انتہا پسندی اور ہمارا مستقبل
نیوزی لینڈ کی دو مساجد میں جس سفاکیت اور حیوانیت سے معصوم، امن پسند اور بے گناہ لوگوں کو جس طرح قتل کیا گیا اس کی جتنی مذمت کی جائے وہ کم ہے۔ یہ درندگی کرنے والا ایک سفید فام دہشت گرد ہے۔ نیوزی لینڈ کی وزیراعظم نے اس موقع پر مسلمانوں کا اس طرح ساتھ دیا جس کی مثال تاریخ میں کہیں نہیں ملتی، ناصرف شلوار قمیض پہن کے ان سے ہمدردی کا اظہار کیا بلکہ پارلیمٹ کے اندر قرآن پاک کی تلاوت کروا کے بین المذاہب ہم آہنگی کی خوبصورت مثال پیش کی۔
اپنے دل پہ ہاتھ رکھ کے بتائیں اگر خدانخواستہ ایسا پاکستان میں ہوا ہوتا اور پاکستان کا وزیراعظم ایسا کرتا تو کیا اب تک وہ یہودی ایجنٹ، مودی کا یار اور واجب القتل نہ ہو چکا ہوتا؟ اب ہم اپنے وطن عزیز کی مثال لے لیتے ہیں چند دن قبل فتح جنگ کے علاقے میں دو ڈاکٹرز کو موت کی گھاٹ اتار دیا گیا ابھی یہ زخم بھرے ہی نہیں تھے کہ بہاولپور کے علاقے میں ایک طالب علم نے اپنے ہی استاد کو مار دیا۔ یہ دو واقعات ہی آئینہ دکھانے کے لیے کافی ہیں جب کہ ہماری تاریخ مشال خان، سلمان تاثیر اور آسیہ بی بی جیسے کیسز سے بھری پڑی ہے۔
ہمارے ملک میں ایسا کیوں ہوتا ہے اس کی کئی وجوہات ہیں جن میں سے ایک انتہا پسندی ہے۔ یہ ناسور ہمارے معاشرے میں کینسر کی طرح پھیل چکا ہے۔ اب وقت آ چکا ہے کہ اس ناسور سے چھٹکارا پایا جائے اس کے لیے کئی عملی اقدامات کرنے ضروری ہیں کچھ حکومتی سطح پر تو کچھ انفرادی طور پر۔ حکومتی سطح پر اس کے لیے چند اقدامات کیے جا رہے ہیں جن میں کالعدم تنظیموں پر پابندی وغیرہ شامل ہے۔ کالعدم تنظیمیں بہت ہی حساس معاملہ ہے ان تنظیموں کی بدولت پاکستان پر ہمیشہ یہی الزام عائد ہوتا رہا کہ ہماری سرزمین کو ایسی تنظیمیں دنیا بھر میں دہشت گردی کے لیے استعمال کرتی ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ پاکستان کو گرے لسٹ میں ڈال دیا گیا ہے اور ان تنظیموں کی معاونت کرنے کے الزام میں بلیک لسٹ ہونے کے بادل سر پر منڈلا رہے ہیں۔ ماضی کے برعکس اس دفعہ حکومت کو اس معاملے کا مکمل حل سوچنا ہوگا۔ صرف ایسی تنظیموں پر پابندی لگا دینا یا ان کے اہم سربراہوں کو نظر بند کر دینا آنکھیں بند کر لینے کے مترادف ہے اور اب کی بار ڈر ہے کہ آنکھیں بند کرنے سے بلی سارے کبوتر کھا ہی نہ جائے۔ عالمی سطح پر ہمارے موقف کو تسلیم نہ کرنا اسی سلسے کی ایک کڑی ہے حالانکہ ہم نے پچھلی ایک دھائی میں 75 ہزار سے زیادہ قیمتی جانوں کی قربانی دی ہے۔ اب ہمارا ہمالیہ کی بلندی والا دوست ملک چائینہ بھی یہی مطالبہ کر رہا ہے کہ ان تنظیموں سے چھٹکارا حاصل کیا جائے۔
اب ان تنظیموں سے چھٹکارے کے لیے سب کو قتل تو نہیں کیا جاسکتا۔ ظاہری سی بات ہے کہ ایسی تنظیموں کو قومی دھارے میں لایا جائے۔ قومی دھارے میں لانے کے لیے ان سے مذاکرات کیے جائیں۔ مذاکرات کی ہی بدولت برطانیہ نے آئریش ریبلکن آرمی کے سیاسی فرنٹ ”شن فین“ کو قومی دھارے میں لیا۔ پاکستان کو بھی ایسے ہی مذکرات کرنے چاہیے۔ ایسی شدت پسند تنظیموں کو قومی دھارے میں لانے کے لیے سیاسی و عسکریت قیادت میں اتفاق رائے قائم کرنا بہت ضروری ہے۔
موجودہ حکومت کے لیے یہ بہت آسان ہے کیوں اب حکومت اور عسکریت قیادت دونوں ایک ہی پیج پر نظر آرہے ہیں۔ اس کے علاوہ حکومت کو چاہیے کہ اب مدارس کی نگرانی کرے ایسے تمام مدارس جو انتہاپسندی پھیلا رہے ہیں ان کا فوری خاتمہ کیا جائے ایسے تمام علماء کرام جن کی بدولت پاکستان میں بد امنی اور انتہاپسندی عروج پر پہنچ رہی ہے ان کو ملک بدر کیا جائے ان سے قیمتی گاڑیاں اور جائیدادیں واپس لی جائیں وہ تمام علماء کرام جن کا ذریعہ معاش بھی کوئی نہیں لیکن وہ کروڑوں کی جائیداد کے مالک ہیں ان کو نیب اور ایف بی آر کے حوالے کیا جانا چاہیے۔ ان کا بھی احتساب ہونا چاہیے۔
مساجد اب حکومت کی مرضی سے قائم ہونی چاہئیں ان میں اعلی تعلیم یافتہ سکالرز تعینات ہوں جو پبلک سروس کمیشن کا امتحان پاس کر کے سلیکٹ ہوں۔ ان کو 17 سکیل اور اچھی مراعات دی جائیں اور مدارس کا سلیبس بھی ریاست اپنی مرضی کا رکھے۔ درس گاہوں میں انتہاپسندی کے لیے مناسب اقدامات کیے جائیں اور مختلف عقائد رکھنے والے طالب علموں میں باہمی روابط قائم کیے جائیں تاکہ دوسروں کی رائے کا احترام فروغ پائے۔ جہاد کا حکم صرف حکومت کی مرضی سے ہو اور کسی جماعت میں عسکریت پسندی نہیں ہونی چاہیے۔
یہ تو تھے حکومتی سطح کے اقدامات اب آتے ہیں انفرادی اقدام پر، ہمیں انفرادی طور پر بھی انتہا پسندی سے نجات چاہیے۔ اس سلسے میں ہم اگر چند ضروری کام کر لیں تو کافی حد تک اس سے نجات ممکن ہے۔ اگر ہم بحثیت گھر کے سربراہ کے طور پر دیکھیں تو ہمیں اپنے بچوں پر بہت محنت کرنی ہے، بچے معصوم ہوتے ہیں ان کو تعصب کا نہیں پتہ ہوتا اگر ہم بچپن میں ہی ان کے دل میں سب کا احترام اور سب عقائد کی اہمیت اجاگر کر دیں تو وہ کبھی انتہا پسندی کی طرف نہیں جائیں گے۔ بچوں کو اپنے سے مختلف عقائد کے لوگوں سے ملوایا جائے بات چیت کی عادت ڈالی جائے، دوسروں کی رائے کا احترام کرنا سکھایا جائے تو وہ کبھی تعصب کا شکار نہیں ہوں گے۔
یاد رکھیں یہ تعصب ہی ہے جو ہمارے بچپن میں ہمیں تحفے میں ملتا ہے اور یہ تحفہ دینے والے کوئی اور نہیں ہمارے اپنے ہوتے ہیں پھر جوان ہوکر یہی تعصب ہم سے مشال خان مروا دیتا ہے، ہم سلمان تاثیر کو قتل کردیتے ہیں ڈاکڑز کو صرف مختلف عقائد کی خاطر زندہ جلا دیتے ہیں اور یہ تعصب اور انتہا پسندی کی ہی بدولت ہم طالب علم ہوتے ہوئے قلم کی جگہ چاقو ہاتھ میں اٹھا لیتے ہیں اور اپنے ہی استاد کی گردن کاٹ دیتے ہیں۔


