مکمل کالم: چاچا صفدر ہمدانی اور اس کے شاگرد

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  • 288
  •  

وہ 1998 میں برطانیہ میں جلاوطنی کے دوران گمنامی کی موت مرا لیکن ٹھیک 20 سال بعد 20 مارچ 2019 کو اس کی شبہیہ اسلام آباد میں نیب کی عمارت کے سامنے موجود تھی۔ ۔ 60 کی دہائی میں گارڈن کالج کا طالبعلم تھا۔ وہیں سے اس کا نام صفدر ہمدانی سے چاچا صفدر ہمدانی پڑا جو مرتے دم تک اس کی شناخت رہا۔ گارڈن کالج کے بعد اس کا رخ قائد اعظم یونیورسٹی تھا۔ ابتدا میں اس کا زیادہ تعلق سیاست کی بجائے سماج سے تھا رجحان مگر پیپلز پارٹی کی جانب تھا۔ وہ نئے پرانے طالبعلموں کا ”چاچا“ تھا۔ جب بھٹو اقتدار آخری دنوں بحرانوں کے بھنور میں پھنسے تو چاچا صفدر ہمدانی کمر باندھ کر بھٹو کے دفاع میں میدان میں اترا۔

اقتدار کی کشتی بھنور میں ہو تو مسافر کشتی چھوڑ دیتے ہیں۔ روایت یہی ہے مگر یہ روایتوں کا باغی شخص تھا۔ ملک میں جنرل ضیا الحق نے مارشل لا لگا کر اقتدار پر قبضہ کرلیا تو صفدرہمدانی بھٹو خاندان کے قریب ہوگیا۔ کتابوں اور انقلاب کے نعرے سے مسحور آدرشوں کا پیچھا کرتا یہ نوجوان جلد ہی اپنی متحرک شخصیت کے باعث پیپلز پارٹی کے برے دنوں میں ایک اچھی شناخت بن گیا۔ ضیا الحق سے بدلا لینے کے لیے مرتضیٰ بھٹو نے الذوالفقار نامی تنظیم بنائی جس کا مقصد ہر قانونی و غیر قانونی طریقے سے بھٹو کی رہائی تھا۔

اس تنظیم سے وابستہ کراچی یونیورسٹی کے ایک طالبعلم ٹیپو نے کراچی سے پی آئی اے کا طیارہ اغوا کیا اور اسے افغانستان لے گیا۔ اس واقعے کے بعد جنرل ضیا کی حکومت نے پاکستان میں پیپلز پارٹی کے کارکنوں کی پکڑدھکڑ شروع کی تو نوجوان صفدر ہمدانی چپکے سے افغانستان چلا گیا۔ وہاں کچھ عرصہ قیام کے بعد اس نے برطانیہ کا رخ کیا اور پھر لندن کو اپنا مسکن بنا لیا۔

لندن میں ینگ مین کرسچِین ہاسٹل چاچا صفدر ہمدانی کی قیام گاہ بنا۔ ان دنوں نصرت بھٹو اور بے نظیر بھٹو بھی برطانیہ پہنچ چکی تھیں یہاں ان کی چاچا صفدر ہمدانی سے قربت ذاتی دوستی اور تعلق میں بدل گئی۔ لندن میں پاکستان سے سیاسی بنیادوں پر نکلے اکثر کارکن چاچا صفدر ہمدانی کے مہمان ہوتے۔ بے نظیر بھٹو اقتدار میں آئیں تو چاچا صفدر ان سے دور ہوگئے۔ ان کے خیال میں بے نظیر نے ”کمپرومائز“ کرلیا تھا۔ چاچا صفدر جلاوطن ہو کر لندن گئے تھے مگر اب ان کا دل پاکستان سے اچاٹ ہوگیا تھا۔ وہیں مستقل سکونت اختیار کرلی۔

یہ 1996 کی بات ہے کہ سابق سپیکر قومی اسمبلی حاجی نواز کھوکھر نے اپنے نوجوان کھلنڈرے بیٹے مصطفیٰ کو برطانیہ جانے کا حکم دیا اور بتایا کہ اب تعلیم کا سلسلہ وہیں سے شروع ہوگا۔ مصطفیٰ کو بتایا گیا کہ ائیرپورٹ پر اسے ایک شخص ملے گا جو اس کی رہائش اور داخلے کے تمام انتظامات کرئے گا۔ نوجوان لڑکا لندن اترا تو ائیرپورٹ پر ایک ادھیڑ عمر شخص اس کا استقبال کررہاتھا۔ یہ شخص چاچا صفدر تھا۔ وہی چاچا صفدر جو طالبعلم سیاست سے، روپوشی، جلاوطنی اور جلاوطنی میں رہ کر سیاسی تحریکیں چلانے کے فن میں یکتا تھا۔

چا چا صفدر نے نوجوان مصطفیٰ کی آؤ بھگت کی اور سیاسی تربیت کے آغاز میں ”مارکسزم سے بھٹو تک“ کتاب ہاتھ میں تھما دی۔ نوجوان طالبعلم پتہ نہیں کیا ہوتا چاچا صفدر نے اسے مصطفیٰ نواز کھوکھر بنا دیا وہ دو سال تک چاچا صفدر ہمدانی کا مہمان رہا اور ایک مکمل طور منفرد انسان بن گیا۔ 1998 میں چاچا صفدر چل بسا۔ وہ مرا تو بے نظیر بھٹو تعزیت کے لیے راولپنڈی اس کے گھر بھی گئیں۔

وقت کی دھول نے چاچا صفدر کے نام پر مٹی ڈال دی، لوگ اسے بھول گئے۔ اس کا نام لیوا کوئی نہ تھا۔ شادی وادی کی نہیں تھی کہ اولاد ہی والد کا نام زندہ رکھتی۔ سنا ہے اس کے خاندان کے افراد راولپنڈی میں زندگی گزار رہے ہیں۔ مگر اس کا شاگرد مصطفیٰ نواز کھوکھر پیپلز پارٹی کا سینیٹر بن گیا۔

20 مارچ کو میں بھی نیب کے پرانے ہیڈ کوارٹرز کی عمارت کے سامنے موجود تھا۔ وہاں پیپلز پارٹی کے رہنما اور سینٹ میں انسانی حقوق کمیٹی کے سربراہ سینیٹر مصطفیٰ نواز پارٹی کارکنوں کے ہمراہ آئے۔ یہ تمام لوگ آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو زرداری کی نیب پیشی کے موقع پر ان کا استقبال کرنے پہنچے تھے۔ راولپنڈی اور اسلام آباد کے مختلف علاقوں سے پیپلز پارٹی کے نوجوان، ادھیڑ عمر اور عمر رسیدہ جیالے اکٹھے ہورہے تھے۔ یہ تمام لوگ نیب دروازے پر اکٹھے ہوئے تو اچانک اسلام آباد انتظامیہ کے ایک افسر نے ان کارکنوں کی گرفتاری اور لاٹھی چارج کا حکم دے دیا۔

دھکم پیل اور گرفتاریاں شروع ہوئی تو میں نے دیکھا کہ عام طور پر ٹھنڈے مزاج کا نوجوان سینیٹر مصطفیٰ نواز شدید غصے میں آگیا۔ اسے بتایا گیا تھا کہ مختلف ناکوں پر اس کی جماعت کے کارکنوں کو گرفتار کیا جارہا ہے۔ اس کی موجودگی میں گرفتاریاں شروع ہوئیں تو وہ کارکنوں کے ساتھ جاکھڑا ہوا۔ اس نے آواز دی ”احتجاج ہمارا حق ہے“۔ پھر اس نے دیکھا کہ ایک پولیس اہلکار ایک پارٹی ورکر کو گھسیٹ کر لے جارہا ہے۔ مصطفیٰ نواز اس پولیس افسر کی طرف بڑھا اور دھکا دیتے ہوئے اپنے پارٹی کارکن کو چھڑایا۔ یہ اقدام کوئی احسن قدم نہیں تھا۔ مگر اس اقدام نے پارٹی ورکروں کو چارج کردیا۔ ایسے کہ جیسے انہیں کرنٹ لگ گیا ہو۔

انتظامیہ نے حالات کو سمجھتے ہوِئے مزید گرفتاریوں کا سلسلہ روکا تو تھوڑی دیر میں آصف زرداری اور بلاول بھٹو کی گاڑیاں نیب عمارت کے اندر داخل ہوئیں۔ جب تک وہ باہر نہیں نکلے نیب عمارت کے باہر نعرے بازی ہوتی رہی۔ پیپلز پارٹی کے کارکن کسی کو برداشت ہی نہیں کررہے تھے ایسے ہی جذبات میں جیو نیوز کے سینئر کیمرہ مین شیراز گردیزی کو بھی تشدد کا نشانہ بنا دیا گیا۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ پیپلز پارٹی کے کارکن آخری بار سال 2007 میں افتخار چوہدری کی برطرفی کے خلاف اور پھر بے نظیر بھٹو کے لیے گھروں سے نکلے تھے۔ اس کے بعد تو آج تک پیپلز پارٹی کا کارکن سو گیا ہو جیسے۔ عمارت کے باہر حیران کن طور پر پارٹی کارکن یا اللہ یا رسول بے نظیر کا بیٹا بے قصور کے نعرے لگارہے تھے۔

نیب کی تحقیقات تواپنی جگہ چل رہی ہیں۔ ایک طاقتور شخصیت کا اپنے اکثر ملاقاتیوں سے کہنا ہے کہ “آصف زرداری کو کسی صورت نہیں چھوڑا جائے گا” ۔ زرداری کی گرفتاری پکی ہے۔ مگر 20 مارچ کو نیب عمارت کے باہر جسطرح مصطفیٰ نواز اور پیپلز پارٹی کے کارکنوں نے پیپلز پارٹی کے دم توڑتے جسم میں جان ڈالی۔ ہم سمجھ گئے کہ زرداری کی گرفتاری بلاول بھٹو اور پیپلز پارٹی کی مضبوطی کی صورت نکلے گی۔ مجھے پتہ چلا ہے کہ اگر بلاول بھی گرفتارکر لیے گئے تو آصفہ بھٹو بھی میدان سیاست میں عوام کے سامنے ہوگی۔

آصف زرداری اور بلاول وآپس روانہ ہوئے تو بلاول بھٹو نادرا چوک میں اپنی گاڑی کے چھت پر نکل آئے اور خطاب شروع کردیا۔ ہم سب حیران تھے کے ایک نوجوان جس کی ماں ایسے ہی کارکنوں کو دیکھ کر خطاب کے لیے نکلی اور ماردی گئی وہ کس طرح بلاخوف گاڑی سے سرعام نکل کر خطاب کررہا ہے۔

اس سب کے بعد میں دفتر آیا تو یہاں جیو کے ڈائریکٹر نیوز رانا جواد، معروف اینکرو صحافی حامد میر، جیو کے ایگزیکٹو پروڈیوسر اور باکمال شخصیت مدثر سعید، پیپلز پارٹی کی کوریج کرنے والے رپورٹر وقار ستی سب اکٹھے ہوگئے۔ پیشی کے ماحول اور اس حوالے سے مختلف پہلووں پر گپ شپ ہونے لگی تو باتوں باتوں میں مصطفیٰ نواز کا ذکر آگیا۔ سچ یہ ہے کہ مصطفیٰ کے چچا تاجی کھوکھر کا نام جڑواں شہروں میں اچھے حوالوں سے نہیں لیا جاتا مگر مصطفیٰ نواز واقعی ایک منفرد شخص ہے۔ ہماری گفتگو جاری تھی کہ حامد میر بولے، جو بھی ہو آج مصطفیٰ نواز نے ثابت کیا ہے کہ وہ چاچا صفدر ہمدانی کا اصل شاگرد ہے۔

سچ یہ ہے کہ نیب کی پیشی کے موقع پر پیپلز پارٹی کو دوبارہ زندہ کرنے اور کارکنوں کو تحریک دینے میں مصطفیٰ نواز نے بڑا کام کیا ہے۔ اس پر قانون ہاتھ میں لینے کا مقدمہ درج ہوچکا۔ فیصلہ عدالتیں کریں گی۔ مگر اس نوجوان نے اپنے استاد صفدر ہمدانی کی شاگردی کا حق ادا کیا ہے۔

پیپلز پارٹی کے 20 مارچ کے شو کا موازنہ اگر نواز شریف کی جے آئی ٹی کے سامنے پیشی اور مسلم لیگ ن کی احتساب عدالتوں میں حاضری سے لگایا جائے تو فرق صاف پتہ چلتا ہے۔ اس پر مختلف افراد اپنی آرا دے چکے۔ مگر میرے خیال میں دونوں کا فرق دونوں کی قیادتوں کے رویوں کے ساتھ ساتھ چاچا صفدر ہمدانی اور اس کے شاگردوں پر بھی ہے۔ پیپلز پارٹی کے پاس ایسے کئی چاچے اور ان کے شاگرد موجود ہیں مگر ن لیگ کے پاس ایسا کچھ نہیں۔
پیپلز پارٹی اور ن لیگ کو اپنے کارکنوں کا کھویا ہوا اعتماد بحال کرنا ہوگا تاکہ اس ملک میں جمہوری رویوں کی مستقل آبیاری کے لیے چاچا صفدر ہمدانی اور ان کے شاگرد پیدا ہوتے رہیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  • 288
  •  

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں