تاریخ پڑھاؤں یا اپنی جان بچاؤں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میں ایک سرکاری تعلیمی ادارے میں مطالعہ پاکستان کا استاد ہوں۔ مجھے کیا پڑھانا ہے؟ کیسے پڑھانا ہے؟ کس بات پہ کتنا زور دینا ہے؟ یہ اور ان جیسے سوال ہر روز ذہن میں ابھرتے ہیں۔ صبح ہوتے ہی اپنے لیکچر کو ترتیب دیتا ہوں۔ اور ترتیب دینے کے دوران تفکرات کا ایک انبوہ ذہن میں ہوتا ہے۔ یہ کہوں گا تو کسی کی دل شکنی تو نہیں ہو گی۔ وہ کہوں گا تو کون سا طالب علم کیسے ری ایکٹ کرے گا۔ ان سب باتوں کو سوچ کر جاتا ہوں۔ عین موقع پہ ایسے الفاظ ڈھونڈنا پڑتے ہیں جس سے طلبا تک حقائق بھی پہنچ جائیں۔ ادارے کی انتظامیہ کو بھی کوئی شکایت نہ ہو۔ اور اپنا ضمیر بھی مطمئن ہو جائے۔

مثلاً میرا ضمیر مجھے یہ اجازت نہیں دیتا کہ پاکستان کی تاریخ کو محمد بن قاسم کی آمد سے شروع کروں اور چند سلاطین کے قصے سنا کر سر سید اقبال اور جناح تک آن پہنچوں۔ کیونکہ یہ اس خطے کی تاریخ نہیں ہو گی جسے آج کل پاکستان کہتے ہیں۔ پاکستان کی تاریخ وادی سندھ کی تہذیب سے شروع ہوتی ہے۔ یہ تہذیب بابل و نینوا کی تہذیبوں سے بھی قدیم ہے اور ماہرین تو یہاں تک خیال کرتے ہیں کہ میسوپوٹیمیہ میں تہذیب سندھ تہذیب کے ذریعے ہی پہنچی۔ میں اپنے طلبا کو یہ بتانا ضروری سمجھتا ہوں کہ اس خطے کی تہذیب اور ثقافت عربوں کے وارد ہونے سے پہلے بھی بہت ترقی یافتہ تھی۔

مجھے یہ ہرگز برداشت نہیں ہے کہ تاریخ پاکستان کی پڑھائی جائے اور اس میں گوتم بدھ اور مہاویر جین کا ذکر نہ ہو۔ میں اسے ظلم سمجھتا ہوں کہ مطالعہ پاکستان کا ہو اور اس میں بابا گورونانک نہ ہوں۔

میں اہنے طلبا کو یہ بتائے بنا نہیں رہ سکتا کہ جسے پاکستان کی تاریخ سمجھ کر پڑھتے آئے ہو وہ پاکستان کی نہیں بلکہ ان خیالات کی تاریخ ہے جو ہندوستان کے مختلف علاقوں میں مختلف ادوار میں مسلم ثقافت کی الگ پہچان ثابت کرنے کے لیے دیے جاتے رہے۔

مجھے اپنا آپ مجرم دکھائی دے گا اگر میں یہ بتانے لگ جاٶں کہ پاکستان محض اس لیے بنایا گیا کہ ہندو اور مسلمان ہمیشہ سے دو الگ قومیں تھیں اور چونکہ ان میں کچھ بھی مشترک نہ تھا لہذا ان کا ساتھ رہنا ناممکن ہو گیا۔ میں یہ نہیں بھول سکتا کہ مسلم صوفیا اور ہندو بھگت اسلام اور ہندومت کو اتنا قریب لائے کہ رام اور رحیم کا فرق مٹ گیا۔ لاہور کے میاں میر کی درگاہ کا افتتاح بابا گورو نانک کے ہاتھوں ہوا اور چشتی صوفیا نے ویدوں کو بھی الہامی کتابوں کا درجہ دے دیا۔

میرا ضمیر مجھے یہ اجازت نہیں دیتا کہ میں شیخ احمد سر ہندی کی احیائے دین کی تحریک تو پڑھاٶں لیکن سرمد کا ذکر نہ کروں جو ”مجمع البحرین“ لکھ کر ہندو مت اور اسلام میں مشترکات ڈھونڈ رہا تھا۔

اس پوشیدہ تاریخ کو پڑھاتے ہوئے مجھے جان تو کیا کبھی اپنی نوکری کے چلے جانے کا خوف تک نہیں آیا۔

بہاولپور میں ایک طالبِ علم کے ہاتھوں گستاخی کے الزام پر ایک استاد کے قتل ہو جانے کی خبر سنی تو ڈر کی لہر پورے بدن میں دوڑ گئی۔ سوچا کہ ہم نے اصلاح تاریخ کا ٹھیکہ نہیں لے رکھا۔ میں سرمد ہوں نا منصور۔ سچائی جائے بھاڑ میں۔ آرام سے اپنا کام کروں گا اور گھر چلا جاٶں گا۔ مجھے تاریخ کے مضمون اور اپنی جان میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہو تو تاریخ کو ترجیح نہیں دوں گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •