معاشرہ: عمر بہتر برس، ذہنی توازن خراب ہے

دو واقعات ہیں۔ دونوں میں چند دنوں کا فاصلہ ہے۔ دونوں میں کچھ مشترکات ہیں اور کچھ اختلافات۔ ایک واقعہ کراچی کا ہے تو دوسرا رحیم یار خان کا۔ دونوں واقعات میڈیا میں رپورٹ ہوئے اور سوشل میڈیا پر ان کے بارے میں شدید ردِعمل آ رہا ہے۔ پچھلے مہینے کراچی کے علاقے بہادرآباد میں…

Read more

کربلا ایک طاقتور تہذیبی استعارہ بن چکا ہے

مذہب چھوڑنا آسان ہے، مسلک کبھی نہیں چھوٹتا۔ کسی نہ کسی شکل میں قائم رہتا ہے۔

سب کا اپنا اپنا سفر ہے۔ اہم یہ ہے کہ آپ نے سفر شروع کہاں سے کیا ہے۔ وہ ملحدین یا متشکک جنھوں نے ایک کٹر سُنی گھرانے میں آنکھ کھولی، ملحد ہونے کے باوجود کربلا کے واقعے کو غیر جانبداری کی آنکھ سے نہیں دیکھ پاتے۔ اور کربلا پر بات کرتے ہوئے ان کا بنیادی

Read more

لمز کے طلبا اور صنفی تعصب

لاہور یونیورسٹی آف مینیجمنٹ سائنسز ایک بار پھر نیوز فیڈ میں آ گئی۔ لمز کے طلبا میں جنسی ہراسانی کے مسئلہ پر خاصی حساسیت پائی جاتی ہے۔ وہ اس کے بارے میں بات کرنے سے نہیں گھبراتے۔ اسے ادارے کی عزت کا مسئلہ بنا کر قالین کے نیچے نہیں دباتے۔ انگزیزی اخبارات میں یونیورسٹی کے…

Read more

وطن اور حب الوطنی

میرے گاٶں کا ایک قصہ سنیے۔ میں چھٹی جماعت میں پڑھتا تھا۔ میرا ایک ہم جماعت جو ہمیشہ میرے ساتھ والی بوری پہ بیٹھتا تھا ایک دن سکول نہ آیا۔ اگلے دن استاد جی نے پوچھا کہ کل سکول کیوں نہیں آئے تو جواب میں بولا۔ ُمیرے اباجی پردیس گئے تھے اور میں نے بھینسوں کو چارا ڈالنا تھا اس لیے سکول سے چھٹی کرنی پڑی۔ استاد نے تو جو اس کی درگت بنائی وہ اب تک یاد ہے لیکن اسی سے جڑی ایک اور بات جو بھول گئی تھی اور آج یاد آئی وہ یہ تھی کہ جب استاد جی سے مار کھا لینے کے بعد میں نے اپنے دوست سے پوچھا کہ اُس کے ابا جی کہاں گئے تھے تو اس نے جواب دیا کہ ساتھ والے گاٶں میں ہمارے رشتہ داروں کے ہاں فوتیدگی ہو گئی تھی وہاں گئے تھے۔

Read more

تاریخ پڑھاؤں یا اپنی جان بچاؤں؟

میں ایک سرکاری تعلیمی ادارے میں مطالعہ پاکستان کا استاد ہوں۔ مجھے کیا پڑھانا ہے؟ کیسے پڑھانا ہے؟ کس بات پہ کتنا زور دینا ہے؟ یہ اور ان جیسے سوال ہر روز ذہن میں ابھرتے ہیں۔ صبح ہوتے ہی اپنے لیکچر کو ترتیب دیتا ہوں۔ اور ترتیب دینے کے دوران تفکرات کا ایک انبوہ ذہن…

Read more

مشرق کیا ہے، مغرب کیا ہے

عام آدمی کی تو بات ہی کیا ہمارے اہلِ دانش کے ہاں یہ روش عام ہے کہ وہ پوری دنیا کو دو دھڑوں میں منقسم دیکھتے ہیں۔ ایک دھڑا ”مغرب“ ہے تو دوسرا ”مشرق“۔ اُن کے ہاں مغرب کوئی جغرافیائی نہیں بلکہ ایک سیاسی، تہذیبی اور ثقافتی حقیقت ہے۔ مغرب یا ویسٹ کا لفظ آتے ہی سیکولرازم، جمہوریت، فرد کی آزادی ایسے تصورات فرض کر لیے جاتے ہیں۔ اور مشرق کو روحانیت یا مذہبیت کے مترادف مان لیا جاتا ہے۔ کبھی کبھار تو نوبت یہاں تک آن پہنچتی ہے کہ لفظ ”مشرق“ کو اسلام کے متبادل کے طور پہ استعمال کیا جاتا ہے اور اس سے مراد اسلامی تہذیب لے لی جاتی ہے۔ اس پر مستزاد یہ کہ ہر دو دھڑوں کے بارے میں بات ایسے انداز سے کی جاتی ہے کہ گویا ان دو کے درمیان کچھ مشترک نہیں اور اس دنیا میں بسنے والی دیگر تمام اقوام اسی ثنائی نظام کے حوالے سے ہوسکتی ہیں۔ 

Read more