بلاول کی عالمی طاقتوں سے این آر او کی اپیل!
سوال گندم، جواب چنا، یہ رویہ اب پاکستانی سیاستدانوں کے مزاج کا حصہ بن چکا ہے۔ ن لیگ ہو یا پیپلزپارٹی، نواز شریف ہوں یا آصف علی زرداری، معاملہ آمدن سے زائد اثاثوں کا ہوں یا جعلی بنک اکاؤنٹس کا، جواب دونوں سیاستدانوں کا یہی ہے۔ کہ ہمیں سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ جمہوری اصولوں پر سمجھوتہ نہ کرنے کی سزا دی جا رہی ہے۔ شریف خاندان لندن فلیٹس کی ملکیت کوتو تسلیم کرتا ہے۔ لیکن اگر ان سے یہ پوچھ لیا جائے کہ یہ لندن فلیٹس کس آمدن سے خریدے گئے۔
تو منی ٹریل دینے کی بجائے یا تو آپ کو قطری خط ملے گا، یا پھر صاف الفاظ میں کہ دیا جائے گا۔ کہ اگر ہمارے اثاثے آمدن سے زیادہ ہیں۔ تو تمہیں اس سے کیا۔ جعلی بنک اکاؤنٹس کیس میں زرداری خاندان سے ان کے اخراجات اور اثاثوں کی تفیصل پو چھ لی جائے۔ تو وہ آپ سے یہ سوال کرے گے۔ کہ آپ یہ ثابت کرے کہ ہم نے سرکاری خزانہ لوٹا ہے۔ وہ کبھی یہ نہیں بتائے گے، کہ بلاول ہاؤس کے اخراجات کہاں سے ادا کیے جا تے ہیں۔
وہ کبھی نہیں بتائے گے، کہ فالودہ بیچنے والے، رکشہ چلانے والے اور مزدوری کرنے والے کے اکاؤنٹ میں اربوں روپے کہاں سے منتقل ہوئے۔ کیوں مبینہ طور پر اس پیسے کو زرداری خاندان کے ساتھ جوڑا جاتاہے۔ پاناما کیس ہو یا جعلی بنک اکاؤنٹس کیس شریف اور زرداری خاندان کی حکمت عملی میں کوئی خاص فرق نہیں ہے، پاناماکیس میں سپریم کورٹ سے نا اہلی کے بعد میاں صاحب کا بیانہ یہ تھا کہ مجھے اپنا گھر ٹھیک کرنے (یعنی ڈان لیکس ) کے بیان کے جرم میں سزا دی گئی۔
آج بلاول بھٹو جعلی بنک اکاؤنٹس کیس میں نیب کی تحقیقات کو کالعدم تنظیموں کے خلاف کارروائی کرنے کے مطالبے کی سزا قرار دے رہئے ہیں۔ کل تک میاں صاحب کے اعصاب پر خلائی مخلوق کا بھوت سوار تھا۔ آج بلاول بھٹو کو بھی جی آئی ٹی کی تشکیل میں حساس ادارے کے افراد کی شمولیت پر اعتراضات لاحق ہیں۔ کل تک میاں نواز شریف کو بھی اپنا احتساب عوامی مینڈیٹ کی توہین محسوس ہوتا تھا۔ آج بلاول بھٹو بھی آغا سراج درانی کی شکل میں اپنے احتساب کو پارلیمنٹ کی توہین قراردے رہئے ہیں۔
کل تک میاں نواز شریف کو بھی احتساب صرف سیاستدانوں کا ہی ہوتا دکھائی دیتاتھا۔ آج پیپلزپارٹی کو بھی جیلں اور سزائے صرف سیاستدانوں کے لئے ہی نظر آتی ہیں۔ لیکن کوئی نواز شریف اور زرداری سے یہ نہیں پو چھتا کہ سعودی عرب بھاگنے کے لئے کس نواز شریف نے پرویز مشرف سے این آر او حاصل کیا تھا۔ کس محترمہ بے نظیر بھٹو نے وطن واپسی کے لئے پرویز مشرف سے این آر او حاصل کیا تھا۔ کیا اس ملک کا دانشور طبقہ نواز شریف سے یہ پوچھنے کی جسارت کرے گا، کہ پرویز مشرف کو ملک سے باہر جانے کی اجازت کس نے دی تھی۔
کیا کوئی آصف علی زرداری سے یہ پوچھے گا، کہ پرویز مشرف کو گارڈ آف آنر کس نے دیا تھا۔ کیا کوئی آج نواز شریف سے پو چھے گا کہ نیب کو نیشنل بلیک میلنگ بیورو کا طعنہ دینے والوں کی اپنی نیب نے سیف الرحمان کی قیادت میں بے نظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کے ساتھ کیسا سلوک کیا تھا۔ کیا کوئی دانشورآج آصف زرداری سے پو چھے گا کہ نیب کو پو لیٹکل انجیئرنگ کا طعنہ دینے والوں نے موجودہ چیئرمین نیب کا تقرر خود کیاتھا۔
کیا کوئی نواز شریف سے پو چھے گا کہ آئین سے آرٹیکل 62 اور 63 کو نکالنے کی مخالفت کس نے کی تھی۔ کیا کوئی آصف زرداری سے پو چھے گا کہ نواز شریف کو دہرتی پر ناسور کس نے کہاں تھا۔ پاکستان میں ایک بڑا طبقہ یہ سمجھتا ہے کہ آج بلاول بھٹو زرداری انگریزی زبان میں کالعدم تنظیموں کے خلاف قومی اسمبلی میں تقریر کرکے عالمی طاقتوں کو اپنی وفاداری کا یقین دلا رہئے ہیں۔
بلاول عالمی طاقتوں کویہ پیغام پہنچانے کی کوشش کر رہئے کہ وہ پاکستان میں دہشتگردی کے حوالے سے مغربی ایجنڈے کو نافذ کرنے کے لئے تیار ہیں۔ لہذا انھیں جعلی بنک اکاؤنٹس سے نکالا جائے۔ نواز شریف کو بھی یہ غلط فہمی تھی کہ ان کی نا اہلی پرعوام سڑکوں پر نکل آئے گی۔ مگر ان کا جی ٹی روڈ مارچ ناکام ہو گیا۔ آج پیپلزپارٹی کو بھی یہ غلط فہمی تھی۔ کہ نیب اسلام آباد میں زرداری اور بلاول کی پیشی کے موقع پر اظہار یکجہتی کے لئے کارکنوں کی بڑی تعداد پہنچے گی۔ مگر پیپلزپارٹی کی یہ غلط فہمی بھی دور ہو گئی۔ پیپلزپارٹی نے اپنے ناکام شو کو کامیاب بنانے کے لئے پولیس سے ہاتھاپائی کرنے کی کوشش کی۔
بلاول کئی دن سے اپنی پریس کانفرنس میں حکومت کے تین وزرائی پرکالعدم تنظیموں سے رابطوں کا الزام لگا کر استعفوں کا مطالبہ کر رہئے ہیں۔ مگر کوئی دانشور بلاول سے یہ نہیں پو چھ رہا ہے۔ کہ لیاری گینگ وار کا سربراہ عزیر بلوچ کون تھا۔ عزیر بلوچ کا تعلق کس جماعت سے تھا۔ یہ پیپلزامن کمیٹی کس بلا کا نام تھا۔ دہشت گردوں کے خلاف جے آئی ٹی بنانے کا مطالبہ کرنے والے بلاول قوم کو یہ بتانا پسند کرے گے کہ راؤ انوار کون تھا۔
راؤ انوار کا آصف علی زرداری سے کیا تعلق تھا۔ کس نے جعلی پولیس مقابلوں کے انکاؤنٹر اسپیشلسٹ راؤ انوار کو محکمہ سندھ پولیس میں ترقیاں دیں تھی۔ اپنے آپ کو وفاق کی جماعت کہلانے والی پیپلزپارٹی اپنے خلاف مقدمات راولپنڈی منتقل ہونے پر احتجاج کر رہی ہے۔ کیا کوئی شخص بلاول سے پو چھے گا کہ اقتدار لینے کے لئے انھیں راولپنڈی یا اسلام آباد جانے میں کیوں کوئی اعتراض نہیں ہوتا۔ کیا پیپلزپارٹی کو سندھ کے علاوہ کسی بھی صوبے کی عدالت پر اعتماد نہیں ہے۔
آمروں پر تنقید کرنے والوں کو یہ ضرور یاد رکھنا چاہیے کہ ایوب خان کی گود میں ذوالفقارعلی بھٹو کا جنم ہوا۔ ضیائی الحق کی گود میں میاں نواز شریف کا سیاسی جنم ہوا۔ وزیر اعظم عمران خان کا سندھ میں کامیاب جلسہ پیپلزپارٹی کے لئے خطرے کی گھنٹیا بجا رہا ہے۔ کراچی کے چند ہسپتالوں کا کنٹرول عدالتی حکم پر وفاقی حکومت کو ملنے پر پیپلزپارٹی 18 ترمیم پر حملے کا ڈھول پیٹ رہی ہے۔ شاید پیپلزپارٹی یہ محسوس کر رہی ہے کہ کپتان ان کے سیاسی قلعے پر تحریک انصاف کا پرچم لہرانے کی تیاریوں میں ہے۔
عمران خان کی جانب سے بار بار این آر او نہ دینے کے اعلان نے پیپلزپارٹی کو یہ یقین دلا دیا ہے۔ کہ تحریک انصاف کے دور حکومت میں فرینڈلی اپوزیشن نہیں چلے گی۔ عمران خان اور نواز شریف میں بڑا فرق ہے۔ اسی فرق کو سمجھتے ہوئے سنجرانی ماڈل کی کامیابی کے باوجود پیپلزپارٹی یہ جان چکی ہے کہ آئس کریم اپوزیشن بننے سے بچت نہیں ہوگی۔ کپتان شہباز شریف نہیں ہے کہ جو بھاٹی گیٹ پر گھسیٹنے اور زرداری کا پیٹ پھڑکر لوٹی ہوئی دولت واپس لانے کی ایکٹنگ کرے گا۔
بلکے وہ آخری دم تک مبینہ کرپٹ سیاستدانوں کا پیچھا کرے گا۔ لیکن عمران خان سے بڑھ کر اصل امتحان نیب کاہے۔ جس کی کمزور پراسیکیوشن مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کی طاقت بنتی جا رہی ہے۔ بلاول اب شہباز شریف کی طرح مزاحمتی سیاستدان بننے کی ایکٹنگ کرتے ہوئے حبیب جالب کے اشعار ٹویٹ کرر ہئے ہیں۔ میری بلاول سے گزارش ہے کہ اگلی نیب پیشی پر وہ جالب کا یہ شعر بھی ٹویٹ کرے۔ جو پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن کی مبینہ کرپشن کی عکاسی کرتا ہے۔
ہر بلاول ہے دیس کا مقروض
پاؤں ننگے ہیں بے نظیروں کے


