اسٹیبلیشمنٹ کے مقابلے میں مسلم لیگی ورکرز کی اصل ذمہ داری

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

الیکشن 2018 کے بعد سے مسلسل اسٹیبلیشمنٹ نے قائد محترم میاں محمد نواز شریف سے بار بار ڈیل اور ڈھیل کے لئے رابطہ کیا لیکن قائد محترم کے صاف انکار کے بعد اسٹیبلیشمنٹ اس وقت ڈبل گیم کھیل رہی ہے۔

اک طرف پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر میاں محمد شہباز شریف اور حمزہ شہباز شریف کو سہولیات دے کر کارکنان کو یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ خدانخواستہ میاں محمد شہباز شریف اور حمزہ شہباز شریف قائد محترم میاں محمد نواز شریف سے بالا بالا حکومت سے کوئی ڈیل یا ڈھیل کر چکے ہیں یا کسی این آر او کے متلاشی ہیں۔

دوسری طرف اسٹیبلیشمنٹ نے بلاول زرداری بھٹو کو ٹاسک دیا ہوا ہے کہ وہ پاکستان بالخصوص پنجاب میں اپنی ساکھ بہتر بنائیں جس کے تحت اک خاص وقت پر میاں محمد نواز شریف سے بلاول زرداری بھٹو کی ملاقات کروائی گئی اس ملاقات سے جہاں اسٹیبلیشمنٹ یہ باور کرانے میں کامیاب ہو گئی کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن آپس میں ماضی قریب، حال اور مستقبل میں نورا کشتی کھیل رہے ہیں وہیں مسلم لیگی ورکرز اور پنجاب کی عوام کے دلوں میں بلاول کے لئے سافٹ کارنر پیدا کرنے میں کامیاب ہونے کی کوشش کر رہی ہے۔

اسی تناظر میں بلاول، نواز ملاقات کے فوری بعد اسٹیبلیشمنٹ نے یہ پتا پھینکا کہ ”23 مارچ، قائد کے ساتھ“ اس کے پیچھے اک طرف ان کے وہی مقاصد تھے جو اس سے پہلے مشرف اور دیگر قوتیں نواز، شہباز اختلاف پیدا کرنے کی کوشش کرتی رہیں ہیں تو دوسری طرف چٹان کی طرح مضبوط پاکستان مسلم لیگ ن کے منتخب نمائندگان میں فارورڈ بلاک بنانے کی کوشش کرنے کی ناکام سازش پنہاں ہے، اسی لئے اب یہ ہم کارکنان کی ذمہ داری ہے کہ ہم اسٹیبلیشمنٹ کی سازش کو بھی بے نقاب کریں اور قائد، قیادت اور منتخب نمائندگان کے شانہ بشانہ کھڑے نظر آئیں، ورنہ ہمارا دشمن تو چاہتا ہی ہے کہ وہ ہمیں تقسیم کرکے مارے اور پاکستان بالخصوص پنجاب میں ہمارا متبادل پیش کر سکے۔

اسی سلسلہ کی اک کڑی کے تحت بلاول اور زرداری کے کیسز کراچی سے راولپنڈی منتقل کیے گئے اور جان بوجھ کر ان کی عدالتوں میں پیشی کو ہوا دی جا رہی ہے اور ان کے کارکنان کا مقابلہ ہماری قیادت اور منتخب اراکین سے کیا جا رہا ہے اور ہم کارکنان جانے انجانے میں اسٹیبلیشمنٹ کے آلہ کار بنتے ہوئے یہ بات کر رہے ہیں کہ خدانخواستہ ہماری قیادت اور منتخب اراکین نا اہل ہیں جو اپنے قائد کی رہائی کے لئے جدوجہد نہیں کر رہے۔

جبکہ اصل حقیقت یہ ہے کہ پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد سمیت، قیادت، منتخب اراکین اور مخلص کارکنان کی جدوجہد ملک میں آئین پاکستان کی اصل حالت میں بحالی، ووٹ کو عزت دو اور نظریہ کی جدوجہد ہے اس عظیم جدوجہد کو کسی جماعت کی قیادت کی کرپشن کا دفاع کرتے کارکنان سے جوڑنا نہ صرف قائد محترم میاں محمد نواز شریف کی توہین ہے بلکہ اس نظریہ کی بھی توہیں ہے جس کے دفاع کے لئے ہم سب کے دلوں کی دھڑکن قائد محترم میاں محمد نواز شریف جیل کاٹ رہے ہیں اور یاد رکھیں اسی نظریہ کی خاطر قائد اعظم رحمتہ اللہ علیہ، لیاقت علی خان شہید اور مادر ملت فاطمہ جناح کے علاوہ ذوالفقار علی بھٹو، بینظیر بھٹو شہید نے جان کی قربانی دی۔

اس لیے میری پاکستان مسلم لیگ ن کے مخلص کارکنان سے درخواست ہے کہ وہ اسٹیبلیشمنٹ کی کسی ایسی سازش کا حصہ نہ بنیں جس کے تحت قیادت، منتخب نمائندگان اور کارکنان میں تقسیم پیدا ہو، یہ قیادت کی پالیسیوں اور منتخب نمائندگان کی عوام میں موجودگی کی وجہ سے ہی ممکن ہوا کہ ”سلیکٹیڈ الیکشن“ میں بھی ہم نے اک کروڑ سے زائد ووٹ حاصل کیے۔ اس لیے قائد، قیادت اور پارٹی سے والہانہ محبت کا صرف اور صرف اک ہی طریقہ ہے کہ ہم قیادت کی طرف سے دی جانے والی ہدایات پر عمل کریں اور پارٹی کو تقسیم ہونے سے بچائیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •