نیوزی لینڈ کے مجرم کو دہشت گرد کہیں یا ذہنی مریض؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نیوزی لینڈ، کرائسسٹ چرچ کے علاقے میں دو مساجد پہ حملے کے بعد سے زیادہ شور اس بات پہ اٹھا کہ حملہ آور کو واضح الفاظ میں دہشت گرد قرار دیا جانا چاہیے۔ کم و بیش ہر شخص نے اس پہ اظہارِ رائے کیا، غم و غصے کا اظہار کیا۔ بلا وجہ لبرل یا مذہبی طبقات پہ الزامات لگائے گئے۔ جب کہ کم و بیش سب ہی مذمت کر رہے تھے۔ ہم یقین کر کے بیٹھے تھے کہ چوں کہ نیوزی لینڈ ایک غیر مسلم ملک ہے اس لیے وہاں حملہ آور کو انتہا پسند یا ذہنی مریض گردانا جائے گا جب کہ بطور مسلم، اکثریت کا یہ مطالبہ تھا کہ اسے دہشت گرد قرار دیا جانا چاہیے۔

اگلے دن یہ سب دیکھ کر میں نے اپنی فیس بک وال پہ یہی سوال پوچھا بھی، کہ چلیے مان لیتے ہیں کہ دہشت گرد کہا جانا چاہیے۔ لیکن کیوں؟ عجیب بات یہ تھی کہ اسلام کے نام پہ ہرجگہ جھگڑنے کو تیار عوام میں سے عموماً نے جواب دینا مناسب نا سمجھا۔ جب کے عورت مارچ سے متعلق ایک نقطہ بھی لگایا جارہا تھا تو ڈھیروں مباحثے کو تیار تھے۔ سوچنے کی بات ہے کہ کیا واقعی ہمیں پتا بھی ہے کہ ایسے حملوں کو دہشت گردی کیوں کہنا چاہیے؟ صرف اس لیے کہ جب حملہ آور مسلمان ہوتا ہے تو اسے دہشت گردی سے منسوب کیا جاتا ہے؟ یعنی ہم پرائمری کلاس کے بچے ہیں کہ کیوں کہ فلاں بھی شور مچا رہا تھا تو اسے بھی سزا دیں صرف مجھے شور مچانے پہ سزا کیوں۔

ہم نے یہ بھی دیکھا کہ مختلف ممالک میں ہونے والے پچھلے عموماً حملوں میں مجرم کو نا صرف پکڑ لیا گیا بلکہ سزا بھی ہوئی۔ پھر کیا فرق پڑتا ہے کہ اسے انتہا پسند کہا جائے، ذہنی مریض یا دہشت گرد؟ یقین مانیے اگر آپ کا موقف اوپر والا ہے کہ کیوں کہ ہمیں بھی یہی کہا جاتا ہے تو یہ بچکانہ موقف ہے۔ ہمیں سمجھنا ہوگا کہ ایسے حملوں میں مجرم کو دہشت گرد قرار دینا یا نا دینا اس سے کہیں زیادہ اہم مسئلہ ہے۔ اور اگر آپ سمجھنا چاہیں تو نیوزی لینڈ کی پرائم منسٹر کی تقریر غور سے سنیے اور حملے کے اگلے دو دن میں ہونے والے اقدامات کا جائزہ لیں۔

مجرمانہ حملوں کی مختلف نوعیت ہوتی ہیں جن کی بنیاد پہ انہیں انتہا پسندی، ذہنی مرض، دہشت گردی یا بغاوت کا نتیجہ قرار دیا جاتا ہے۔ مجرم کو سزا ہر صورت میں ہوتی ہے لیکن عدالت ہر قسم کے حملے کی صورت میں حفاظتی قوانین پہ نظرِ ثانی کرنے اور انہیں بہتر بنانے کی ذمہ دار ہوتی ہے۔ ذہنی مریض بندہ مسلحہ ہو، حملہ بہت خطرناک ہی کیوں نہ ہو یہ انفرادی حملہ ہے وہ بندہ پکڑ لیا گیا مسئلہ ختم۔ قانون ساز ادارے اس کے ذہنی مرض کی بنیاد پی غور کریں گے۔

انتہا پسند شخص ہونے کی صورت میں اس نظریے سے متعلق اداروں پہ توجہ بڑھائی جائے گی اور ان نظریات کی ترویج پہ کنٹرول کیا جائے گا۔ بغاوت کی صورت میں انسانی حقوق کے اصولوں کی بنیاد پہ بغاوت کی وجوہات اور ان کے مطالبات پہ توجہ دی جانی ضروری ہوتی ہے جب کہ جب بات دہشت گردی کی ہو تو مطلب حکومت یہ مان رہی ہے کہ یہ شخص اکیلا ہرگز نہیں، اول تو یہ ایک مکمل نیٹ ورک ہے دوسرا یہ کہ اس نیٹ ورک میں نا صرف بین الاقوامی دہشت گرد تنظیم کے شامل ہونے کے امکان ہیں بلکہ چند اہم طاقتور ممالک کی پشت پناہی کے امکان بھی ہیں۔

اس بنیاد پہ انہیں ناصرف اپنے ملک کے قوانین کو اپ گریڈ کرنے کی ضرورت ہوتی ہے بلکہ بڑے پیمانے پہ مسائل کو دیکھنا ہوتا ہے۔ بار بار ہونے والے حملے ان کو ذہنی مریضوں اور انتہا پسندوں سے جوڑنا، بغاوت کو بھی انتہا پسندی یا دہشت گردی کے کھاتے میں ڈال دینے سے وقتی طور پہ مسئلہ حل ہوتا محسوس ہوتا ہے لیکن کیوں کہ مسئلے کی بنیاد پہ بالکل توجہ نہیں دی گئی ہوتی اس لئے مسئلہ جوں کا توں رہتا ہے اور کچھ عرصے بعد مزید شدت سے نظر آتا ہے۔

مختلف نوعیت کے مجرموں کو ان کی درست حدود کے مطابق سزا دینا اور فوراً اس کی مناسبت سے قوانین میں بہتری لانا بہت ضروری ہے۔ اس تمام تناظر میں یہ مطالبہ کیا جانا ضروری ہے کہ نیوزی لینڈ میں ہونے والے حملے کو انفرادی طور پہ نا لیا جائے اور مختلف ممالک میں کسی بھی حوالے سے مساجد ۔ بلکہ شاید ہر مذہبی عمارت پہ ہونے والے حملوں کو اس سلسلے کی کڑی سمجھ کے قانون سازی کی جائے۔

عالمی مسائل پہ اعتراضات اور رائے دینے یا عالمی سطح پہ اپنا احتجاج رکارڈ کروانے کے لیے صرف اتنی وجہ کافی ہے کہ کیوں کہ ہم پہ بھی یہی الزام لگایا جاتا ہے؟ جیسی بھیڑ چال کے ہم عادی ہوچکے ہیں کچھ بعید نہیں کہ پہلی دو پوسٹس اگر یہ کردی جاتیں کہ اس مجرم کو اسی وقت مار دیا جانا چاہیے تھا تو عوام یہی مطالبہ کرتے نظر آتے کیوں کہ ایسا بھی ہوچکا ہے۔ یہ سوچے بغیر کہ بنیادی بات مجرم کا پکڑے جانا اور صرف ایک بندے کو سزا دینا نہیں ہے بلکہ جرم کی وجوہات کی تحقیقات کرنا اور اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ دوبارہ ایسے واقعات نہ ہوں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ابصار فاطمہ

ابصار فاطمہ پیشے کے اعتبار سے ماہر نفسیات ہیں۔ ان کا تعلق سندھ کے شہر سکھر سے ہے۔ نفسیاتی اور معاشرتی مسائل پہ آرٹیکلز اور کہانیاں لکھتی ہیں۔ ”ینگ ویمن رائٹرز فورم اسلام آباد چیپٹر“ کی کمیٹی اورگنائزر ہیں۔ سوشل میڈیا پہ سائنس کی اردو میں ترویج کے سب سے بڑے پلیٹ فارم ”سائنس کی دنیا“ سےبھی منسلک ہیں۔

absar-fatima has 43 posts and counting.See all posts by absar-fatima