ہیں۔ “
”مجھے سب معلوم ہے، کاش میں اِس قابل ہوتا کہ وقت پر آپ کی فیس ادا کرتا رہتا۔ “

مجھے سخت اُلجھن ہورہی تھی۔ جی تو چاہا کہ اُنہیں کھری کھری سُنا دوں، مگر دل ہی دل میں کُڑھتا رہا، ’وکیلوں کی آمدنی کا کیا پوچھنا۔ سالہا سال اپنے موکّلوں کو عدالت کے چکّر لگوا کر اپنا پیٹ بھرتے بھرتے اُنہیں کنگال کر دیتے ہیں اور جیب سے پندرہ روپیے نہیں نکال سکتے۔ ‘

”بہر حال اگر آپ مجھے کوئی یقینی مدت دے سکیں تو آپ کا شکر گزار ہوں گا۔ میں نہیں چاہتا کہ آپ کے بچے کی پڑھائی متأثر ہو، “ میں نے بڑی مشکل سے اپنے غصے پر قابو پاتے ہوئے کہا۔

”دیکھئے میرے موکّل نے وعدہ تو کیا ہے کہ کل صبح آکر میرا حساب بے باق کر دے گا، مگر وعدے تو وہ پہلے بھی کر چکا ہے۔ میں اُس پر زیادہ دباؤ اِس لئے نہیں ڈالتا کہ ممکن ہے وہ واقعی مشکل حالات سے گزر رہا ہو۔ “

”خیر کل میں آپ سے آکر مل لوں گا، “ مجھے یقین ہو گیا تھا کہ وکیل صاحب مجھے چکّر دے رہے ہیں اور میں نے فیصلہ کرلیا کہ میں جھوٹے کو گھر پہنچا کر ہی دم لوں گا۔

اگلے دن دو پہر کے بعد میں سیدھا کورٹ ہاؤس پہنچ گیا۔ زندگی میں پہلی مرتبہ مجھے کورٹ میں قدم رکھنے کا اتّفاق ہوا تھا۔ ہر طرف لوگوں کا اژدہام تھا۔ جب میں سیڑھیوں سے چڑھ کر برآمدے میں پہنچا تو لوگ مستقل اِدھر سے اُدھر آجا رہے تھے، دیواروں پر پان کی پیکوں کے دھبّوں نے تجریدی آرٹ کے نمونے بنا رکھے تھے۔ فضا میں سگرٹ کا دھواں مسلط تھا۔ لوگوں کے شور سے کان پڑی آواز سُنائی نہیں دیتی تھی۔ کئی لوگ میری جانب بڑھے، ”کیوں صاحب، کوئی کام کرانا ہے؟ “ ایک شخص نے پوچھا۔ معلوم ہوتا تھا کہ کام کرانے والوں کی تعداد ضرورت مندوں سے زیادہ تھی۔

”نہیں بھئی، بس ایک صاحب کی تلاش ہے، “ میں نے جواب دیا۔
”آپ مجھے بتائیں تو سہی کہ کن صاحب کی تلاش ہے۔ یہاں کوئی ایسا شخص نہیں جسے میں نہ جانتا ہوں، “

”ایک وکیل صاحب کو ڈھونڈھ رہا ہوں، نام اُن کا حسام الدین ہے۔ “
”ارے تو یوں کہئے نا، حسام الدین وہ بیٹھے ہیں، “ اُس نے لوگوں کی بھیڑ کو چیر کر سامنے اشارہ کیا۔

میں بھونچکّا سا رہ گیا۔ وکیل صاحب سامنے دیوار سے ٹیک لگائے، ایک چھوٹی سی دری بچھائے بیٹھے تھے۔ اُن کے سامنے ایک ڈیسک تھی جس پر اُن کے نام کی تختی لگی ہوئی تھی، ”حسام الدین، اوتھ کمشنر“۔

”وکیل صاحب، آپ یہاں کہاں؟ “ میں نے حیرت سے پوچھا۔

”ارے ماسٹر صاحب، آئیے آئیے! “ وکیل صاحب نے بلا کسی جھجھک کے ہاتھ آگے بڑھا کر دری کا سامنے کا حصہ جھاڑا اور مجھے بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ میں بیٹھ تو گیا مگر میرا تجسّس کسی طرح کم نہ ہوا۔ کہاں وکیل اور کہاں اوتھ کمشنر۔

وکیل صاحب کے سامنے سے گزرنے والے مسلسل رُک کر اُنہیں سلام کرتے۔ بار بار سلامالیکم وکیل صاحب، سلامالیکم وکیل صاحب کی آواز سنائی دیتی اور وہ ہر ایک کے سلام کا جواب دے کر اُس کی خیریت پوچھتے۔ معلوم ہوتا تھا کہ وہاں کوئی ایسا شخص نہیں تھا جو وکیل صاحب کو نہ جانتا ہو۔ میں خاموش بیٹھا انتظار کرتا رہا کہ کب وکیل صاحب کو فرصت ہو اور میں اپنی آمد کا مقصد بیان کروں۔

اِتنے میں ایک لڑکا ادھر سے گزرا اور وکیل صاحب نے اسے آواز دے کر بلا لیا۔ اپنی جیب سے دو آنے نکال کر دیے اور بولے، ”بیٹا، ایک گرم گرم چائے لے آؤ۔ “

”وکیل صاحب، آپ میرے لئے تکلّف نہ کریں۔ “
”ارے ماسٹر صاحب، تکلّف کاہے کا؟ “

وکیل صاحب نے اپنی ڈیسک کا کوَر اُٹھا کر ایک فریم نکالا اور میرے ہاتھ میں دے دیا۔ یہ اُن کی ایل ایل بی کی ڈگری تھی۔ ”یہ میں نے اُن لوگوں کو دکھا نے کے لئے رکھی ہے جو مجھ سے پوچھتے ہیں کہ میں واقعی وکیل ہوں یا صرف وکیل کہلاتا ہوں۔ “

”تو پھر آپ نے وکالت چھوڑ کر یہ اوتھ کمشنری کیوں شروع کردی؟ “ میں نے اُنہیں فریم واپس کرتے ہوئے پوچھا۔

”وکالت شروع ہی کہاں کی تھی؟ بھئی میں نے ایل ایل بی میں ٹاپ کیا تھا، مگر کہیں ملازمت ہی نہیں ملی۔ بہتیرے سینیئر وکیلوں کو آرٹیکل شپ کے لئے درخواست دی مگر ہر انٹرویو میں مار کھا گیا“

”اور اُس کی وجہ؟ “

”بس وجہ یہ کہ میں سیدھا سادہ آدمی ہوں۔ میری دلچسپی تھی فوجداری قانون میں، اور فوجداری عدالت نام ہے جرح کا، اور جرح کے لئے ضرورت ہوتی ہے چرب زبانی کی جو میرے بس کی بات نہیں۔ “ میں اُن کے تجزیے سے بہت متأثر ہوا۔ ایسے لوگ شاذو نادر ہی ملتے ہیں جو خود کو اپنی ناکامیوں کا ذمہ دار ٹھہرائیں۔

”بہر حال تجربہ نہ ہونے کی بناء پر بار سے وکالت کا لائسنس نہ مل سکا لہذا تنگ آکر اوتھ کمشنر کا لائسنس لے لیا۔ اب دو دو چار چار روپیے جمع کرتا ہوں۔ خدا کے فضل سے گزارا ہو ہی جاتا ہے۔ “

”بس گزارا ہوتا رہے، یہی بہت ہے، ورنہ ہمارے گِرد کتنے لوگ ایسے ہیں جنہیں دو وقت کی روٹی بھی ڈھنگ سے میسّر نہیں آتی۔ “

میں اپنی چائے ختم کر چکا تھا۔ ”اب اجازت دیجئے، میں نے آپ کا کافی وقت لے لیا، “ میں چائے کی خالی پیالی ڈیسک پر رکھ کر کھڑا ہو گیا۔

”ارے یاد آیا، آپ کے پیسے آگئے ہیں، “ وکیل صاحب نے اپنی جیب سے پیسے نکالے۔ دو ہی نوٹ تھے، ایک دس روپیے کا اور ایک پانچ روپیے کا۔

”وکیل صاحب، ابھی آپ رکھیں، جب ضرورت ہوگی تو لے لوں گا۔ “

”نہیں ماسٹر صاحب، مجھے معلوم ہے کہ آپ کی ضرورت میری ضرورت سے زیادہ ہے، “ انہوں نے اُٹھ کر وہ پندرہ روپیے زبردستی میری جیب میں ڈال دیے۔

جب میں وکیل صاحب کو خدا حافظ کہہ کر رخصت ہوا تو بے حد شرمندگی محسوس کررہا تھا۔ امیں نے سوچا کہ پلٹ کر اُن سے معافی مانگوں کہ میں اُن کے متعلق کتنی غلط فہمی میں مبتلا تھا، مگر میں کورٹ ہاؤس کی سیڑھیوں سے اتر ہی آیا۔

Facebook Comments HS

Comments are closed.